حمل سے پہلے دُبلا ہونا ضروری ہے

ماں بننے میں ہزاروں مشکلات اورتکالیف سہی لیکن ہرعورت اس کی خواہش رکھتی ہے۔حمل کی ویسے توبہت سی تکالیف ہوتی ہیں لیکن اس میں درپیش ایک سب سے اہم اورعام مسئلہ وزن میں اضافہ ہے جس کی ہرخاتون شکایت کرتی نظرآتی ہے۔جہاں دوران حمل خواتین کوبہت سی مشکلات کاسامنارہتاہے وہیں وزن میں نمایاں اضافہ زچگی کے بعد بھی عورت کے لئے بہت سی مشکلات کھڑی کردیتاہے۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں حمل ٹھہرتے ہی خاتون کودُگنی خوراک کامفت مشورہ گھربیٹھے ہی ملنے لگتاہے۔جس کی وجہ سے ان کاوزن بھی دوگناہوجاتاہے۔یہی وزن آگے جاکران کے لئے دوگنے مسائل بھی کھڑے کردیتاہے۔

توبہترہے کہ مفت مشوروں سے بچیں اورعقل کے ناخن لیں۔جوبھی کھائیں بس صحت بخش کھائیں۔اس کادوگناہوناضروری نہیں ہے۔ضروری ہے توبس یہ کہ وہ غذاآپ کواورآپ کے بچے کوتقویت دے۔طبی لحاظ سے حاملہ خواتین کواضافی وزن سے بچنے کی ہدایت کی جاتی ہے تاکہ بچے کی پیدائش کے دوران ممکنہ پیچیدگیوں سے بچاجاسکے۔یہاں تک کہ آج کل حاملہ ہونے کی خواہش مند خواتین کوبھی( اگروہ وزن کی زیادتی کاشکارہیں تو)پہلے اضافی وزن کم کرنے کامشورہ دیاجاتاہے تاکہ مستقبل میں بچہ محفوظ اورصحت مند ہوسکے۔حاملہ خاتون کاوزن کنٹرول میں رہنادوران حمل ہونے والے امراض سے بچاؤ کی کلید ہے۔


یہ بھی پڑھئے : پریگننسی کے بعد پہلے پیریڈز کیا عام پیریڈز سے مختلف ہوتے ہیں؟

 

انگلینڈ کے رائل کالج اورگائناکالوجسٹ کی ہدایات کے مطابق حاملہ خواتین کو روٹین چیک اپ کے دوران باقاعدگی سے وزن کرانے کی ہدایت کی جاتی ہے تاکہ اضافی وزن کااندازہ لگایاجاسکے۔وہ خواتین جواضافی وزن یاموٹاپے کی حامل ہوتی ہیں انھیں حمل ٹھہرنے سے پہلے اوربعد میں بھی نارمل وزن برقراررکھنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔

یہ بات ہم سب ہی جانتے ہیں کہ اضافی وزن ہرانسان کے لئے تکلیف کاباعث ہے۔ جس کااندازہ وقت پرلگانابے حد ضروری ہے اسی لئے برطانیہ میں ڈاکٹروں کوزچگی کے رائل کالج کی طرف سے سختی سے ہدایات جاری کی جارہی ہیں کہ حاملہ خواتین کاوزن کنٹرول میں رکھاجائے۔ انھیںاس بارے میں مکمل آگاہی فراہم کی جائے کیونکہ حاملہ خاتون کا وزن زیادہ ہونے کی وجہ سے خاتون اورہونے والے بچے میں بھی موٹاپے اورٹائپ ٹوذیابیطس جیسے ا مراض میں اضافہ ہورہاہے۔

یہ کالج سب سے زیادہ موثرطبی اداروں میں سے ایک ہے۔یہ ادارہ 6,000 ڈاکٹروں کی نمائندگی کرتاہے۔جوبچہ کی پیدائش اورخواتین کی صحت میں مہارت رکھتے ہیں۔اس ادارے کے نمائندے نے اس بات پرزوردیاہے کہ اس رہنمائی کامقصد خواتین کوبااختیاربناناہے۔تاکہ وہ حمل سے پہلے خود کواس کے لئے مکمل طورپرتیارکریں ۔اپنی صحت کاخیال کریں کیونکہ اگرماں صحت مند ہوگی توتب ہی بچہ بھی صحت مند ہوگا۔


اس بارے میں جانئے :کس طرح حمل ٹہرایا جائے ؟

 

مطالعہ سے مزیدیہ بھی پتہ چلتاہے کہ جن خواتین کاوزن دوران حمل زیادہ بڑھ جاتاہے توان کے ہونے والے بچوں میں جان لیواامراض اورموٹاپے کے خطرات دوگنے ہوجاتے ہیں۔جیسے جیسے یہ بچے بڑے ہوتے ہیں تووقت کے ساتھ آگے جاکرانھیں ذیابیطس ٹوبھی لاحق ہوسکتی ہے۔

اس ریسرچ کامقصد صرف آپ کویہ بتانااورسمجھاناہے کہ اضافی وزن سے نہ صرف آپ کوبلکہ آپ کے بچے کوبھی کئی پیچیدگیوں کاسامناہوسکتاہے۔ان خطرات میں شریانوں میں خون کاجمنا،ذیابیطس،ہائی بلڈ پریشر اورجان لیوا صورتحال جیسے وضع حمل کے دوران بے ہوشی اورذہنی صحت کے مسائل شامل ہیں۔

اس کے علاوہ تمام خواتین کومشورہ دیاجاتاہے کہ وہ دوران حمل وزن کم کرنے کے لئے کسی بھی قسم کی ڈائٹنگ یاوزن کم کرنے والی ادویات سے دوررہیں۔دوران حمل وزن نارمل رکھنے کامقصد یہ نہیں کہ آپ کھاناپیناچھوڑ دیںیاپھروزن کم کرنے والی کسی بھی قسم کی گولیوں کاانتخاب کریں۔آپ کایہ عمل آپ کے بچے کی صحت کونقصان پہنچاسکتاہے۔ لہٰذاوزن کم کرنے کے لئے اس طرح کے نامناسب طریقوں سے دوررہیں۔

اس کے بجائے صحت مندطریقوں کاانتخاب کریں۔حمل ٹھہرنے کے بعد طرز زندگی میں صحت بخش تبدیلیاں لائیں۔جیسے درست غذاکاانتخاب کریں،ورزش کریں اورخوب پانی پیئیں تاکہ دوران حمل صحت مند وزن کنٹرول اوربرقراررہ سکے۔

اس آرٹیکل کو انگریزی میں پڑھنے کے لئے کلک کریں


مزید جانئے : دوران حمل پیدا ہونے والے 6 مسائل جو خطرہ کی علامت ہیں


loading...
شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...