کیا ڈراؤنی فلم دیکھتے ہوئے آپ کے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں؟ جانئے کیوں

979

انسانی جسم کا نظام کافی پیچیدہ ہے جس کو سمجھنا ہمارے لیے کافی مشکل ہوتا ہے۔درحقیقت اکثر افراد جسم کے دفاعی میکنزم کو مکمل طور پر سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں، جیسے کہ انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ انگڑائی یا جمائی لینے کا در اصل مقصد کیا ہے۔
یہ دفاعی نظام پیدائش کے بعد سےانسان کو تحفظ فراہم کرتا ہے مگر وہ کس طرح جسم کا تحفظ کرتے ہیں؟ جانتے ہیں کہ انسان کے اندر موجود دفاعی نظام کیسا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے ۔

رونگٹے کھڑے ہونا

جب موسم ٹھنڈا ہوتا ہے تو جسم رونگٹے کھڑے کرکے جسم سے حرارت کے اخراج کی شرح کو کم کردیتا ہے، اس طرح  سرد موسم میں گرم رہنا آسان ہوجاتا ہے۔

جب انسان شدید جذباتی کیفیت میں مبتلا ہوتا ہے، انسانی جسم کئی طرح سے رد عمل کا اظہار کرتا ہے جیسے کہ کھال کے نیچے پٹھوں میں برقی حرکت ہونا اور جسم کا ٹھنڈا پڑ جانا۔ دونوں ہی صورتوں میں جسم کے بال کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ ان عوامل سے جسم گرم ہو جاتا ہے ۔ لہٰذا اب کی بار جب بھی کوئی ڈراؤنی فلم دیکھتے ہوئے آپ کے رونگٹے کھڑے ہوں تو اپنے دوستوں سے یہ معلومات ضرور شیئر کیجئے گا ۔

انگڑائی لینا

نیند سے بیدار ہونے اور بلخصوص صبح اٹھنےکے بعد اکثر افراد انگڑائی لیتے ہیں، ایسا کرنے کی وجہ طویل وقت تک لیٹنے رہنے کے بعد خون کی بحالی ہوتا ہے اور مسلز کام کے لیے تیار ہوجاتے ہیں اور آپ کو یہ انگڑائیاں مکمل بیداری کی طرف بھی لے آتی ہیں۔

جمائی لینا

جمائی لینے کے بارے میں متعدد خیالات موجود ہیں کہ لوگ جمائیاں کیوں لیتے ہیں، مگر اس کا بنیادی مقصد دماغ کو بہت زیادہ گرم ہونے سے بچاتا ہے اور دوسری طرف یہ سستی اور نیند کی طلبی کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔

مزیدجانئے : اچھی نیند کے لیے 8منٹ کا یوگا

چھینک

آپ کو چھینک اس وقت آتی ہے جب ناک کی گزرگاہ کسی چیز سے الرجی کا شکار ہو یا پھرکچرابھر گیا ہو، در اصل یہ اس کچرے کو باہر نکالنے کے لیے انسان کے دفاعی نظام کا ایک طریقہ کار ہے ۔

یاداشت کھونا

کئی بار اس وقت لوگ یاداشت سے عارضی طور پر محروم ہوجاتے ہیں جب وہ کسی ناخوشگوار واقعے سے گزرتے ہیں، یہ دماغ کی جانب سے آپ کو ٹراما سے بچانے کے لیے ضروری ہے۔یہ وقتی طور پر تو پریشان کن ہوتی ہے لیکن اگر یہ نہ ہو تو ایک طویل پریشانی کا سامنا ہوسکتا ہے۔

مزید جانئے :ذہنی دباؤ کے انسانی جسم پر اثرات

آنسو

آنسوؤں بہنے کے 2 مقاصد ہوتے ہیں، یہ آنکھوں کو بیرونی اشیاءسے تحفظ فراہم کرتے ہیںاور یہ جذباتی دفاعی ڈھال بھی ثابت ہوتے ہیں۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ انسان اس وقت روتا ہےجب وہ اپ سیٹ ہوتے ہیں تاکہ خود کو جذباتی تکلیف سے بچاسکیں یا پھر کسی جسمانی تکلیف کا سامنا کرتے ہوئےروتا ہے ۔

ہاتھوں میں جھریاں

نم ماحول میں انسانی ہاتھوں پر جھریاں نمودار ہوجاتی ہیں، جس کی وجہ یہ جسم پھسلنے والے ماحول سے مطابقت پیدا کرسکے، یہ جھریاں ہاتھوں کی گرفت بہتر کرتی ہے اور گرنے یا چوٹ لگنے کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔

 مزید جانئے : اٹھارہ سال کے بعد قد میں اضافہ چاہتے ہیں ؟

تبصرے
Loading...