پولی ڈپسیا یا پیاس کی شدت:ذیابیطس میں زیادہ پیاس کیوں لگتی؟

1,113

پیاس کی شدت شوگر کی ابتدائی علامات میں سے ایک علامت ہے۔پولی ڈپسیا اور شوگر کے مرض میں کیا تعلق ہے اس کی وضاحت یہ آرٹیکل کرے گا ۔
ذیابیطس کے مرض کی بہت سے علامات ہوتی ہیں جن میں سے ایک پولی ڈپسیا(پیاس کی شدت) بھی ہے۔پولی ڈپسیا شوگر کے مرض کی ابتدائی علامات میں سے ایک علامت ہے۔شوگر کے مریض کو دن کے کسی بھی حصے میں شدید پیاس لگتی ہے اور اس صورت میں مریض دن بھر میں 6لیٹر سے زیادہ پانی پی سکتا ہے۔
یہ جاننا خاصہ مشکل ہوتا ہے کہ شدید پیاس کی وجہ شوگر ہی ہے یا کوئی اورمسئلہ تو نہیں ۔اس کے لئے کچھ باتیں خاص طور پر توجہ طلب ہیں :
۔ اگر آپ کو ہر وقت پیاس محسوس ہو۔
۔اگر آپ کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ پیاس لگنے لگے۔

۔پانی پینے کے باوجود آپ کی پیاس نہ بجھے۔

پولی ڈپسیا کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں ؟

شوگر کے مرض کے علاوہ پیاس کی شدت کی اور بھی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں ۔
۔جسم سے پانی نکلنے کے(ورزش کے بعد)زیادہ پانی نہ پینا۔
۔بہت زیادہ پسینہ آنا۔
۔کافی یا چائے کا زیادہ استعمال
۔پولی یوریا یعنی وہ بیماری جس میں بہت زیادہ پیشاب آتا ہے۔پولی یوریا کی وجہ سے بھی پولی ڈپسیا کی شکایت ہوسکتی ہے۔کیونکہ جسم سے زیادہ مقدار میں پانی خارج ہونے کی صورت میں جسم کو اتنے ہی پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔24گھنٹوں میں 2.5لیٹر یا اس سے زیادہ پیشاب آنا پولی یوریا کی علامت ہے۔
۔کچھ دوائوں خاص طور پر پیشاب آور دوائوں کا استعمال بھی زیادہ پیشاب آنے کی وجہ بنتا ہے۔
۔زیادہ مقدار میں وٹامن ڈی کا استعمال۔
۔زیادہ مقدار میں نمک کا استعمال۔
۔پریشانی کی صورت میں زیادہ پانی پی لینا۔
۔ڈائریا
۔الٹی
۔خون ضائع ہوجانا۔
۔کسی انفیکشن یا جلنے کی وجہ سے جسم کا پانی ختم ہو جانا۔
۔گردے فیل ہوجانا۔
۔سائیکو جینک پولی ڈپسیا(ایک ذہنی مسئلہ)جس میں مریض زیادہ پانی پیتا ہے۔
عام طور پر پیاس کی شدت اس وقت محسوس ہوتی ہے جب جسم کو پانی کی کمی دور کرنا ہوتی ہے۔چاہے یہ کمی زیادہ پسینہ آنے سے ہو یا پیشاب کی زیادتی کی وجہ سے۔


ٹھنڈا پانی پینے کے آٹھ نقصانات


پولی ڈپسیا اور شوگر:

زیادہ تر پیاس کی شدت ذیابیطس کی وجہ سے محسوس ہوتی ہے۔جب خون میں شکر کی زیادہ مقدار جسم میں جذب نہیں ہو پاتی تو باوجود پانی پینے کے پیاس لگتی رہتی ہے۔جسم کو توانائی بخشنے کے لئے گلوکوز کا جذب ہونا ضروری ہے اور جب ایسا نہیں ہوتا تو جسم توانائی حاصل کرنے کے فیٹس کو استعمال کرنے لگتا ہے۔جس کے نتیجے میں کیٹونزبننے لگتے ہیں جو خون میں تیزابیت پیدا کرتے ہیںیہ صورت حال جسم کے لئے مہلک ثابت ہوتیب ہے ۔اس کی علامات میںکمزوری،جلد کا خشک ہوجانا،الٹی ،متلی،پیٹ میں درد،حواس ختم ہو جانایا کومے میں چلے جانا شامل ہے۔ان صورتوں میں فوری طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے۔
شوگر میں جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے کیونکہ گردے پانی کو محفوظ نہیں رکھ پاتے ۔لہٰذا پانی پینے کے باوجود آپ کو پیاس محسوس ہوتی رہتی ہے۔

پولی ڈپسیا کی علامت:

پولی ڈپسیا کی سب سے بڑی پہلی علامت شدید پیاس ہوتی ہے جو باوجود پانی پینے کے کم نہیں ہوتی۔

دوسری علامات میں :

۔پیشاب زیادہ آنا(ایک دن میں 5 لیٹریا اس سے زیادہ)
۔منہ مستقل خشک رہنا ۔
ایسے مریض جنھیں شوگر کا مرض ہوتا ہے ان میں پیاس کی شدت کے ساتھ یہ علامات بھی ظاہر ہوتی ہیں ۔
۔شدید بھوک لگنا۔
۔وزن میں نا سمجھ آنے والی کمی
۔تھکن یا سستی
۔دھندلا نظر آنا
۔انفیکشن یا زخم ہو جانا
۔انفیکشن یا زخم کا صحیح نہ ہونا

پولی ڈپسیا کی وجہ سے پیدا ہونے والے خطرات

پولی ڈپسیا میں پیاس کی شدت کی وجہ سے پانی زیادہ پیا جاتا ہے جس سے واٹر پوائزننگ کا خطرہ ہوتا ہے۔زیادہ پانی پینے سے خون میں نمک کی مقدار ہلکی ہوتی جاتی ہے جس کی وجہ سے سر درد ،جسم میں درد اور سستی کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں ۔

بہ ظاہر یہ علامت اتنی خطرناک نہیں لگتی لیکن پھر بھی صحت کے لئے بہت نقصان دہ ہے ۔اگر آپ شوگر کے مریض ہیں اور آپ کو بہت زیادہ پیاس لگتی ہے تو اپنے معالج سے جلد سے جلدرابطہ کریں۔


ہر وقت پیاس کا احساس خطرے کی علامت میں سے ہے


شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...