Moms – ایچ ٹی وی اردو https://htv.com.pk/ur Fri, 11 Nov 2022 13:57:50 +0000 en-US hourly 1 https://htv.com.pk/ur/wp-content/uploads/2017/10/cropped-logo-2-32x32.png Moms – ایچ ٹی وی اردو https://htv.com.pk/ur 32 32 کیا انگوٹھا چوسنے کی عادت دانتوں پر اثر انداز ہوتی ہے؟ https://htv.com.pk/ur/moms/thumb-sucking Thu, 21 Feb 2019 06:00:45 +0000 https://htv.com.pk/ur/?p=27970 thumb sucking

بچپن میں اکثر بچوں کو انگوٹھا چوسنے کی عادت پڑ جاتی ہے۔بعض بچے صرف انگوٹھا ہی نہیں بلکہ انگلیاں ،ہاتھ، چوسنی اور دوسری چیزیں بھی چوسنے کے عادی ہو جاتے ہیں ۔ان چیزوں کو چوسنے سے بچے کو ایک طرح کا تحفظ محسوس ہوتا ہے۔انگوٹھا یا ہاتھ چوسنے سے بچے کو بالکل ایسا ہی سکون […]

The post کیا انگوٹھا چوسنے کی عادت دانتوں پر اثر انداز ہوتی ہے؟ appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
thumb sucking

بچپن میں اکثر بچوں کو انگوٹھا چوسنے کی عادت پڑ جاتی ہے۔بعض بچے صرف انگوٹھا ہی نہیں بلکہ انگلیاں ،ہاتھ، چوسنی اور دوسری چیزیں بھی چوسنے کے عادی ہو جاتے ہیں ۔ان چیزوں کو چوسنے سے بچے کو ایک طرح کا تحفظ محسوس ہوتا ہے۔انگوٹھا یا ہاتھ چوسنے سے بچے کو بالکل ایسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کہ دودھ پینے سے ملتا ہے۔
عام طور پر یہ عادت دانت نکالنے کی عمر میں ہوتی ہے جوختم نہ ہو تو 12 سے 13سال کی عمر تک بھی ر ہ سکتی ہے۔زیادہ تر بچے بڑے ہونے کے ساتھ اس عادت کو ترک کر دیتے ہیں لیکن کچھ کے لئے یہ ایسی عادت بن جاتی ہے جس کے بغیر وہ کوئی کام بھی نہیں کر پاتے ۔

کیا انگوٹھا چوسنے کی عادت بچے کے دانتوں پر اثر انداز ہوگی؟

thumb sucking
یہ سوال اکثر والدین کرتے ہیں ۔جس کا ماہرین ہاں میں جواب دیتے ہیں ۔جب بچہ انگوٹھا یا چسنی چوستا ہے تو اس کے ہونٹوں کی بناوٹ،مسلزکی پوزیشن اور تالو کی ہڈی کی بناوٹ میں تبدیلی آجاتی ہے۔ان میں سب سے زیادہ دانت متاثر ہوتے ہیں ۔کیونکہ بڑھتے ہوئے دانت انگوٹھے کے دبائو کے لحاظ سے اپنی پوزیشن تبدیل کرلیتے ہیں۔انگوٹھا چوسنے سے دانتوں پر دباؤں پڑتا ہے جو ان کی قدرتی نشوونما پر اثر انداز ہوتا ہے۔اس طرح دانت کی پوزیشن انگوٹھے کے دبائو کی وجہ سے باہر کی طرف یعنی ہونٹوں کی سمت ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اوپر اور نیچے کے جبڑے بھی متاثر ہوتے ہیں ۔اس کا اثر سر کی ہڈی پر بھی پڑتا ہے۔بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ بچے کو دانتوں اور سر دونوں کے مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔یہی نہیں بلکہ اگرانگوٹھا چوسنے کی عادت ترک نہ کی جائے تو یہ بچے پر ذہنی اور نفسیاتی اثر بھی ڈالتی ہے۔بچہ خود کو محفوظ کرنے کے لئے انگوٹھا چوستا ہے اس لئے اگر وہ انگوٹھا نہ چوسے تو خود کو غیر محفوظ محسوس کرتا ہے۔اس طرح یہ عادت اس کے نارمل انداز میں کام کرنے پر اثر انداز ہوتی ہے۔
انگوٹھا چوسنے کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل اورتھو ڈونٹک  Orthodonticsٹریٹمنٹ سے ہی صحیح ہو پاتے ہیں۔جسے عام زبان میں بریسس کہا جاتا ہے۔اورتھوڈونٹک ٹریٹمنٹ اس لئے ضروری ہوتا ہے کیونکہ دانتوں کی بے ترتیبی کو صحیح کرنے کا اس کے علاوہ کوئی اور علاج نہیں ہے۔

مزید جانئے  :6پھل کھائیں دانتوں کی صحت یقینی بنائیں

بچے کی انگوٹھا چوسنے کی عادت کیسے چھڑا سکتے ہیں ؟

۔انگوٹھا یا کوئی اور چیز نہ چوسنے پر بچے کی تعریف کریں۔
۔عام طور پربچے اس وقت انگوٹھا چوستے ہیں جب وہ سکون چاہتے ہیں یا خود کوغیر محفوظ محسوس کرتے ہیں ۔اس کی یہ پریشانی دور کرنے پر توجہ دیں اور اسے سکون مہیا کریں۔
۔بچہ اگر بڑا ہے تو اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے اسے بھی شامل کیجئے۔
۔اس سلسلے میں آپ کا ڈینٹسٹ بھی آپ کے بچے کو بتا سکتا ہے کہ اگر وہ انگوٹھا چوسنا نہیں چھوڑے گا تو اس کے دانتوں کے ساتھ کیا ہوگا؟
اگر اوپر دیئے ہوئے مشورے کارآمد ثابت نہ ہوں توبچے کو اس کی عادت یاد دلانے کے لئے رات کو اس کے انگوٹھے پر پٹی باندھ دیں ۔آپ کا ڈینٹسٹ یا بچوں کا ڈاکٹر انگوٹھے پر لگانے کے لئے کوئی کڑوی دوا بھی تجویز کرسکتا ہے ۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ والدین ہونیکی حیثیت سے ،جتنا جلدی ممکن ہوسکے بچے کی یہ عادت چھڑوائیں۔اگر اس کی یہ عادت باقی رہے تو گھریلو ٹوٹکوں پر عمل کرتے رہنے کے بجائے ماہرین سے رجوع کریں۔

اس آرٹیکل کو انگریزی میں پڑھنے کے لئے کلک کریں

ترجمہ  : سعدیہ اویس 


The post کیا انگوٹھا چوسنے کی عادت دانتوں پر اثر انداز ہوتی ہے؟ appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
نومولود کے لئے ویکسینیشن کیوں ضروری ہے ؟ https://htv.com.pk/ur/moms/vaccination Wed, 20 Feb 2019 06:00:46 +0000 https://htv.com.pk/ur/?p=29263 vaccination

ویکسینیشنVaccination بچوں کی حفاظت اوربیماریوں سے لڑنے میں اہم کرداراداکرتی ہے ۔ویکسینیشن سے بچے کی قوت مدافعت میں اضافہ ہوتاہے جس کے باعث وہ بیماریوں سے لڑنے کے قابل ہوجاتاہے۔بچے کی بہترنگہداشت اورمدافعتی نظام کوبہتربنانے کے لئے ویکسینیشن ضروری ہے تاکہ جومختلف بیماریاں اس پرحملہ آورہوتی ہیں وہ ان سے لڑنے کے قابل ہوسکے۔حفاظتی ٹیکوں […]

The post نومولود کے لئے ویکسینیشن کیوں ضروری ہے ؟ appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
vaccination

ویکسینیشنVaccination بچوں کی حفاظت اوربیماریوں سے لڑنے میں اہم کرداراداکرتی ہے ۔ویکسینیشن سے بچے کی قوت مدافعت میں اضافہ ہوتاہے جس کے باعث وہ بیماریوں سے لڑنے کے قابل ہوجاتاہے۔بچے کی بہترنگہداشت اورمدافعتی نظام کوبہتربنانے کے لئے ویکسینیشن ضروری ہے تاکہ جومختلف بیماریاں اس پرحملہ آورہوتی ہیں وہ ان سے لڑنے کے قابل ہوسکے۔حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کامقصد ملک بھرمیں بچوں کوان مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھناہے جن کے خلاف حفاظتی ٹیکے یاقطرے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔یہ حفاظتی ٹیکے ایسے خطرناک امراض سے بچاؤ یاخاتمے کے لئے ہیں جوبچوں کوخاص طورپرمتاثرکرتی ہیں اوران کی اموات اورعمربھرکی معذوری کاباعث بنتی ہیں۔


امیونائزیشن کے مطابق چھ سال کی عمرتک کے بچوں کوویکسینیشن کی ضرورت ہوتی ہے۔دوسال میں بچوں کوچوبیس ویکسینیشن چودہ بیماریوںسے بچانے کیلئے لگائی جاتی ہیں۔تمام بچوں کوچودہ قسم کی بیماریوں کے خلاف حفاظتی تحفظ کے لئے دوسال کی عمرتک ویکسینیشن ضرورلگوائیں۔نوزائیدہ بچے کی ویکسین اس لئے ضروری ہوتی ہے کیونکہ بچہ پیدائش سے پہلے ماں کے پیٹ میں محفوظ ہوتاہے۔وہاں کوئی بھی بیماری اورانفیکشن داخل نہیں ہوپاتے جس کی وجہ سے وہ ماحول بچہ کے لئے محفوظ ثابت ہوتاہے۔ماں کامدافعتی نظام خودماں کوصحت مند رکھنے اوربچے کی حفاظت میں اہم کرداراداکرتاہے۔نوزائیدہ بچے میں وائرس سے لڑنے کی صلاحیت نہیں ہوتی جب وہ پیداہوتاہے تو اس کامدافعتی نظام آہستہ آہستہ جراثیم اوربیماریوں سے لڑنے کے قابل ہوتاہے۔وقت کے ساتھ بچے کامدافعتی نظام مضبوط ہوتاہے لیکن اس سے پہلے بچے کوتحفظ کی ضرورت ہوتی ہے۔

ویکسین کیسے کام کرتی ہے؟

ویکسین کم مقدارمیں بچے کے جسم میں منتقل کی جاتی ہے۔جس سے بچے کامدافعتی نظام بیماری سے لڑنے اوراسے مکمل طورپرختم کرناسیکھتاہے۔لہٰذااگریہ ڈوز اپناکام نہیں کرتی تو بچہ بیماری سے لڑنہیںپاتاجس کی وجہ سے بیماری حملہ آورہوتی ہے لیکن ویکسینیشن کی وجہ سے اس بیماری سے لڑنے کے لئے شدید کوشش نہیں کرنی پڑتی۔چھوٹے بچوں کوویکسینیشن اس لئے دی جاتی ہے کیونکہ ان کی عمربڑھنے کے ساتھ ساتھ ان کے مدافعتی نظام میں بھی ترقی ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ خطرناک بیماریوں سے لڑنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔بچے کی پیدائش کے بعد سے ہرعمرکے بچے کے لئے مختلف اقسام کی ڈوز دی جاتی ہیں۔مثال کے طورپر ہیپاٹائیٹس بی ویکسین پیدائش کے فوری بعد دی جاتی ہے۔

کیاتمام ویکسین اہم ہیں؟

vaccination

عام طورپریہ سوال کیاجاتاہے کہ کیاتمام ویکسین یاپھرچندہی ضروری ہیں؟ان میں سے بعض ویکسین بچے کو تین سے چاردفعہ باربارلگائی جاتی ہیں۔باربارایک ہی ویکسین اس وجہ سے لگائی جاتی ہیں کیونکہ عمرکے کسی بھی حصے میں بیماری حملہ آورہوسکتی ہے۔جب آپ کے بچے کامدافعتی نظام ایک باربیماری سے لڑناسیکھ جاتاہے تو وہ آگے جاکربیماریوں سے لڑنے کے قابل ہوجاتاہے۔ویکسینیشن کی ایک اوراہم وجہ یہ ہے کہ اس سے نہ صرف آپ کابچہ صحت مند اورمحفوظ رہتاہے بلکہ اطراف کے بچے بھی محفوظ رہتے ہیں۔بہت سے امراض ایسے ہیں جودوسروں سے تعلقات کی نسبت ہوجاتے ہیں۔


تصدیق و نظر ثانی : ڈاکٹر ندا ساجد


ڈاکٹرز کے مطابق:
۱۔ویکسین صرف ڈاکٹرکے مشورے اور ہدایت کے مطابق دی جاتی ہے۔
۲۔دوران حمل،بچے کاکمزورمدافعتی نظام ،ٹیومر،کیموتھراپی اورایچ آئی وی پوزیٹوکے مریضوں کو ویکسین نہیں دی جاتی۔
۳۔وہ بچے جنھیں انڈوں سے الرجی اوردمہ کی شکایت ہوانھیں ویکسینیشن سے پہلے ڈاکٹرسے چیک اپ ضروری ہے۔
۴۔پچھلے اڑتالیس گھنٹوں میں اگرمریض نے انفلوئنزااینٹی وائرل میڈیسن لی ہوں تو ویکسین کامشورہ نہیں دیاجاتاہے۔
۵۔اگربچے میں تپ دق کی تشخیص کی گئی ہوتوویکسین میں تاخیرکی جاتی ہے۔
۶۔پچھلے ویکسینیشن سے اگرشدید الرجی یاردعمل جیسے غشی کے دورے جاری رہیں تواحتیاط کی جاتی ہے۔
۷۔ویکسینیشن کے سائیڈ افیکٹس میں غشی کے دورے اورشدید الرجی شامل ہیںایسی صورتحال میں ڈاکٹرسے مشورہ کریں۔ضمنی اثرات کی صورت میںدرد،سرخی اورٹیکہ کی جگہ پرچنددن کے لئے ورم ہوتاہے جوازخود رفع ہوجاتاہے۔اس کے لئے دواکی ضرورت نہیں ہوتی اس سے گھبرائیں نہیں اورحفاظتی ٹیکوں کادورانیہ پوراکریں۔

The post نومولود کے لئے ویکسینیشن کیوں ضروری ہے ؟ appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
پریگننسی کے بعد پہلے پیریڈز کیا عام پیریڈز سے مختلف ہوتے ہیں؟ https://htv.com.pk/ur/pregnancy/first-period-after-pregnancy Sun, 06 Jan 2019 11:44:41 +0000 https://htv.com.pk/ur/?p=28952 period after pregnancy

 حیض کا خون ہارمونل تبدیلیوں کے سبب رحم کی جھلی کے ٹوٹنے کے نتیجے میں آتا ہے۔ جب عورت حاملہ نہیں ہوتی تو رحم کے استرکو موٹا ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی اسی لئے اضافی رحم کی جھلی کے ٹوٹنے کے نتیجے میں ماہانہ بلیڈنگ ہوتی ہے دوسری صورت میں جب عورت حاملہ ہوتی ہے […]

The post پریگننسی کے بعد پہلے پیریڈز کیا عام پیریڈز سے مختلف ہوتے ہیں؟ appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
period after pregnancy

 حیض کا خون ہارمونل تبدیلیوں کے سبب رحم کی جھلی کے ٹوٹنے کے نتیجے میں آتا ہے۔ جب عورت حاملہ نہیں ہوتی تو رحم کے استرکو موٹا ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی اسی لئے اضافی رحم کی جھلی کے ٹوٹنے کے نتیجے میں ماہانہ بلیڈنگ ہوتی ہے

دوسری صورت میں جب عورت حاملہ ہوتی ہے تو رحم کی جھلی موٹی ہوجاتی ہے تاکہ بچہ دانی میں بچے کی افزائش اورحفاظت بہترطریقے سے ہوسکے۔اسی وجہ سے جھلی ٹوٹتی نہیں ہے اور دوران حمل بلیڈنگ نہیں ہوتی۔

نو ماہ بعد جب بچے کی پیدائش ہوجاتی ہے تو ہارمون واپس معمول کے مطابق کام کرنے لگتے ہیں۔ رحم بھی اپنے اصلی سائز اورشیپ میں واپس آجاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں بہت زیادہ اضافی ٹشوز خارج ہوتے ہیں یہ عمل حمل کے بعد پہلے حیض کے موقع پردیکھنے میں آتا ہے۔

اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ڈلیوری نارمل ہوئی ہو یا آپریشن کے ذریعے، بچے کی پیدائش کے بعد ہونے والی بلیڈنگ ایک نارمل اور قدرتی طورپرظہور ہونے والی جسمانی صورتحال ہے۔ یہ بلیڈنگ نفاس کہلاتی ہے جو بچہ کی پیدائش کے بعد 2-6 ہفتوں تک جاری رہتی ہے۔پہلے 3-10 دنوں میں خون کا بہاؤ زیادہ ہوتا ہے پھرآہستہ آہستہ کم ہوتا جاتا ہے۔

پہلی ماہواری کا ڈر

نئی ماؤں کے لئے بچہ کی پیدائش کے بعد پہلی بارہونے والاحیض اکثرمشکل وقت ہوتاہے۔خون کابہاؤتیز ہوتاہے اوراکثرخون کے ٹکڑے بھی ساتھ آتے ہیں۔جوگہرے رنگ اورجیلی کی مانند ہوتے ہیں۔جب رحم سے خون اورٹشوز کا اخراج ہوتا ہے تو اکثرخواتین کو شدید درد ہوتا ہے۔ جسمانی مشقت کے سبب بلیڈنگ میں اضافہ ہوسکتا ہے۔اسی لئے مائیں بچے کی پیدائش کے بعد جب اپنے روزمرہ معمولات کے کام شروع کریں توانھیں اضافی بلیڈنگ کاسامنا ہوسکتا ہے۔ان تمام علامات کے سبب اکثرخواتین بچے کی پیدائش کے بعد ڈپریشن کا شکار ہوجاتی ہیں۔

نئی ماؤں کے لئے ضروری معلومات

اچھے ڈاکٹرز پہلی دفعہ ماں بننے والی خواتین کوپہلے سے ہی ان تمام علامات کے بارے میں آگاہ کردیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ انھیں معلوم ہوتاہے کہ بچہ کی پیدائش کے بعد انھیں کن حالات کا سامنا ہوگا۔ تاہم اس کے باوجود انفیکشن جیسے منفی واقعات ہوسکتے ہیں۔لہٰذانئی ماؤں کوہدایت دی جاتی ہے کہ اگروہ ایسی کوئی بھی علامت جیسے کپکپی طاری ہونا یا شدید پیٹ درد کی شکایت محسوس کریں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

حیض کی مدت ہرخاتون میں الگ ہوسکتی ہے لیکن اس میں ماہانہ حیض کی طرح ہی دیکھ بھال کرنی چاہئے۔یہ بات یاد رکھیں کہ پیدائش کے چھ ہفتوں تک ٹیمپنس کا استعمال نہ کریں اس سے انفیکشن کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں۔

حمل کی طرح بچہ کی پیدائش کے بعد بلیڈنگ کا ہونا بالکل عام جسمانی عمل ہے۔ اگرچہ پہلی مرتبہ ماں بننے والی خواتین اکثران علامات سے پریشان ہوجاتی ہیں۔ وقت کے ساتھ تمام حالات بہتر ہوجاتے ہیں۔عام طور سے خواتین ویسے بھی بچے کی پیدائش کے بعد معاملات کوبہتر طور پرسنبھالنے کے قابل ہوجاتی ہیں۔

ترجمہ:سائرہ شاہد

The post پریگننسی کے بعد پہلے پیریڈز کیا عام پیریڈز سے مختلف ہوتے ہیں؟ appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
مانع حمل کے پانچ طریقے اور دیگر مفید معلومات https://htv.com.pk/ur/pregnancy/pregnancy-contraception Sat, 05 Jan 2019 11:03:24 +0000 https://htv.com.pk/ur/?p=28863

مانع حمل (contraception)ایک ایسا موضوع ہے جس پر عموماًپاکستان میں لوگ بات کرنے سے کتراتے ہیں ۔ ـ’ہائے بیٹی اس بارے میں تو سوچنا بھی نہیں !‘ ، ’جو لڑکیاں انھیں استعمال کرتی ہیں وہ ماں نہیں بن پاتیں ‘، ’میری نند کی دیورانی کی دوست کی بیٹی کے ہاں تو سات سال تک کوئی اولاد […]

The post مانع حمل کے پانچ طریقے اور دیگر مفید معلومات appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>

مانع حمل (contraception)ایک ایسا موضوع ہے جس پر عموماًپاکستان میں لوگ بات کرنے سے کتراتے ہیں ۔ ـ’ہائے بیٹی اس بارے میں تو سوچنا بھی نہیں !‘ ، ’جو لڑکیاں انھیں استعمال کرتی ہیں وہ ماں نہیں بن پاتیں ‘، ’میری نند کی دیورانی کی دوست کی بیٹی کے ہاں تو سات سال تک کوئی اولاد نہیں ہو پائی ، یہ ہی دوائیں تو لیتی تھی وہ‘

جو خواتین مانعل حمل کی دوائیں استعمال کرنا چاہتی ہیں، انہیں ا کثر اس طرح کی باتیں سننا پڑتی ہیں

کیا یہ سب سچ ہے ؟آپ کو جان کر حیرت ہوگی کے یہ بات بلکل غلط بات ہے ۔ اگر آپ کی شادی ہونے والی ہے یا آپ بچے کی پیدائش میں وقفہ چاہتے ہیں تو یہ آرٹیکل آپ ہی کے لئے ہے

مانع حمل سے کیا مراد ہے ؟

مانع حمل (contraception)ایک ایسا طریقہ ہے جس کے ذریعے محفوظ مباشرت اور حمل نہ ٹہرنے کو یقینی بنایا جا سکتا ہے ۔ اگر جماع (intercourse)سے پہلے ان ادویات کا استعمال کیا جائے تو حمل ٹھہرنے(pregnancy) کا رسک کافی حد تک کم ہوجاتا ہے ۔

contraception

مانع حمل کے طریقے

برتھ کنٹرول کے پانچ طریقے ہیں جو بلکل محفوظ ہیں اور ساتھ ہی استعمال کرنے میں بھی آسان ہیں ۔ البتہ یہ طریقے بھی 98فی صد تک ہی کارآمد ہوتے ہیں ۔ کسی بھی قسم کے مانع حمل کے طریقے سے حمل کو مکمل طور پر روکا نہیں جا سکتا ۔

مزید جانئے :مخصوص ایام کے مسائل کاآسان حل

کنڈومز

یہ سب سے محفوظ اور عام استعمال ہونے والا مانع حمل کا طریقہ ہے ۔ کنڈومز کے استعمال سے عورت اور مرد دونوں کی صحت پر کوئی منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے ۔

برتھ کنٹرول امپلانٹ

یہ ایک باریک سی راڈ ہوتی ہے جسے عورت کے بازو میں نصب کردیا جاتا ہے۔ اس کے کام کرنے کا انحصار ہارمونز کے ریلیز ہونے پر ہوتا ہے ۔ اس کے ذریعے چار سال تک مباشرت کے باوجود حمل ہونے سے روکا جا سکتا ہے ۔ جب بچے کی خواہش ہو تو راڈ نکلوالیں۔

مانع حمل ادویات

یہ طریقہ 91فی صد کارآمد ہے ۔ یہ ہارمونز ہوتے ہیں جو خواتین کے ماہواری سائیکل پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ زیادہ عرصے تک ان ادویات کے استعمال سے دیگر صحت کے مسائل کا خطرہ ہو سکتا ہے۔

ڈایافرام(پردہ شکم)

ڈایا فرام ایک کپ ہوتا ہے جسے جماع سے قبل ویجائنہ میں ڈال دیا جاتا ہے ۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اسپرم بچہ دانی میں داخل ہوکر انڈوں کے ساتھ نہ جڑ سکے ۔ اس طریقے سے بھی حمل کو ہونے سے روکا جا سکتا ہے ۔

آئی یو ڈی

یہ ایک ٹی شیپ کاآلہ ہوتا ہے جسے رحم کے اندر داخل کیا جاتا ہے ۔نرس پلاسٹک یا تانبے سے بنے اس آلہ کو، جسے کوائل بھی کہتے ہیں ، رحم میں ڈال دیتی ہے ۔ یہ طریقہ کار 99فی صد کارآمد ہے ۔ اسے پانچ سے 10سال تک رحم میں رکھا جا سکتا ہے ۔ جب بھی عورت پریگننسی چاہے تو اسے باآسانی نکلوا سکتی ہے ۔ چونکہ اس میں کوئی ہارمونز شامل نہیں ہوتے اس لئے اس سے ماہواری سائیکل پر بھی کوئی اثر نہیں پڑتا ۔ یہ ہی وجہ ہےکہ یہ بلکل محفوظ عمل ہے ۔

آپ کو جو طریقہ اچھا لگے آپ وہ استعمال کر سکتے ہیں ۔

مزید جانئے:تولیدی نظام سے متعلق ان باتوں کا جاننا نہایت ضروری

ڈاکٹرز نوٹ: کوئی بھی مانع حمل کا طریقہ اپناتے ہوئے کسی اچھی گائنی کالوجوسٹ سے مشورہ کرنا ضروری ہے ۔ ہر عمل ہر عورت کے لئے کام کرے ، ایسا ضروری نہیں ۔ اس لئے وہ ہی طریقہ اپنائیں جسے آپ کا ڈاکٹر تجویز کرے ۔ محض اشتہارات یا لوگوں کی بات سن کر فیصلہ نہ لیں کیونکہ عورت کی صحت کا خیال بے حد ضروری ہے ۔

انگریزی میں پڑھنے کے لئے کلک کریں

ریفرنس :

•https//www.telegraph.co.uk/women/sex/16-types-birth-control-need-know/
• https://www.plannedparenthood.org/learn/birth-control

 


تصیح و تصدیق : ڈاکٹر ندا


 

The post مانع حمل کے پانچ طریقے اور دیگر مفید معلومات appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>