ماں کے دودھ کا کوئی نعم البدل نہیں

1,227

ماں قدرت کاانمول تحفہ ہے ،ممتا کی ٹھنڈی چھاؤں زندگی کے نشیب و فراز گزارنے میں مددگار ہوتی ہے۔ قدرت کی حکمت عملی ہے کہ اس نے پہلی غذا کے لیے بہترین بندوبست ماں کے دودھ کی صورت میں کیا ہے۔ ماں کا دودھ بچے کی بہترین نشوونما کا ضامن ہے یہ بچے کی ذہنی نشوونما میں بھی اہم کردار ادا کرتاہے۔ بچے کو دودھ پلاتے ہوئے ماں ایک فطری سکون محسوس کرتی ہے۔ ماں کا دودھ بچے کے لیے کافی ہے یا نہیں؟ یہ بات تقریباً تمام ماؤں کے لیے پریشانی کا باعث ہوتی ہے۔ اگر ڈاکٹر کی رائے کے مطابق بچے کا وزن عمر کے لحاظ سے ٹھیک ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ماں کا دودھ بچے کے لیے کافی ہے اگرماں محسوس کررہی ہے کہ اس کا دودھ بچے کے لیے ناکافی ہے تو اس کاپہلا حل یہ ہے کہ ماں دودھ پلانے کے وقفے کا دورانیہ کم کردے، کیوں کہ بچہ جتنا زیادہ دودھ پیے گا دودھ بننے کاعمل اتنا ہی تیزی سے ہوگا۔ بعض مائیں یہ سوچ کر ایک آدھ وقت کا دودھ نہیں پلاتیں کہ اگلی خوراک میں بچے کو زیادہ دودھ ملے گا اوریوں اس کا پیٹ بھرجائے گا یہ طرزعمل فائدہ مند ثابت نہیں ہوتا۔ دودھ پلانے والی مائیں مقررہ وقت پرکھاناکھانے کامعمول بنانے کے ساتھ ضروری صحت بخش اجزا سے بھرپورغذا کا استعمال شروع کردیں تو بہ آسانی اپنے بچے کی غذائی ضروریات پوری کرسکتی ہیں۔ ملازمت کرنے والی مائیں اپنے شیرخوار بچوں کو دودھ نہیں پلا پاتیں۔ ایسی صورت حال میں بچے کو ڈبے کا دودھ پلانا ناگزیرہوجاتا ہے یہ پہلو بھی غور طلب ہے کہ اوسطاً ساڑھے چار سو سے پانچ سو روپے قیمت کا ایک دودھ کا ڈبہ بچے کی پانچ دن کی غذائی ضرورت پوری کرتا ہے۔ اس طرح ہر مہینے ایک خاص بجٹ دودھ کے لیے رکھنا پڑتا ہے۔ ہمارے ہاں دفاتر یا فیکٹریوں میں بچوں کے لیے ڈے کیئر بے بی سینٹرز کا بھی رواج نہیں۔

ملازمت کرنے والی خواتین کی اکثریت میٹرنٹی لیو اور بچے کی پیدائش کے بعد چھٹیوں کی سہولت سے محروم ہیں ان خواتین کو مجبوراً بچے کو اوپر کا دودھ دینا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ عوامی مقامات پربھی بچوں کو دودھ پلانے کے لیے کوئی جگہ نہیں مل پاتی اور شیرخوار بچوں والی مائیں پریشانی کاسامناکرتی ہیں۔ اس لیے کوشش ہونی چاہیے کہ گھر سے نکلنے سے پہلے ہی بچے کا پیٹ بھر دیا جائے۔دودھ پلانے والی ماؤں کوہرممکن کوشش کرنی چاہیے کہ وہ شیرخواری کی عمر میں بچے کو اپنا دودھ لازمی پلائیں۔ لیکن کسی طبی یا معاشی عذر کے باعث اگر اس کے لیے یہ ممکن نہ ہوتو متبادل غذا کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اوپر کا دودھ دینا یقیناًایک محنت طلب کام ہے کیوں کہ اس میں بوتل کی صفائی کا خیال اور صاف اور ابلے ہوئے پانی کا استعمال نہایت ضروری ہے دوسری صورت میں بچے کو دست اور اسہال کی شکایت ہوسکتی ہے، دودھ کی تیاری کے دوران صفائی کا خیال نہ رکھنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اس کے علاوہ بچہ جب ایک مرتبہ اوپرکا دودھ پیتا ہے تو پینے میں آسانی کی وجہ سے زیادہ دودھ مانگتاہے۔ ڈبے کے دودھ میں لیکٹوزکی مقدار زیادہ ہوتی ہے اس لیے بچے کو اس کا ذائقہ زیادہ خوشگوارلگتاہے لیکن یاد رہے کہ بچے کو زیادہ دودھ دینا بھی نقصان دہ ثابت ہوسکتاہے۔بعض مائیں دودھ بناتے ہوئے ڈبے پر موجود ہدایت نہیں پڑھتیں، دودھ پتلا نظر آنے کی صورت میں خشک دودھ کی مقدار میں اضافہ کردیتی ہیں یہ طرزعمل بچے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے ۔ اس طرح بچہ بیمار بھی ہوسکتا ہے اس کے برعکس خشک دودھ کی مقدار کم کرنا بھی خطرناک ہے۔ اس کا براہ راست اثربچے کی صحت پرپڑتا ہے۔ اس لیے دودھ کی تیاری کے وقت صحیح تناسب کاخیال رکھنا نہایت ضروری ہے۔ اپنے ڈاکٹرسے مشورہ ضرورکرناچاہیے کہ کون سا دودھ بچے کے لیے زیادہ بہترہے۔
ماں کادودھ ایک خاص درجہ حرارت رکھتاہے یہ بھی قدرت کی جانب سے ننھے منے کے لیے کیے گئے خصوصی انتظام کاحصہ ہے۔ اس لیے بچے کو بوتل کا دودھ دیتے ہوئے بھی معتدل درجہ حرارت کا خیال رکھنا چاہیے۔ ماہرین کی رائے میں بڑھتی عمر کے ساتھ بچے کو دودھ کے ساتھ نرم اور باآسانی ہضم ہونے والی غذا بھی دینی چاہیے۔ بہت سی ماؤں کو شکایت ہوتی ہے کہ ان کا بچہ روتا بہت ہے۔ اس بے وجہ رونے کی ایک وجہ بچے کا پیٹ نہ بھرنابھی ہوسکتاہے اس لیے چھ ماہ کی عمر کے بعد جس طرح بچے کی عمر بڑھتی جائے اسے ٹھوس غذ ا دینا شروع کردیں۔ ابتداً اس میں مشکل پیش آئے گی بچہ ابکائیاں کرے گا، قے کرے گا لیکن مستقل مزاجی سے یہ مشق جاری رکھیں بچہ غذا کا عادی ہوجائے گا۔ ماہرین کاکہنا ہے کہ بچے کھانا کھانے کی ’’مشقت‘‘ سے بچنے کے لیے دودھ پینے پر راضی ہوجاتے ہیں۔ ماں کو چاہیے کہ وہ بچے کی بھوک کا اندازہ لگاتے ہوئے دودھ اور غذا کا ایسا تناسب رکھے کہ بچہ دودھ بھی پی لے اور نشوونما میں مددگارغذائی اجزا بھی خوراک کی صورت میں اسے مہیا ہوتے رہیں۔ اگربچے کی خوراک کھانے کی عادت کاآغاز ہوجائے تووہ تھوڑی بڑی عمرمیں بھی کھانے سے دورنہیں بھاگے گا۔اس لیے ابتدائی چندسالوں ہی میں بچے کی غذائی عادات کو متوازن کرنے کی کوشش شروع کردینی چاہیے۔


بچوں میں غصہ ، وجوہات اور بچاؤ


ماں کے دودھ کاکوئی نعم البدل نہیں اس لیے ہر ممکن کوشش یہی ہونی چاہیے کہ اپنے بچے تک قدرت کے اس انمول تحفے کو لازماً پہنچائیں، کیوں کہ دودھ پلاتے ہوئے ماں محض بچے کو خوراک فراہم نہیں کررہی ہوتی بلکہ اس عمل کے کچھ نفسیاتی پہلو بھی ہیں۔جب بچہ دودھ پیتا ہے تو ماں کی طرف دیکھتاہے اور ایک معصوم مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پرکھل اٹھتی ہے۔ اس طرح بچے میں تحفظ کا احساس پیدا ہوتاہے جو ماں اور بچے کے درمیان ایک خوبصورت تعلق کی بنیاد بنتا ہے۔تحقیق سے یہ بات ثابت ہے کہ جو بچے ماں کا دودھ پیتے ہیں وہ اپنی آئندہ زندگی میں اعصابی طورپرزیادہ مضبوط ہوتے ہیں ماں کا دودھ دوسال کے اندربچے کے مدافعتی نظام کو اس قدر مضبوط بنادیتا ہے کہ ساری زندگی اس کے لیے بیماریوں سے بچاؤ آسان ہوجاتا ہے۔بچے کو دی جانے والی غذا ہی اس کے مستقبل کا تعین کرتی ہے کہ وہ ایک صحت مند زندگی گزارے گایا جسمانی اور دماغی مسائل سے پرعرصۂ حیات اس کا مقدرٹھہرے گا، اس لیے زندگی کرنے کی تگ ودومیں اس بات کا خیال رکھیے کہ یہ ننھاپودا آپ کی توجہ سے محروم ہوکر کہیں مرجھانہ جائے۔


دورانِ حمل احتیاطی تدابیر اور غذا کا استعمال

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...