دماغ کی چوٹ کی اقسام اور احتیاط

2,280

دماغ کی تکلیف دہ چوٹ جسے انگریزی میں ٹرامیٹک برین انجری (ٹی بی آئی ) کہتے ہیں، وہ چوٹ ہے جسکی وجہ کوئی بھی ایسا حادثہ ہو سکتا ہے جس سے دماغ کو چوٹ پہنچے۔ کسی ٹریفک حادثے،حملے یا سر کے بل گرنے کے نتیجے میں لگنے والی چوٹ ٹی بی آئی کی وجوہات میں شامل ہیں۔
دوسرے الفاظ میںیوں کہا جا سکتا ہے کہ دماغ کی چوٹ کی وجہ کوئی ظاہری یا بیرونی چوٹ ہی ہو سکتی ہے ۔ البتہ دماغ کو مناسب آکسیجن نہ ملنے یا ذہنی دباؤ بڑھنے کے باعث بھی دماغ میں سوجن بن سکتی ہے ۔

ٹی بی آئی دراصل واقعات کا ایک سلسلہ ہو تا ہے:
۱۔ پہلی چوٹ حادثے کے چند سیکنڈز بعد لگتی ہے ۔
۲۔ دوسری چوٹ منٹوں یا گھنٹوں بعد لگتی ہے۔ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ طبی ا مدادکتنے دیر میں حاصل ہوتی ہے ۔
۳۔ تیسری چوٹ، پہلی اور دوسری چوٹ کے بعد کسی بھی وقت اثر کر سکتی ہے اور یہ مزید پیچیدگیاں پیدادیتی ہے۔

ٹی بی آئی کی اقسام

دماغ پر لگنے والی چوٹ کئی اقسام کی ہو سکتی ہے اور کئی شکلیں اختیار کرسکتی ہے:

*کنکشن /دماغ میں سنسناہٹ

یہ دماغ پر سیدھی چوٹ لگنے کی وجہ سے ہو سکتا ہے ۔ اسکے علاوہ گولی لگنے، بے حد زور سے سر کو ہلانے یا کسی کار حادثے میں سر زور سے جھٹکا کھا نے کے نتیجے میں دماغ کھوپڑی کی سخت ہڈی سے ٹکرا جا تا ہے ۔ کھلی اور بند دونوں چوٹوں کے باعث کنکشن ہو سکتا ہے ۔ اس سے خون کی شریانیں پھٹ سکتی ہیں ۔ اکثر ایسی صورتحال میں انسان کی یاداشت ایک مختصر وقت کے لیے چلی جاتی ہے ۔ اسے ٹھیک ہونے میں چند ماہ سے لے کر چند سال تک لگ سکتے ہیں ۔ اگر اس کے باعث دماغ کے کسی حصے میں خون جم جائے تو جان بھی جاسکتی ہے ۔

*ایڈیما/دماغ میں ورم آجانا

دماغ پر لگنے والی کسی بھی قسم کی چوٹ ایڈیما کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ کئی چوٹوں کی وجہ سے دماغ کے ارد گرد موجود ٹشوز پر ورم آجاتا ہے اور سیال جمع ہونے لگتاہے۔ البتہ اگر یہ ورم دماغ کے اندر آجائے تو معاملہ زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ورم اتارنے کے لیے پٹھوں کا اسٹریچ یا کھنچنا ضروری ہوتا ہے اور دماغ کے اندر اتنی جگہ نہیں ہوتی کہ کھچاؤ بن پائے جس کے باعث دماغ پر زور پڑنے لگتا ہے ۔ اس سے خون دماغ کے اہم مالیکیولز تک نہیں پہہنچ پاتا ۔ دواؤں کے ذریعے اس صورتحال پر قابو پایا جا سکتا ہے ۔ لیکن اگر ادویات کام نہ کریں تو کھوپڑی میں سراخ کرکے کچھ سیال باہر نکالا جاتا ہے تاکہ ورم کم ہوسکے ۔

*دماغ کی ہڈی میں فریکچر

جسم کی دیگر ہڈیوں کی طرح دماغ کی ہڈی یعنی کھوپڑی میں گودا نہیں ہوتا اس لیے وہ آسانی سے ٹوٹتی بھی نہیں ۔ اگر چہ کسی چوٹ کی وجہ سے کھوپڑی کی ہڈی ٹوٹ جائے تو اس کا اثر دماغ کو نقصان پہنچا سکتا ہے ۔

*پینیٹریشن /چبھنا یا داخل ہو جانا

یہ چوٹ تب لگتی ہے جب گولی، چھری یا کوئی نوکیلی چیز سے بال، کھال، ہڈیاں یا اس چیز کے ٹکڑے دماغ کے اندر داخل ہوجاتے ہیں ۔داخل ہوتی چیز کی رفتار جتنی کم ہوگی اس کا اثر اتنا ہی زیادہ ہوگا۔ اس طرح کی چوٹ سے دماغ کے ٹشوز پھٹ جاتے ہیں ۔ ایسے کسی حملے میں زندہ بچنے کے امکانات بے حد کم ہوتے ہیں ۔

*ہیمریج/جریان خون

اس طرح کی چوٹ میں دماغ سے خون بہنا شروع ہوجاتا ہے ۔یہ خون خلیات کو مارنے لگتا ہے ۔ خون دماٖغ کے ارد گرد کی جگہ سے بھی بہہ سکتا ہے اور دماغ کے اندر موجود ٹشوز سے بھی ۔ اگر دماغ کے ارد گرد سے خون بہنے لگے تو اس سے سر میں درد یا الٹی آسکتی ہے ۔ دماغ کے اندر خون بہنے سے دیکھنے یا بولنے میں تکلیف ہو سکتی ہے اور انسان بے ہوش ہوسکتا ہے ۔ اس کی وجہ خون کی شریانوں کی کمزوری، جگر کی کوئی بیماری، ہائی بلڈ پریشریا دماغ پر لگنے والی زوردار چوٹ ہو سکتی ہے ۔ خون روکنے کے لیے سرجری کی جاتی ہے اور ادویات تجویز کی جاتی ہیں ۔بر وقت علاج کے باوجود برین ہیمریج جان لیوا ہو سکتا ہے۔

احتیاطی تدابیر

*کسی بھی قسم کے حادثے سے بچنے کے لیے جب بھی آپ گاڑی میں سوار ہوںیا گاڑی چلائیں تو سیٹ بیلٹ ضرور پہنیں۔
*شراب، منشیات یا کسی بھی قسم کے نشے کے اثر میں گاڑی چلانے سے گریز کریں۔
*جب موٹرسائیکل پر سوارہوں تو ہمیشہ ہیلمیٹ پہنیں۔
*اپنا بلڈ پریشر پابندی سے چیک کرائیں۔
*اپنی اور اپنے گھر والوں کی حفاظت کا خاص خیال رکھیں۔ گھر میں ہر اس چیز کو احتیاط اور بچوں سے چھپا کر رکھیں جس سے کسی کو نقصان پہنچ سکتا ہو۔
*بچوں کو ایسی جگہ نہ کھیلنے دیں جہاں سے گرنے کا خطرہ ہو۔

ان چند آسان احتیاطی تدابیر کو اپنا کر آپ اپنے آپ کو کسی بھی قسم کے حادثے اور دماغ کی کسی بھی انجری سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ ان تراکیب پر عمل پیرا ہو کر آپ ان خطرات کو کم یا ان سے مکمل طور پر بچ سکتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...