وٹامن ڈرپ فوری توانائی کا ذریعہ؟

2,038

میڈونا ہو یا بریڈ پٹ یا پھر سائمن کاول سب ہی اس کے دیوانے ہیں ۔ پاپ اسٹار ریحانانے تو اپنی ایک تصویر بھی ٹوئٹ کی جس میں وہ انجکشن کے ذریعے توانائی اور غذائیت کو جسم میں داخل کررہی تھی ۔ فلمی شخصیات اور وہ لوگ جو جانتے ہیں کہ مصروفیت کی وجہ سے نہ تو انہیں تفریح کاموقع ملتا ہے اور نہ آرام کے لیے چھٹیاں ۔۔ وہ فوری توانائی کے حصول کے لیے وٹامنز اور معدنیات کی ڈرپ کے ذریعے اپنے خون کو ضروری غذائیت فراہم کرتے ہیں ۔بہت سے اسٹارز کی طرح کاول کا بھی کہناہے کہ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ہم چائے یا کافی وغیرہ پی کر خود کوتازہ دم کرتے ہیں ۔کاول نے بتایا کہ جب وہ پروڈیوسر کے ساتھ بیٹھ کر باتوں میں مصروف ہوتے ہیں تب بھی ایک نرس آکر انہیں وٹامن کا انجکشن لگاکر چلی جاتی ہیں اور وہ باتوں میں اسی طرح مصروف رہتے ہیں جیسے پہلے تھے ۔

ڈرپس کی مقبولیت میں اضافہ

شوبز سے وابستہ شخصیات چاہے ان کا تعلق لاس اینجلس سے ہو ، میامی سے ، لندن سے یا پھر متحدہ عرب امارات سے ۔اس طرح کی ڈرپس اور انجکشنزکا استعمال عام ہے ۔کوالیفائیڈ کلینیکل نیوٹریشنسٹ کم پیئرسن بھی وٹامن ڈرپس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے باخبر ہیں ۔ ان کا کہناہے کہ جولوگ یہ ڈرپس لگاتے ہیں ان کا دعویٰ ہے کہ اس کے بعد وہ اپنے اندر ایک نئی توانائی محسوس کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی پرفارمنس پر مثبت اثر پڑتا ہے ۔کم پیئرسن کے بقول اگر یہ لوگ مناسب خوراک نہیں کھاتے ، بھرپورنیند نہیں سوتے اور اپنی صحت کا خیال نہیں رکھتے تو اس سے پیدا ہونے والے مسائل کا حل انہیں ان وٹامنز کی ڈرپس میں نظر آتا ہے ۔ صحت اور خوبصورتی کے بظاہر اس فوری اور آسان حل پر ابھی زیادہ ریسرچ نہیں ہوئی ، اس لیے ابھی ان کے سائیڈ افیکٹس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔حالیہ برسوں میں وٹامنزاورمعدنیات کی ڈرپس کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے ۔ تاہم ابھی تک اس کے منفی نتائج سامنے نہیں آئے ۔لیکن ان کا غلط طریقے سے استعمال خطرناک بھی ثابت ہوسکتا ہے ۔

متحدہ عرب امارات میں صرف کینیڈین اسپیشلسٹ ہاسٹپل ، وہ واحد اسپتال ہے جہاںیہ ڈرپس لگائی جاتی ہیں۔ اس اسپتال کے ڈاکٹر سمیع ماجد کا اصرار ہے کہ مجموعی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے یہ محفوظ طریقہ ہے ، خاص طور پر اس وقت جب مریض میں وٹامنز کی کمی ہو۔وہ کہتے ہیں ’’ہمارے پاس وٹامن انجکشنز لگوانے کے لیے لوگوں کی بڑی تعداد آتی ہے ۔ہم انہیں عام طور پر وٹامن بی 12اور وٹامن ڈی کے انجکشن لگاتے ہیں ۔مغربی ملکوں میں تو مریضوں کو بعض امراض میں علاج کے لیے آپشنز دیئے جاتے ہیں جن میں ایک وٹامنز ڈرپس کا بھی آپشن بھی ہوتا ہے ۔ ‘‘

کیا یہ محفوظ ہیں؟

دبئی ہیلتھ کیئر سٹی کے پلاسٹک سرجن ڈاکٹر رابرٹو ویل کا کہناہے کہ وہ فی الحال اپنے مریضوں کو اس طرح کے انجکشن اور ڈرپس نہیں لگاتے مگر وہ اس رجحان اور اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے آگاہ ضرور ہیں ۔ ابھی ہم اس کے محفوظ ہونے پر ریسرچ کررہے ہیں ،س کے بعد ہی ہم اسے اپنے اسپتال میں شروع کریں گے ۔ کم پیئرسن سے جب سوال کیا گیا کہ کیا ان کے خیال میںیہ فوری توانائی کے حصول اور صحت بہتر رکھنے کا بہترین طریقہ ہے ، تو ان کا کہنا تھا کہ اس کا انحصار انفرادی طور پر الگ الگ ہے ۔بعض افراد کو طبی بنیادوں پر وٹامنز کی ضرورت ہوتی ہے ۔ مثال کے طور پر پرنیشیئس انمیمیا ایک ایسی حالت ہے جس میں وٹامن بی 12جسم میں جذب نہیں ہوتا۔ایسے مریضوں کو عام طور پر ڈاکٹر انجکشن کے ذریعے یہ وٹامن بڑی مقدار میں دینے کا مشورہ دیتے ہیں ۔ ایسی صورت میں یہ انجکشن لازمی ہوجاتا ہے لیکن دیگر صورتوں میں ڈاکٹر پھل سبزی کھانے اور ان کا جوس پینے کا مشورہ دیتے ہیں ۔جس سے ایک طرف ان کی وٹامنز کی کمی بھی دور ہوجاتی ہے اور جسم کو دیگر غذائی اجزا بھی مل جاتے ہیں ۔

پاکستان جیسے ملک میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جن میں وٹامن ڈی کی کمی ہے ۔ حالانکہ پاکستان میں دھوپ کی کمی نہیں اور دھوپ وٹامن ڈی کے حصول کا فوری ،مفت اور قدرتی ذریعہ ہے ۔ یہ وٹامن ہڈیوں کو مضبوط رکھنے ، قوت مدافعت بڑھانے اوربلڈ پریشر کو معمول پر رکھنے کے لیے ضروری ہے ۔ اس کی کمی کی وجہ سے ہڈیاں کمزورہوجاتی ہیں ۔ کمزوری اور نقاہت طاری رہنے لگتی ہے اور نزلہ زکام کی شکایت عام ہوجاتی ہے ۔

کیا اس کے مضر اثرات ہیں ؟

وٹامن بی 12بھی دماغ اور جسم کو فعال رکھنے کے لیے ضروری ہے ۔ اس وٹامن کی کمی یا تو سبزی خور افراد کو ہوجاتی ہے یا پھر ان کو جن کے معدے میں خوراک جذب کرنے کی صلاحیت گھٹ گئی ہو۔انجکشن کے ذریعے وٹامن بی 12دینے سے پہلے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ اس سے مریض کو کوئی الرجک ری ایکشن تو نہیں ہوگا، ڈاکٹر ایک ٹیسٹ تجویز کرتا ہے ۔ وہ ٹیسٹ کلیئر آنے پر ہی ڈاکٹر اسے اس وٹامن کا انجکشن لگائے گا۔ تاہم اس کے بعد بھی کچھ مسئلہ ہوسکتا ہے ، مثلاً انجکشن لگنے والی جگہ پر شدید درد ہوگا یا پھر وہ جگہ انتہائی سرخ ہوجائے گی ، معمولی دست ،پورے جسم میں خارش یا سوجن کی شکایت بھی ہوسکتی ہے ۔لیکن ایسا بہت کم لوگوں میں ہوتا ہے ۔

یہ انجکشن ایک بار لگانے کے نہیں ہوتے ، یہ ہرہفتے یا ہرمہینے لگائے جاسکتے ہیں ، اس کا انحصار مریض کی حالت پر ہے، اور اس کا فیصلہ ڈاکٹر طبی معائنے اور ٹیسٹ کے بعد کرتا ہے ۔ امریکا اور برطانیہ میں ان انجکشنوں اور ڈرپس کا استعمال عام ہے،کیونکہ یہ بآسانی ہر جگہ دستیاب ہوتے ہیں اور انہیں کوئی بھی لگاسکتا ہے ۔ تاہم کم پیئرسن جیسے طبی ماہرین کا کہناہے کہ ان انجکشنوں کا بہت زیادہ استعمال نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے ۔ ڈاکٹر سمیع ماجد بھی کم پیئرسن کی تائید کرتے ہیں ، ان کا کہناہے کہ یہ محلول تیزی سے خون میں شامل ہوتا ہے ، اس کی مقدار میں ذرا سی بھی کمی بیشی مضر ہوسکتی ہے ۔ اس لیے یہ انجکشن اسی وقت لگانا چاہئے ،جب اس کی ضرورت ہو ،مگر وہ بھی ڈاکٹرکے مشورے کے بعد ۔اسے کبھی بھی محض تفریح یا شوق کی خاطر نہیں لگوانا چاہئے ۔

کم پیئرسن کا مشورہ یہی ہے کہ ایسے انجکشنز اور ڈرپس سے پرہیز ہی کریں تو بہتر ہے ۔اس کے بجائے وٹامنز سے بھرپورخوراک کا استعمال کیا جائے تو کہیں بہتر ہے ۔ بار بار انجکشن لگنے سے رگوں کونقصان پہنچتا ہے ۔ انجکشن یا ڈرپ کی نامناسب مقدار سے گردے اور جگر بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔اس سے مہلک قسم کی الرجی کا بھی خطرہ رہتا ہے ۔ بعض طبی ماہرین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ وٹامنز والے انجکشنز اور ڈرپس کا کوئی فائدہ نہیں ، یہ صرف پیسہ ضایع کرنے والی بات ہے ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...