نزلہ ،زکام،فلو،سردیوں کے اولین تحائف

1,938

نزلے اور زکام میں کیا فرق ہے ؟

نزلہ جسے انفلوئنزا یا مختصراً فلو بھی کہتے ہیں، ایک قسم کے وائرس سے پھیلتا ہے ۔اس وائرس کا ہدف ہمارا نظام تنفس ہوتا ہے ۔ زکام بھی نظام تنفس کی ہی بیماری ہے ،مگر اس کا وائرس مختلف ہوتا ہے ۔ نزلہ اس وقت ہوتاہے جب اس کا وائرس ناک ،حلق ،سانس کی نالیوں اور ممکنہ طورپر پھیپھڑوں سمیت ہمارے پورے نظام تنفس کو متاثر کرتا ہے ، اس کے برعکس زکام کا وائرس صرف ہماری ناک اور حلق پر حملہ آورہوتاہے ۔
نزلے کی ابتدائی علامات میں بخار ، تھکن، جسم میں درد ، سردی لگنا، سردرد،گلے میں خراش اور کھانسی شامل ہیں ۔ نزلے کی شدید حالت تین سے چار دن رہتی ہے ۔ کھانسی البتہ دیر تک رہتی ہے ، اور اسے ٹھیک ہونے میں دس دن تک لگ سکتے ہیں ۔ جبکہ تھکاوٹ اور کمزور ی کا احساس کئی ہفتوں تک رہ سکتا ہے ۔ نزلے کے وائرس کا ایک بار شکار ہونے کے 24 سے 72گھنٹے کے اندر آپ اس مرض کو دوسروں میں پھیلانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں چونکہ وائرس کا شکار ہونے کے فوری بعد اس کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں، اس لیے آپ کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ آپ بیمار ہوچکے ہیں ۔یوں آ پ خود کو مکمل صحت مند سمجھتے ہوئے اپنے معمولات زندگی نمٹاتے رہتے ہیں اور جہاں جاتے ہیں اس کے وائرس پھیلاتے رہتے ہیں ۔ نزلے میں مبتلا ہوں تو گھر سے باہر نہ نکلیں ۔ کم از کم اس وقت تک جب تک بخار اتر نہ جائے ایک بار بخار اتر جائے تو پھر آپ سے نزلے کے وائرس دوسروں کو منتقل نہیں ہوتے ۔ اس لیے آپ بے فکر ہوکر جہاں چاہیں جاسکتے ہیں ۔ البتہ اگر آپ مزید آرام کریں تو اس سے آپ کے جلد صحت یاب ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔

نزلے کا بہترین علاج

نزلے کا واحد بہترین علاج کوئی نہیں ۔ البتہ اس کی علامات کی شدت کم کرنے کے بہت سے طریقے ہیں ۔ نزلے کی ابتدائی علامات ظاہر ہوتے ہی ادویات کے استعمال سے اس کے دورانئے کو کم کیا جاسکتا ہے ۔ اگر ابتدائی علامات ظاہر ہونے کے 48 گھنٹے کے اندر یہ دوائیں استعمال کرلی جائیں تو صورت حال پر قابو پایا جاسکتا ہے ، لیکن اگر اس کے بعد بھی استعمال کی جائیں تو اس سے نزلے کے باعث ہونے والی دیگر تکالیف کو روکنے میں مدد ملتی ہے ۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ نزلے کی ادویات بخار، درد ، بند ناک کھولنے اور کھانسی سے آرم کے لیے ہوتی ہیں ، یہ نزلے کا علاج نہیں کرتیں ۔ ان سے نزلے کی حالت میں کچھ آرام مل جاتا ہے ۔ نزلے کی حالت میں مایع اشیا کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں تاکہ جسم میں پانی کمی نہ ہو۔ اس سے بلغم بھی کم ہوتاہے ۔ چائے ،کافی ، اور کولا مشروبات کا استعمال محدود کردیں۔ کھانا اسی وقت کھائیں جب بھوک ہو۔ بھوک کم ہو تو ہلکی پھلکی غذا کھائیں ۔
نزلے یا زکام کی حالت میں اینٹی بایوٹک کا استعمال بے فائدہ ہوتا ہے ۔ اس لیے کہ یہ ادویات بیکٹیریا کو ہلاک کرتی ہیں ، کسی بھی قسم کے وائرس کو نہیں ۔ البتہ نزلے کی وجہ سے چونکہ ہمارا مدافعتی نظام کمزور پڑجاتا ہے اور بیکٹیریل انفیکشن کے دروازے کھل جاتے ہیں ۔ اس لیے اگر آپ محسوس کریں کہ نزلہ شرو ع میں معمولی نوعیت کا تھا ، مگر بعد میں ا س کی شدت بڑھ گئی ہے تو اس بات کا امکان ہے کہ آپ بیکٹیریل انفیکشن کاشکار ہوچکے ہیں۔اس صورت میں آپ فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں ۔اور پوری صورت حال بتائیں ۔ ممکن ہے آپ کے لیے اینٹی بایوٹک ادویات کا استعمال ضروری ہوگیا ہو۔
اگر علاما ت برقرار رہیں ، ایک ہفتہ گزرنے کے بعد بھی آرام نہ آئے یا بخار کو تین دن سے زائد ہوجائے تو پھر فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔اگر نزلے کے ساتھ کو ئی اور طبی مسئلہ ہوجائے تو ایسی صورت میں بھی ڈاکٹر سے رابطہ کرنے میں تاخیرنہیں کرنی چاہئے ۔ اسی طرح نوزائیدہ یا کم سن بچے کو نزلہ ہوجائے تب بھی ڈاکٹرسے مشورہ ضرورلینا چاہئے ۔ چند علامات ایسی ہیں جن کے ظاہر ہونے پر نزلے کے بگڑنے اور نمونیا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔ مثلاًسانس لینے میں دشواری،مستقل بخار،بار بار قے آنا جس سے جسم میں پانی کی کمی کا خدشہ ہو،جسم میں سوجن،مستقل کھانسی ، مستقل سردرد۔ نزلے کی حالت میں اگر ان میں سے کوئی ایک علامت بھی ظاہر ہوجائے تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے ۔

لوگ نزلے سے پریشان کیوں ہوجاتے ہیں ؟

اس لیے کہ نزلے کے وائرس پھیپھڑوں پر حملہ کرسکتے ہیں ۔اس سے سنگین قسم کا انفیکشن جیسے نمونیا وغیرہ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ نزلہ ہونے پر بعض افراد فکرمند ہوجاتے ہیں ، کیونکہ نزلہ اگر نمونیا میں بدل جائے تو اسپتال میں داخل ہونے کی نوبت بھی پیش آسکتی ہے ۔ اور لاپروائی برتی جائے تو اس سے موت بھی واقع ہوسکتی ہے ۔ کمزور مدافعتی نظام والے افراد،بزرگ،حاملہ خواتین ،نوزائیدہ بچے اوروہ لوگ جنہیں پہلے سے کوئی بیماری لاحق ہو، ان میں نزلے کے نمونیا میں تبدیل ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے ۔
نزلے کی ویکسین میں اس مرض کے مردہ وائرس ہوتے ہیں ، اس لیے اس سے نزلہ تو نہیں ہوتا۔ البتہ جسم میں یہ مردہ وائرس داخل ہونے پر ہمارا مدافعتی نظام متحرک ہوجاتاہے ،اس سے نزلے کی معمولی نوعیت کی کچھ علامات ظاہر ہوسکتی ہیں جیسے پٹھوں میں درد یا ہلکا بخاروغیرہ۔ ناک کے ذریعے دی جانے والی ویکسین میں کمزور اور نیم مردہ وائرس ہوتے ہیں ۔نزلہ اس سے بھی نہیں ہوتا تاہم اس سے پٹھوں میں درد اور ہلکے بخار کا امکان زیادہ رہتا ہے ۔ یہ ویکسین صرف ایک آپشن کے طور پر دی جاتی ہے ، اور وہ بھی صرف غیر حاملہ خواتین اور دو سے انچاس سال کی عمر کے افراد کو ۔

نزلہ کس طرح پھیلتا ہے ؟

نزلے اور زکام کے وائرس ایک ہی طرح سے پھیلتے ہیں ،یعنی متاثرہ شخص کے نظام تنفس سے خارج ہونے والے خوردبینی آبی قطروں سے ۔متاثرہ شخص جب کھانستا ہے ، یا چھینکتا ہے تو یہ باریک آبی قطرے پھوار کی شکل میں قریب موجود افراد یا چیزوں پر پڑتے ہیں ۔اگر متاثرہ شخص ہاتھوں پر کھانسے یا چھینکے اور اس کے ہاتھ میں رومال یا ٹشو وغیرہ نہ ہو، تو وہ جس چیز کو چھوئے گا وہ ان وائرس سے آلودہ ہوجائے گی ،پھر جب کوئی صحت مند شخص اس جگہ کو ہاتھ لگائے گا تواس کے ہاتھ بھی ان وائرس سے آلودہ ہوجائیں گے اور وہ شخص ان ہی آلودہ ہاتھوں سے اپنی ناک ، منہ یا آنکھوں کو چھوئے گا تووہ اس طرح نزلے کے وائرس اپنے جسم میں داخل کرکے اس مرض کا شکار ہوجائے گا۔

نزلے سے بچنے کے لیے کیا کرنا چاہئے ؟

نزلے اور زکام کے وائرس سے خود کو محفوظ رکھنے اور دوسروں تک ان وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ان اصولوں پر عمل کریں
*۔بار بار ہاتھ دھوئیں ۔
*۔رومال یا ٹشو پیپر وغیرہ پر کھانسیں یا چھینکیں۔اگر رومال یا ٹشو پیپر فوری طور پر دستیاب نہ ہو تو دونوں ہاتھ منہ پر رکھیں ، اور چھینکنے اور کھانسنے کے فوری بعد ہاتھ دھولیں۔
*۔جب کھانسی یا چھینک آئے تو اپنا چہرہ دوسروں کی طرف سے ہٹالیں ۔
*۔اپنی آنکھوں، ناک اور منہ کو مت چھوئیں، اس سے وائرس کے جسم میں داخل ہونے کا امکان یقینی ہوجاتاہے ۔
*۔فون،کی بورڈ اور ماؤس جیسی چیزیں جو ایک سے زائد افراد استعمال کرتے ہوں ، ان کی صفائی کا خیال رکھنا چاہئے ، کیونکہ وائرس ان کی سطح پر آٹھ گھنٹے تک زندہ رہ سکتے ہیں ۔
*۔نزلے اور زکام کے موسم میں پرہجوم مقامات سے حتی الامکان دور رہنے کی کوشش کریں ۔
*۔ہر سال فلو ویکسین لگوائیں۔یہ ویکسین آپ کو اس مرض سے سو فیصد تحفظ تو نہیں دیتی ، مگر یہ اس مرض سے دور رہنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
*۔جسم کے مدافعتی نظام کو قوت دینے کے لیے صحت بخش غذائیں استعمال کریں ۔ جیسے گہرے سبز، اورنج اور سرخ رنگ کے پھل اور سبزیاں۔
*باقاعدگی سے ورزش کریں ۔اگرچہ ورزش کرنے والے افراد بھی نزلے کا شکار ہوجاتے ہیں ،لیکن ان میں اس مرض کی علامات کی شدت کم ہوتی ہے ، اور وہ تیزی سے صحت یاب بھی ہوجاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ایروبکس اور چہل قدمی جیسے ورزش باقاعدگی سے کرنے سے مدافعتی نظام مضبوط ہوتاہے ۔ ورزش کا کوئی بھی پروگرام شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں ۔
الرجی سے نزلے کا شکار ہونے کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔ ہاں البتہ دمے کے مریض کو نزلہ ہوجائے تو اس سے یہ مرض بگڑنے کا خطرہ رہتاہے ، اور یہ مرض بگڑ کر نمونیا میں بدل سکتاہے ۔چھ ماہ سے کم عمر کے بچے ، حاملہ خواتین،بزرگ،کمزور مدافعتی نظام کے حامل افراد اوروہ لوگ جنہیں ذیابیطس ،پھیپھڑوں کے امراض، کوئی دماغی مرض یا دل کی بیماری ہو ، ان کے لیے بھی یہ مرض کئی قسم کی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...