ورلڈ پاپولیشن ڈے

76

عالمی آبادی کا دن پاکستان سمیت دنیا بھر میں 11جولائی کومنایا جاتا ہے جس کا مقصد بین الاقوامی سطح پر لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا ہے تاکہ دنیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی وجوہات اور اس سلسلے میں عالمی برادری کی غلطیوں کا پتہ لگا کر ان کا ازالہ کیا جاسکے۔عالمی آبادی کا دن ہر سال کی طرح اس سال بھی11جولائی کو منایا جارہا ہے۔اس کا مقصد عام لوگوں کو آبادی کے مسائل اور ان کی اہمیت سے آگاہ کرنا ہے ۔
اس سلسلے میں دوران حمل ہونے والی پیچیدگیوں اور بیماریوں پر خاص توجہ دی جارہی ہے کیونکہ اس کی وجہ سے دنیا بھر میں لاتعدادخواتین کی اموات واقع ہوجاتی ہیں۔عالمی ادارہ صحت برائے خواتین کے مطابق دنیا بھر میں روزانہ800 خواتین بچے کی پیدائش کے دوران موت کی آغوش میں چلی جاتی ہیں ۔عالمی دن پر چلائی جانے والی مہم کے ذریعے دنیا بھر کے لوگوں کو ری پروڈکٹو ہیلتھ اور فیملی پلاننگ کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اس سلسلے میں بہت سے پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں ۔اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس میں شریک کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ انھیں ماں اور بچے کی صحت،فیملی پلاننگ ،انسانی حقوق،غربت ،جنسی معلومات،چھوٹی عمر میں شادی ،جنسی تعلق سے منتقل ہونے والی بیماریوں اور انفیکشنزاور مانع حمل دوائوں اور دوسرے طریقوں کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کی جاسکے۔نوجوانوں میں جنسی تعلقات کے مسائل (خاص طور پر 15سے 19 سال )کو حل کرنا ضروری ہے کیونکہ ہر سال اس عمر کی ۱۵ ملین خواتین بچوںکو جنم دیتی ہیں جبکہ 4 ملین اسقاط حمل کا شکار ہوتی ہیں ۔


اویولیشن اور فرٹائلیٹی حمل میں مددگار


مقاصد:

عالمی آبادی کا دن منانے کے اہم مقاصد ذیل میں درج کئے جارہے ہیں ۔
۔یہ د ن نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں ،دونوں کو تحفظ اور طاقت فراہم کرنے کے لئے منایا جاتا ہے۔
۔انھیں جنسیت کے بارے میں معلومات دی جاتی ہیں اور دیر سے شادی کرنے پر (یعنی جب وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ سکیں)آمادہ کیا جاتا ہے۔
۔نوجوانوں کو مناسب اور دوستانہ انداز میں خود کو غیر ضروری حمل سے بچانے کے لئے معلومات دی جاتی ہے۔
۔لوگوں کو صنف کے بارے میں دقیانوسی خیالات ختم کرنے کی تعلیم دی جاتی ہے۔
۔انھیں حمل سے متعلق بیماریوں سے آگاہ کیا جاتا ہے تاکہ وہ کم عمری میں بچے کی پیدائش سے پیدا ہونے والے خطرات کو جان سکیں ۔
۔بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لئے انھیں جنسی تعلقات سے منتقل ہونے والی بیماریوں اور مختلف انفیکشنز کے بارے میں معلومات فراہم کی جاتی ہیں ۔
۔چھوٹی لڑکیوں کو تحفظ دینے کے لئے مختلف قوانین اور پالیسیاں بنانے پر زور دیا جاتا ہے۔
۔لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کی کم از کم پرائمری تعلیم کو یقینی بنانا۔
۔ ری پروڈکٹو ہیلتھ سروس کے اداروں کا قیام تاکہ لوگوں کو بنیادی طبی سہولیات حاصل ہو سکیں ۔
ہر سال کی طرح اس سال بھی اس سلسلے میں بہت سے سیمینارز اور لیکچرز ،تقاریر اور پریس کانفرنس بھی منعقد کرنے کی ضرورت ہے ساتھ ہی میڈیا کو بھی اس سے متعلق پروگرامز پیش کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ میڈیا ہی لوگوں کی مسائل سے آگاہی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔


مزید جانئے :دوران حمل صحت کے مسائل اور ان کا حل


تبصرے
Loading...