دہی کیلشیم کا خزانہ

1,711

یہ بات اکثر شہروں میں دیکھنے میں آرہی ہے کہ لوگ تیز تر مشینی دور کا بہانہ بناکر دودھ اور دودھ سے بنی غذاؤں سے دوری اور مصنوعی دودھ،خشک دودھ، کولا مشروبات اور چائے کافی سے قربت اختیار کرتے جارہے ہیں اور اب لوگ دکان پرکھڑے ہوکر لسی چڑھانے کو خلافِ فیشن اور دیہاتی پن سمجھتے ہیں۔ اس صورتِ حال کا صرف اور صرف ایک ہی افسوس ناک پہلو ہے اور وہ یہ کہ ہم تیزی سے اپنے جسمانی ڈھانچے کو کمزور سے کمزورتر کر رہے ہیں۔

ہم اپنے آپ کو پڑھا لکھا اورشہری سمجھ کر اس رجحان کو کھلے دل سے قبول توکرلیں لیکن ہڈیوں کے بھربھرے پن، پٹھوں کی کمزوری،مٹاپے، ذیابیطس، جنسی کج روی، اعصابی تناؤ،ذہنی معذوری وغیرہ کو کس کے کھاتے میں ڈالیں گے۔ ترقی یافتہ ممالک کی بے شمار سائنسی تحقیقات دودھ اور دودھ سے بنی اشیاء کی طرف دوبارہ عوام کو راغب کررہی ہیں۔ان میں سے ہم صرف دو کی طرف اشارہ اور ایک پر روشنی ڈالیں گے۔

جاپان کے غذائی ماہرین نے لگ بھگ پچاس سالہ تحقیقات کے بعد ثابت کردیا ہے کہ کیفین پر مشتمل غذائیں ہمارے جسم میں جانے والی کیلشیم(جس کا سب سے برا ذریعہ ڈیری مصنوعات ہیں) کو نہ صرف جسم کا حصہ بننے سے روکتی ہیں بلکہ ہڈیوں کے اندر رہی سہی،کیلشیم کو بھی آہستہ آہستہ خارج کرتی رہتی ہیں جس کے نتیجے میں درج بال بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں۔یہ توہمیں خوب معلوم ہے کہ کیفین کس کس غذا میں پائی جاتی ہے۔ چائے، کافی،چاکلیٹ،کوکواوولٹین،کولامشروبات کے علاوہ باقی تمام سوڈے کیفین سے بھرپور ہیں۔

یہ توبات ہورہی تھی دودھ اور دودھ سے بنی اشیاء کے کم یا زیادہ لینے کے ساتھ ساتھ کیفین کے استعمال سے ہونے والے نقصانات کی شدت کی۔ اب دوسری طرف کیلشیم خصوصاً دہی کے استعمال پر امریکن ویورپی تحقیق کا ذکرکریں گے جس میں غذائی ماہرین کی مختلف درجن بھر ٹیموں نے دہی کے استعمال سے وزن کم کرنے کی صلاحیت کا ثبوت پیش کردیا ہے۔

ان تجربات کانچوڑ یہ کہتا ہے کہ ڈیری مصنوعات کا روزمرہ خوراک میں استعمال بذاتِ خود ایک متوازن خوراک کا اہم جزو ہے۔ اس بات پر تو سبھی متفق ہیں کہ ڈیری مصنوعات میں شامل لازمی جزو کیلشیم یقیناًموٹے یا زائد الوزن افراد خصوصاًّ برھوتری والے موٹے بچوں کے وزن کنٹرول میں رکھنے کا ضامن ہے۔

جب عام حالات میں وزن کم کرنے والی غذائیں یا دوائیں لی جاتی ہیں تو جہاں جسم کی فالتو چربی گھل کر خارج ہوتی ہے وہیں پر ہڈیاں بھی کمزور پر جاتی ہیں۔لہٰذا ایسے حالات میں اگر کیلشیم خصوصاً دہی سے حاصل شدہ کیلشیم کا استعمال کیا جائے تو وزن کم ہونے کے ساتھ ہڈیوں کوکمزوری سے بھی بچایا جاسکتا ہے۔

اب ذرا بات ہوجائے کہ دہی کیسا ہو؟کیا موٹی بالائی والا دہی یا بالائی کے بغیر والا۔تو یقیناًدودھ میں موجود سیر شدہ چکنائیوں سے بچاؤ لیکن اس میں موجود کیلشیم حاصل کرنے کا واحد بہترین حل یہ ہے کہ دہی بنانے کے لیے بغیر چکنائی والا دودھ استعمال کیا جائے۔اس کے علاوہ بعض کمپنیوں کا ڈبہ بند دہی بھی صحت کے لیے اچھا ہے۔کیونکہ ان میں بھی بغیر چکنائی والا دودھ استعمال کیاجاتاہے۔ہر کھانے کے ساتھ اگر دوچار چمچ دہی کا استعمال معمول بنالیا جائے تو یقیناًیہ نہ صرف نظام انہضام کی بہتری بلکہ وزن کوکنٹرول میں رکھنے کا بھی ضامن ہوگا۔ اور ساتھ ہی ساتھ جسم کے پٹھوں اور اعصاب کی بھی طاقت کا وسیلہ بنے گا اور یہ تو آپ کو معلوم ہی ہوگا کہ جنسی کج روی کا تعلق پٹھوں اور اعصاب کی کمزوری سے ہے۔


شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...