گرمی کی شدت ؛ بیماریاں اور احتیاط

153

ہیٹ اسٹروک کا شکار فرد کا بلڈ پریشر انتہائی کم ہو جاتا ہے
مرغن ، کھٹی غذاؤں، گوشت اور غیرمعیاری ٹھوس غذائیں اور مشروبات کے استعمال سے پرہیز کرنا چاہئے
پانی ابال کر پینے سے پیٹ کی متعدد بیماریوں سے محفوظ رہا جاسکتا ہے،طبی ماہرین
شدید گرمی میں دیگر موسموں کے مقابلے میں بیماریوں کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ ان میں پیٹ کے امراض عام ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق تیز دھوپ کی وجہ سے پیدا ہونے والا ایک عام مسئلہ جسم میں پانی کی کمی ہے۔
گرم ہواؤں اور لو لگنے کے باعث سر درد، بخار، دل کی دھڑکن تیز ہو جانا اور اس کے باعث گھبراہٹ محسوس ہونا، ٹائیفائڈ، قے اور متلی کی کیفیت، گیسٹرو اور اسہال، گلے اور آنکھوں کا انفیکشن جب کہ جلد پر پھوڑے پھنسیاں نکلنا، جن میں جلن اور خارش بھی ہوتی ہے، عام مسئلہ ہے۔ اس کے علاوہ شدید گرمی میں ہیٹ اسٹروک کا سب سے زیادہ خطرہ رہتا ہے، جس میں متاثرہ فرد کو شدید پسینا اور چکر آنے لگتے ہیں۔بعض صورتوں میں تیز بخار بھی ہوجاتا ہے۔ ہیٹ اسٹروک کا شکار ہونے والے فرد کا بلڈ پریشر انتہائی کم ہو جاتا ہے جب کہ یورین انفیکیشن کا مسئلہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ ایسے مریض کو جلدازجلد اسپتال منتقل کرنا چاہیے۔ طبی ماہرین کے مطابق شدید گرمیوں میں انسان سست اور نڈھال رہتا ہے اور بھوک بھی کم لگتی ہے۔ دھوپ اور گرم ہوا بچوں اور عمررسیدہ افراد کو زیادہ متاثر کرتی ہے اور بعض صورتوں میں انسان کی جان بھی ضایع ہوسکتی ہے۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس موسم میں کھانے پینے سے متعلق زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ مرغن اور کھٹی غذاؤں، گوشت ، ٹھیلوں پر فروخت ہونے والی غیرمعیاری ٹھوس غذائیں اور مشروبات، حفظانِ صحت کے اصولوں کے برعکس تیار کردہ چاٹ، بیسن کے پکوڑے، سموسے وغیرہ، اسی طرح گنے، تربوز یا لیموں وغیرہ کے جوس کا استعمال اس موسم میں انتہائی مضر ثابت ہوسکتا ہے۔ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ گھر میں بنی ہوئی غذائیں استعمال کرنے کی عادت ڈالیں، پھلوں کا رس نکال کر اسے فوراً استعمال کرلیں، فریج میں رکھنے سے ان میں جراثیم پیدا ہوسکتے ہیں۔ ڈاکٹرز نے مشورہ دیا ہے کہ پانی ابال کر پینے سے پیٹ کی متعدد بیماریوں سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ تازہ سبزیاں اور پھل استعمال کریں۔ گرم مشروبات سے پرہیز کریں کیوں کہ یہ جسم سے پانی کے زیادہ اخراج کا باعث بنتے ہیں اور ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ رہتا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...