Facebook Pixel

خسرہ۔۔۔ بچوں کے لیے خطرہ

1,328

خسرہ ایک ایسا انفیکشن ہے جو وائرس سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ سردیوں کے آخر میں یا بہار کے موسم میں ہوتاہے۔ خسرہ کی بیماری کے ساتھ جب کوئی مریض کھانستا یا چھینکتا ہے تو نہایت چھوٹے آلودہ قطرے پھیل کر ارد گرد کی اشیا پر گر جاتے ہیں۔بچہ یا تو ڈائریکٹ سانس کے ساتھ اسے اندر لے لیتا ہے یا پھر آ لودہ اشیا کو ہاتھ لگا کراپنا ہاتھ ناک، منہ، اور کانوں کو لگاتا ہے۔خسرہ کی علامات بخار کے ساتھ شروع ہوتی ہیں جو دو دن تک رہتی ہیں۔ اس سے کھانسی ، ناک اور آنکھوں سے پانی بہتا ہے اور پھر بخار آ لیتا ہے۔ اس سے آنکھ میں انفیکشن بھی ہوجاتا ہے جسے ‘ پنک آئی’ کہتے ہیں۔ سرخ دانے چہرے اور گردن کے اوپر نمودار ہوتے ہیں اور پھر جسم کے دوسرے حصوں میں منتقل ہو جاتے ہیں، پھر یہ دانے بازؤں، ہاتھوں،ٹانگوں اور پیروں تک پھیل جاتے ہیں۔پانچ دن کے بعد جس طرح سرخ دانے بڑھے تھے ا سی طرح کم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔خسرہ ایک سے دوسرے کو لگنے والا مرض ہے۔ مطلب یہ کہ ایک سے دوسرے انسان کو فوری لگ جاتا ہے۔ اس بیماری کا شکار 4 دن پہلے اور 4 دن بعد تک متاثر ہوتے ہیں۔ جن بچوں کی قوت مدافعت کم ہوتی ہے وہ زیادہ لمبے عرصے تک بیمار رہتے ہیں۔ خسرے کا وائرس ناک اور گلے کی بلغم میں پرورش پاتا ہے۔ جب وہ چھینکتے ہیں یا کھانستے ہیں تو قطرے ہوا میں پھیل جاتے ہیں۔ یہ قطرے قریب کی جگہوں پر بھی پڑتے ہیں جو دو گھنٹوں تک وائرس فضا میں بکھیرتے رہتے ہیں۔

بچے میں خسرہ ہونے کے امکانات زیادہ ہو سکتے ہیں اگر:

*آپ کے بچے نے خسرہ کی ویکسینیشن نہیں کرائی ہو۔
*آپ کا بچہ ویکسینیشن کے بغیر دوسرے ملک کا چکر لگاتا ہے۔
*اگر بچے میں وٹامن اے کی کمی ہے۔

پیچیدگیاں

پیچیدگیاں بہت سے خطرات پیدا کرتی ہیں۔خسرہ کے ساتھ کچھ بچوں کو کان کا انفیکشن بھی ہو جاتا ہے ۔ساتھ میں ڈائیریا اور نمونیہ ہونے کا خطرہ بھی ہوتا ہے ۔بہت کم کیسز میں ایسا ہوتا ہے کہ بچے کو دماغ کی سوجن کی بیماری ہو جاتی ہے ۔ اس بیماری کے شدید اثرات والے مریضوں کا یا تو دماغی نقصان ہوتا ہے یا وفات ہو جاتی ہے۔ خسرے کی تشخیص ڈاکٹری جسمانی معائنے کے بعد ہوتی ہے۔ ڈاکٹر خون کا ٹیسٹ بھی کروا سکتا ہے اور روئی پر ناک اور گلے سے نمونہ لے کر ٹیسٹ کروا سکتا ہے۔ اگر آپ کے خیال میں بچے کو خسرہ ہے تو ڈاکٹر کو فون کرکے جائیں تا کہ وہ حفاظتی اقدامات کر لے۔

گھر پر بچے کی دیکھ بھال

خسرے کا چونکہ کوئی بھی علاج نہیں ہے اس لیے بچے کوگھر پر اس طرح رکھیے جس سے وہ آرام محسوس کر سکے۔۔۔بخار کا درجہ حرارت نوٹ کیجیے۔۔۔اپنے بچے کو بستر کا آرام دیجیے اوردوسرے بچوں سے الگ کر دیجیے۔

طبعی مدد کب حاصل کی جائے

 

بچے کے ڈاکٹر سے فوری رابطہ کریں اگر:

جسم پر سرخ دانے نکلنے کے بعد4 دن کے اندربخار نہ اترے۔۔۔بہت زیادہ کھانسی ہو۔۔۔بچے کے کان میں درد ہو۔ بچے کو سانس لینے میں دشواری ہو یا سانس لینے میں آواز کا عنصر شامل ہو،بچے کو دورہ پڑ جائے، ہلنے جلنے میں مشکل پیش آئے یا سلوک میں بدلاؤ نظر آئے،بچے کو سر میں شدید درد ہو اور الٹیاں آئیںیا بچہ دیکھنے میں بہت بیمار لگے تو فوراً اسے ڈاکٹر کے پاس لے جائیں۔

خسرے سے بچاو کا طریقہ

بہت سے ملکوں میں خسرے کی ویکسین مفت دستیاب ہے۔ چھوٹے بچوں کو خسرے کے دو ٹیکے لگائے جاتے ہیں۔ پہلی خوراک بچے کو ایک سال کی عمر میں دی جاتی ہے اور دوسری بچے کے ا سکول شروع کرنے سے پہلے دی جاتی ہے۔خسرے، ممز اور روبیلاکی ایک ہی ویکسین ہوتی ہے۔

بچوں میں ویکسین سے دانوں کا نمودار ہونا

جب بچوں کو خسرے کا ٹیکہ لگایا جائے تو کچھ بچوں میں بیماری کی ہلکی سی علامات پیدا ہو جاتی ہیں۔ یہ ایک عام سی بات ہے۔ ایسی صورت میں ٹیکہ لگنے کے 7 سے 10 دن کے درمیان گلابی دانے پیدا ہو جاتے ہیں۔ بچے کو ہلکا بخار اور جوڑوں میں ہلکا درد بھی ہوتا ہے، اگر آپ فکر مند ہوں تو اپنے فیملی ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

ویکسینیشن کروانا ضروری ہے

ترقی یافتہ مما لک میں جہاں ویکشینیشن کی جاتی ہے ، وہاں اگر خسرے کا حملہ ہو بھی تو بہت ہلکی نوعیت کا ہوتا ہے۔ سیاح جو دوسرے ملکوں سے واپس آتے ہیں، اپنے ساتھ ملک میں یہ بیماری بھی لے آتے ہیں۔اس وجہ سے بچے اور خاندان کے دوسرے افراد کو حفاظتی ٹیکہ لگنا ضروری ہے۔ اگر حفاظتی ٹیکے نہیں لگائے جائیں گے تو یہ بیماری بہت تیزی سے پھیل جائے گی۔یہ بیماری دوسرے مریضوں میں پھیلنے کے خطرے کے پیش نظر، بچے کو الگ کمرے میں رکھا جائے گا۔ بچہ پلے روم میں نہیں جا سکے گا جب تک کہ خسرہ کے دانے ختم نہ ہو جائیں۔بچے کو علامات کے ختم ہونے تک کمرے میں رہنا ہو گا۔ ایسے لوگ جنہیں پہلے خسرہ نہیں ہوا ہو یا انہوں نے حفاظتی ٹیکہ نہیں لگوایا ہو ، انہیں بچے کے کمرے میں نہیں آنا چاہیے۔ اگر آپ یا کوئی اور جسے خسرے کی علامات ظاہر ہوں وہ فوری طور پر بچے کے ڈاکٹر یا نرس سے رابطہ کرے۔ترقی یافتہ دنیا میں خسرے کی بیماری بہت کم ہے۔کینیڈا جیسے ملک میں جہاں زیادہ مقدار میں ویکسین کے استعمال کی وجہ سے خسرہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ دنیا کے دوسرے حصوں میں 43 ملین لوگ ہر سال خسرے کا شکار ہوتے ہیں۔10 لاکھ افراد ہر سال خسرے کی بیماری سے وفات پا جاتے ہیں۔


دورانِ حمل احتیاطی تدابیر اور غذا کا استعمال


شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...