ماں – ایچ ٹی وی اردو https://htv.com.pk/ur Fri, 25 Mar 2022 08:10:29 +0000 en-US hourly 1 https://htv.com.pk/ur/wp-content/uploads/2017/10/cropped-logo-2-32x32.png ماں – ایچ ٹی وی اردو https://htv.com.pk/ur 32 32 ماں کے دودھ میں اضافے کے قدرتی طریقے https://htv.com.pk/ur/moms/breast-milk-increase Thu, 22 Aug 2019 08:07:11 +0000 https://htv.com.pk/ur/?p=34009 breast feeding

ماں کا دودھ بچے کی پہلی غذا ہے ۔بچے کی اچھی صحت اور بیماریوں سے حفاظت کے لئے ضروری ہے کہ اسے فارمولا ملک کے بجائے صرف ماں کا دودھ دیا جائے ۔پیدائش کے بعد بچے کو ماں کا دودھ دیا جاتا ہے ۔لیکن  اکثر مائیں کچھ ہی عرصے میں بچے کو دودھ پلانا چھوڑ […]

The post ماں کے دودھ میں اضافے کے قدرتی طریقے appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
breast feeding

ماں کا دودھ بچے کی پہلی غذا ہے ۔بچے کی اچھی صحت اور بیماریوں سے حفاظت کے لئے ضروری ہے کہ اسے فارمولا ملک کے بجائے صرف ماں کا دودھ دیا جائے ۔پیدائش کے بعد بچے کو ماں کا دودھ دیا جاتا ہے ۔لیکن  اکثر مائیں کچھ ہی عرصے میں بچے کو دودھ پلانا چھوڑ دیتی ہیں اور اسے فیڈر لگادیتی ہیں ۔جس کی وجہ سے وہ بار بار بیماریوں کا شکار ہوتا رہتا ہے ۔ماں کا دودھ چھڑانے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں سے ایک وجہ دودھ کی پیداوار میں کمی ہوتی ہے جس کی وجہ سے بچے کا پیٹ نہیں بھرتا اور بچہ بھوک کی وجہ سے روتا رہتا ہے لہٰذامجبور ہوکر ماں  بچے کو فیڈر لگادیتی ہے۔

کچھ قدرتی طریقوں سے ماں کے دودھ میں اضافہ کیا جاسکتا ہے :

زیادہ پانی پیئیں:

یوں تو ہر شخص کی پانی کی ضرورت الگ الگ ہوتی ہے لیکن دودھ پلانے والی ماؤں کو روزانہ آٹھ گلاس پانی ضرور پینا چاہئے ۔خاص طور پر جب بچے کو دودھ پلانے بیٹھیں تو ایک گلاس پانی پی لیں۔

متوازن غذا کھائیں :

دودھ پلانے والی ماؤں کو دوسری خواتین کے مقابلے میں 500  اضافی کیلوریز کی ضرورت ہوتی ہے ۔

لہٰذا ماؤں اپنی خوراک میں پروٹین والی غذائیں جیسے مچھلی، انڈے،دودھ،دہی،سبزیاں ،جوء اور میتھی کے بیج شامل کریں ۔ایک چمچ میتھی کے بیج ایک کپ پانی میں بھگو کر رات بھر کے لئے رکھ دیں ۔صبح کے وقت پانچ منٹ تک ابالیں ،پھر اس چائے کو چھان کر اس میں شہد ملا کر پی لیں ۔

وٹامنز ضرور لیں :

ماہرین کے مطابق دودھ پلانے والی ماؤں کے لئے کیلشیئم،وٹامن ڈی،آئرن اور فولک ایسڈبہت ضروری ہیں ۔ان وٹامنز اور منرلز کا باقاعدگی کے ساتھ استعمال ماں کے دودھ میں اضافے کو یقینی بناتا ہے۔

بچے کو جلدی جلدی اور بار بار فیڈ کرائیں:

ماں کا  دودھ پینے والے بچوں کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں ہوتا۔لہٰذاجب بھی بچہ روئے یادودھ زیادہ آتا محسو س ہو بچے کو دودھ پلائیں ۔


پریگننسی آسان بنائیں ان غذاؤں سے


دونوں طرف سے برابر پلائیں :

بچہ جتنا دودھ پئے گادودھ کی پیداوار میں اتنا ہی ا ضافہ ہوگا ۔بچے کو دونوں طرف سے دودھ پلائیں اور بریسٹ کو بالکل خالی کردیں اس طرح دودھ دوبارہ  بننا شروع ہو جائے گا ۔

ٹپس:

۔ابتد ائی چھ ماہ تک بچے کواپنے پاس سلائیں ۔

۔بچے کی بھوک کا خاص خیال رکھیں۔

۔بچے کو چسنی نہ لگائیں ۔

۔صحت بخش غذا کھائیں ۔

۔زیادہ پانی ور لکوئڈ پیئیں ۔

۔ضرورت کے مطابق آرام کریں۔

۔چست کپڑوں کے بجائے ڈھیلے کپڑے پہنیں ۔


بچیوں کو ماہواری کے لئے کیسے تیار کریں؟


The post ماں کے دودھ میں اضافے کے قدرتی طریقے appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
پاکستانی ماؤں کو اپنے بچوں کو بریسٹ فیڈ کراناکیوں مشکل لگتا ہے؟ https://htv.com.pk/ur/moms/breastfeed-infant-in-pakistan Wed, 24 Jul 2019 06:50:24 +0000 https://htv.com.pk/ur/?p=33745 (breastfeed infant in pakistan)

پچھلے ماہ شائع ہونے والے نیشنل نیوٹریشن سروے 2018سے حاصل ہونے والے نتائج کے مطابق2011سے 2018تک پیدائش کے بعد ایک گھنٹے کے دوران ماں کا دودھ پینے والے بچوں کی شرح میں مستقل اضافہ ہو رہا ہے ۔ البتہ خالصتاََ بریسٹ فیڈنگ کا رواج اتنا عام نہیں ہوا۔2001 میں جوشرح 50% تھی وہ2011 میں کم […]

The post پاکستانی ماؤں کو اپنے بچوں کو بریسٹ فیڈ کراناکیوں مشکل لگتا ہے؟ appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
(breastfeed infant in pakistan)

پچھلے ماہ شائع ہونے والے نیشنل نیوٹریشن سروے 2018سے حاصل ہونے والے نتائج کے مطابق2011سے 2018تک پیدائش کے بعد ایک گھنٹے کے دوران ماں کا دودھ پینے والے بچوں کی شرح میں مستقل اضافہ ہو رہا ہے ۔
البتہ خالصتاََ بریسٹ فیڈنگ کا رواج اتنا عام نہیں ہوا۔2001 میں جوشرح 50% تھی وہ2011 میں کم ہوکر 37.7%ہو گئی ۔جو دوبارہ 2018 میں 28%ہوگئی اور اب پھر سے اپنے ہدف( جو ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے مطابق 50%ہے )کے قریب ہو تی جارہی ہے۔
لیکن پھر صرف بریسٹ فیڈ کرانے والی ماؤں کی تعداد میں کمی کیوں ہورہی ہے؟
مارگلہ جنرل ہاسپٹل کی ماہر اطفال ڈاکٹر نازیہ عباسی کہتی ہیں کہ پاکستانی خواتین میں بریسٹ فیڈ کی عادت ہر آنے والے سال میں کم ہونے کی کئی وجوہات ہیں ۔
ایک وقت تھا جب صرف اونچے طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین ہی بریسٹ فیڈ کرانے سے کتراتی تھیں کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اس سے ان کے جسم کا شیپ خراب ہو جائے گا ۔لیکن اب متوسط طبقے کی خواتین بھی جو پورے دن کی ملازمت کرتی ہیں اور اپنے آفس میں ڈے کیئر سینٹر کی سہولت نہ ہونے کی بناء پر ان میں شامل ہو گئیں ہیں ۔
شازیہ لقمان ،جو اسلام آباد کی یونیورسٹی میں ملازمت کرتی ہیں،نے دو مرتبہ جڑواں بچوں کو جنم دیا اور ماں کے دودھ میں کمی نہ ہونے کے باوجود وہ اپنے بچوں کو بریسٹ فیڈ نہیں کراسکیں اس کی وجہ ان کے دفتر میں ڈے کیئر کی سہولت کی عدم موجودگی تھی ۔
ََ’’دوران ملازمت مجھے کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا کیونکہ دودھ کی زیادہ پیداوار کی وجہ سے مجھے فیڈ کرانے کی ضرورت ہوتی تھی ۔لیکن صبر کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا ،نہ ہی میرے پاس اتنے وسائل تھے کہ میں ملازمت چھوڑ دیتی۔‘‘انھوں نے بتایا۔
دوسری طرف نچلے طبقے کی خواتین ناقص غذا کی وجہ سے دودھ کی پیداوار میں کمی کی شکایت کرتی ہیں ۔

صرف ماں کا دودھ پینے والے بچوں کی شرح:

سروے کے مطابق ابتدائی چھ ماہ میں صرف ماں کا دودھ پینے والے بچوں کی شرح خیبر پختون خواہ میں سب سے زیاد60.7%))اور کے پی ۔این ایم ڈی میں 59.0%) )جب کہ سب سے کم آزادجموں اور کشمیر میں (40.1%)اور بلوچستان میں43.9%))ہے۔
ایک سال کی عمر تک دودھ پلانے کی شرح سب سے زیادہ یعنی 68.4%اور دو سال کی عمر تک یہ شرح56.5%))ہوگئی2011 کی شرح کے لحاظ سے اس میں بالترتیب77.3%سے کمی اور54.3%سے اضافہ ہوا۔
ڈاکٹر عباسی کہتی ہیں کہ جن بچوں کو پیدائش کے چھ ماہ بعد تک ماں کا دودھ نہیں پلایا جاتا وہ زیادہ تر سانس کے انفیکشن جیسے نمونیہ اورڈائریا کا شکار ہوسکتے ہیں۔ڈاکٹر عباسی صلاح دیتی ہیں کہ بچوں کو پیدائش کے بعد ابتدائی چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ دینا چاہئے اور کم از کم ایک سال تک پلانا چاہئے۔
ڈاکٹر عباسی بتاتی ہیں کہ شہری علاقوں میں اکثر مائیں بچوں کو بریسٹ فیڈنہیں کروا پاتیں کیونکہ جہاں وہ کام کرتی ہیں انھیں ڈے کیئر سینٹر کی سہولت میسر نہیں ہوتی۔دوسری طرف زیادہ تر دفاتر اور ادارے بچوں کو ساتھ لانے کی اجازت نہیں دیتے۔وہ کہتی ہیں کہ’’ماں کے دودھ کا کوئی بدل نہیں اور کوئی بھی فارمولا دودھ اس کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ہمارے معاشرے کا تھوڑا طبقہ ہی بچوں کے لئے فارمولا ملک کا خرچہ برداشت کرسکتا ہے۔ڈاکٹر عباسی بتاتی ہیں کہ بہت سے والدین دودھ کا خرچہ برداشت نہ کرنے کی وجہ فارمولا دودھ کی جگہ کھلا ہوا دودھ استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے ہونے والی غذا کی کمی بچے کی جسمانی نشونماء پر اثر انداز ہوتی ہے اور بہت سی انفیکشن والی بیماریوں کا باعث بنتی ہے ۔
مایو کلینک کے شعبہء اطفال کے میڈیکل آفیسر ڈاکٹر عمران شاہ کہتے ہیں کہ چھ ماہ کی عمر کے بعد بچے کو نرم غذا جیسے (کھچڑی،سوجی،کھیر اور کیلا)شروع کرائی جاسکتی ہے۔لہٰذا جن بچوں کو ابتدا میں ماں کا دودھ نہیں دی گیا انھیں نرم غذا شروع کرادینی چاہئے۔
بچوں کو ماں کا دودھ نہ پلانے کی ایک وجہ ،اس بارے میں ماؤں کی ناکافی معلومات بھی ہے۔مثال کے طور پر بہت سی مائیں ایسی ہیں جن کا خیال ہے کہ اگر انھیں ٹی بی یا ہیپی ٹائیٹس ہے تو وہ بچے کو بریسٹ فیڈ نہیں کراسکتیں۔
ساتھ ہی ڈاکٹر شاہ اس بات کی بھی وضاحت کرتے ہیں کہ ایڈز کی مریض خواتین کو بریسٹ فیڈ کرانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔وہ خواتین جنھیں ٹی بی یا ہیپا ٹائٹس ہے وہ اپنے بچوں کو بریسٹ فیڈ کراسکتی ہیں ۔انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پیدائش کے بعد ایک گھنٹے کے اندر بچے کو ماں کا دودھ ضرور پلانا چاہئے کیونکہ ماں کے دودھ میں اینٹی باڈیزکولوسٹرم ہوتا ہے جو بچے کے جسم میں بیماریوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت کو بڑھاتا ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ماں کا دودھ ماں اور بچے کے درمیان تعلق کو اور زیادہ مضبوط کرتا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ’’بریسٹ فیڈ قدرتی طور پر حمل سے حفاظت کرتا ہے اور بریسٹ کینسر ہونے کے امکانات کو بھی کم کرتا ہے۔‘‘


نومولود کے لئے ویکسینیشن کیوں ضروری ہے ؟


بریسٹ فیڈنگ کو کس طرح فروغ دیں ؟

ڈاکٹر شاہ کہتے ہیں کہ بریسٹ فیڈ کو فروغ دینے کے لئے حکومتی سطح پر بہت سی چیزیں کی جاسکتی ہیں جیسے فیلڈ آفیسرز کے لیکچرز کا انتظام کرنا، جس میں وہ ماں کے دودھ کی اہمیت پر بات کریں ۔
’’جب لیڈی ہیلتھ ورکرز گھروں میں جاکر ان مسائل پر بات کرتی ہیں تو خواتین یہ سوچ کر ان کی باتوں پر توجہ نہیں دیتیں کہ یہ تو ہمارے علاقے کی ہی عورتیں ہیں یہ ہمیں کس طرح سکھا سکتی ہیں ۔
’’دوسری طرف اب جبکہ خواتین میں ملازمت کا رجحان بڑھتا جارہا ہے تو دفاتر میں ماؤں کے لئے علیحدہ نرسنگ روم کا انتظام بھی ضرور ہونا چاہئے۔‘‘ڈاکٹر شاہ صلاح دیتے ہیں ۔
ڈاکٹر عباسی یہ بھی کہتی ہیں کہ کمپنیوں کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے کی بھی ضرورت ہے ’’پاکستان میں زیادہ تر خواتین کو تنخواہ کے ساتھ چھٹیاں نہیں ملتیں جبکہ انھیں بریسٹ فیڈ کے لئے بھی آمدنی کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ کہتی ہیں ’’کسی ملک جیسے پاکستان میں بریسٹ فیڈ کا انتخاب صرف اپنی حد تک نہیں ہونا چاہئے بلکہ تمام خواتین کو یہ جاننا ضروری ہے کہ ان کے بچے کی صحت کے لئے بریسٹ فیڈنگ کتنی ضروری ہے۔
یہاںان سماجی اور معاشرتی حقائق کو تسلیم کرنے کی بھی ضرورت ہے جو ان خواتین کے اختیارات کو کم کرتے ہیں جو اپنے بچوں کو بریسٹ فیڈ کرانا چاہتی ہیں ۔


اس آرٹیکل کو انگریزی میں پڑھئے 

The post پاکستانی ماؤں کو اپنے بچوں کو بریسٹ فیڈ کراناکیوں مشکل لگتا ہے؟ appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
چھوٹے بچے کی آمد پر بڑے بچے کو نظر انداز نہ کریں https://htv.com.pk/ur/moms/siblings-issues Wed, 17 Jul 2019 09:45:52 +0000 https://htv.com.pk/ur/?p=33632 sibling issues

بچہ چھوٹا ہو یا بڑا جب اس کا چھوٹا بھائی یا بہن پیدا ہوتے ہیں تو ماں باپ خاص طور پر ماں کی زیادہ توجہ چھوٹے بچے پر ہو جاتی ہے ۔یہ چیز چھوٹے بچے کے لئے کافی تکلیف دہ ثا بت ہوجاتی ہے ۔اس سے بچہ چڑچڑا ہو جاتا ہے اور اپنے چھوٹے بھائی […]

The post چھوٹے بچے کی آمد پر بڑے بچے کو نظر انداز نہ کریں appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
sibling issues

بچہ چھوٹا ہو یا بڑا جب اس کا چھوٹا بھائی یا بہن پیدا ہوتے ہیں تو ماں باپ خاص طور پر ماں کی زیادہ توجہ چھوٹے بچے پر ہو جاتی ہے ۔یہ چیز چھوٹے بچے کے لئے کافی تکلیف دہ ثا بت ہوجاتی ہے ۔اس سے بچہ چڑچڑا ہو جاتا ہے اور اپنے چھوٹے بھائی یا بہن کو پسند نہیں کرتا یا اگر وہ اسے پیار کرنا بھی چاہتا ہے تو اسے روک دیا جاتا ہے یہ روک ٹوک اسے اچھی نہیں لگتی اور وہ پریشان ہو جاتا ہے ۔لہٰذااپنے بڑے بچے سے ایسا رویہ رکھیں کہ وہ آسانی سے اپنے چھوٹے بھائی یا بہن کے ساتھ ایڈجسٹ ہو جائے۔

اپنے بڑے بچے کو سکھائیں :

بڑا بچہ بھی اگر دو سال کی عمر سے کم ہے تو پہلے تو اس سے چھوٹے بچے کی حفاظت کرنی ہوتی ہے دوسرے اسے یہ سکھانا ہوتا ہے کہ وہ اپنے بھائی سے کس طرح پیش آئے۔بچے کو آرام سے اس کی گود میں لٹائیں تھوڑی دیر بعد اٹھا لیں ،دونوں بچوں کو ایک ساتھ اکیلا نہ چھوڑیں کیونکہ ایسا کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

ان کے آس پاس رہیں :

جب دونوں بچے ساتھ ہو ں تو ان کے قریب ہی رہیں ۔جب آپ دیکھیں کہ آ پ کا بچہ چھوٹے بچے کو دبوچ رہا ہے یا جھنجھوڑ رہا ہے تو اس کا دھیان کسی کھلونے ،اسنیکس یا کسی اور بات کی طرف لگا دیں ۔کیونکہ اگر آپ بچے کوایسا کرنے سے منع کریں گے تو وہ اسے اور زیادہ کرے گا ۔

چھوٹے بچے کو چھونے کا طریقہ بتائیں :

بچے کو بتائیں کہ کس طرح چھوٹے بچے کی کمر کو سہلانا ہے۔اسے بتائیں کہ اسے نرمی سے چھونا ہے اور ایسا کرنے پر اس کی تعریف کریں ۔اس طرح اسے معلوم ہوگا کہ اسے بچے کے ساتھ کیسے پیش آنا ہے۔

بچے سے محبت کا اظہار کریں:

چھوٹے بچے سے زیادہ بڑے بچے سے محبت کا اظہار کریں ۔اسے بار بار پیار کریں ،اسے بتائیں کہ وہ آپ کو بہت اچھا لگتا ہے۔اسے بار بار گلے لگائیں ۔ اسے زیادہ وقت اور توجہ دیں ،اس طرح بچہ کسی قسم کے احساس کمتری میں مبتلا نہیں ہوگا ۔

اس کو اپنے کاموں میں شریک کریں :

چھوٹے بچے کے کاموں میںاپنے بڑے بچے کو شریک کریں ۔اس سے چھوٹے چھوٹے کام کروائیں ،اسے بچے کے کھلونے اور تحائف دیکھنے دیں بچے کو تیار کرنے میں اس کی مدد لیں ۔اور اس کی تعریف کریں ۔

ہر بات کو چھوٹے بچے پر نہ رکھیں :

اپنی ہر بات کو چھوٹے بچے پر نہ رکھیں کہ ابھی بے بی سورہا ہے تو ہم باہر گھومنے نہیں جاسکتے ،بے بی سورہا ہے تم شور نہ کرو ،ابھی میں اس کے کپڑے بدل دوں تو پھر تمہارا کام کروں گی ۔ایسا کہنے کے بجائے اسے بتائیں کہ ابھی آپ مصروف ہیں اور تھوڑی دیر میں اس کا کام کردیں گی یا تھوری دیر میں اسے باہرگھمانے لے جائیں گی۔

اسے کسی بات کا احساس نہ دلائیں:

دونوں بچوں کا موازنہ نہ کریں ،کہ پیدائش کے وقت کس کا وزن زیادہ تھا ،کون زیادہ گورا ہے ،کس کے بال زیادہ اچھے ہیں ۔ایسی باتوں کو بچے تنقید سمجھتے ہیں اور خاموش ہو جاتے ہیں۔
گھر میں چھوٹے بچے کے آنے کے بعد باہر کی سرگرمیاں کم کریں ،سارا دھیان گھر اور بچوں کو دیں
تاکہ گھر کا ہر فرد نئے مہمان کے ساتھ ایڈجسٹ ہو سکے۔


بچوں کی جنسی نشوونما سے متعلق ضروری معلومات


The post چھوٹے بچے کی آمد پر بڑے بچے کو نظر انداز نہ کریں appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
آپ کا بچہ اسکول جانے سے خوفزدہ کیوں ہوتا ہے ؟ جانئے https://htv.com.pk/ur/moms/bullying-in-school Tue, 16 Jul 2019 11:20:22 +0000 https://htv.com.pk/ur/?p=33634 bullying in school

بلیئنگ یعنی ڈانٹ ڈپٹ اوربد معاشی صرف جسمانی تکلیف دینے تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ کئی طرح کی ہو سکتی ہے ۔یہ ذہنی اور جسمانی دونوں طرح کی ہوسکتی ہے۔اس کے ذریعے کسی کو جسمانی تکلیف بھی پہنچائی جاسکتی ہے ،جذبات کو ٹھیس پہنچائی جاتی ہے یا زبردستی وہ کام کرائے جاتے ہیں جو وہ […]

The post آپ کا بچہ اسکول جانے سے خوفزدہ کیوں ہوتا ہے ؟ جانئے appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
bullying in school

بلیئنگ یعنی ڈانٹ ڈپٹ اوربد معاشی صرف جسمانی تکلیف دینے تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ کئی طرح کی ہو سکتی ہے ۔یہ ذہنی اور جسمانی دونوں طرح کی ہوسکتی ہے۔اس کے ذریعے کسی کو جسمانی تکلیف بھی پہنچائی جاسکتی ہے ،جذبات کو ٹھیس پہنچائی جاتی ہے یا زبردستی وہ کام کرائے جاتے ہیں جو وہ نہیں کرنا چاہتے۔۲۰۱۷ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں بلئیگ تیزی سے بڑھتی جارہی ہے اور ۲۵ میں سے ۲۲ ممالک میں سب سے زیادہ سائبر بلیئنگ ہوتی ہے۔
اسکول میں ہونے والی اس قسم کی بدمعاشیوں کو اکثر نظر انداز کردیاجاتا ہے اورکبھی اس کی علامات بھی پتہ نہیں چل پاتیں ۔اکثر بچے اپنے ساتھ پیش آنے مسائل کو بیا ن کرنے سے بھی کتراتے ہیں ۔یہاں کچھ علامات بیان کی جارہی ہیں جن کی مدد سے آپ جان سکتے ہیں کہ آپ کے بچے کو اسکول میں دھمکایا جا رہا ہے۔

بلا وجہ سر میں یا پیٹ میں درد یا دوسری شکایات ہونا:

بچے کا روزانہ کسی تکلیف کی شکایت کرتے ہوئے اٹھنا خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ بچہ اپنی طرف سے بیماریاں بنا رہا ہے بلکہ اس کی پریشانی مختلف صورتوں میں ظاہر ہورہی ہے۔بچوں میں پیٹ کے درد کی اصل وجہ ان کی پریشانی ہوتی ہے جسے وہ بیان نہیں کر پاتے۔

اسکول نہ جانے کی ضد کرنا:

وہ بچہ جو پہلے خوشی خوشی اسکول جاتا تھا اوراب جاتے ہوئے گھبرا رہا ہے توآپ اس کی وجہ جاننے کی کوشش کیجئے ،اس کی ٹیچر سے پوچھئے کہ اسکول میں اس کا رویہ کیسا ہے ِ؟اگر اس کا رویہ اس کے مزاج سے مختلف ہے تو ہو سکتا ہے کہ اس کی وجہ اسکول میں ہونے والی بلئینگ ہو۔


بچوں کی جنسی نشوونما سے متعلق ضروری معلومات


کسی سوال کا معقول جواب نہ دینا یا جواب دینے سے کترانا:

اگر آپ کا بچہ کسی بات کا صحیح جواب نہ دے رہا ہو یا عام سوالوں’’ جیسے آج اسکول میں مزہ آیا؟‘‘کا جواب غیر دلچسپی سے دے تو اس جگہ مسئلہ کی بات لگتی ہے۔بہت سے لوگ سوالوں کا جواب نہیں دینا چاہتے اور ضروری نہیں کہ اس کی وجہ بلیئنگ ہی ہو۔لیکن بے ربط باتیں کرنا اور کہانیاں بنانا بھی خطرے کی علامت ہیں۔

غیر ںصابی سرگرمیوں میں عدم دلچسی یا کم دوست بنانا:

آپ کا بچہ اچانک ہی سالگرہ کی تقریبات میں جانا چھوڑ دے یا اسے منعقد ہونے والے کھیلوں کی تاریخ سے کوئی دلچسپی نہ رہے ۔وہ پہلے کی طرح غیرنصابی سر گرمیوں میں حصہ نہ لے رہا ہو اور زیادہ دوست بھی نہ بنا رہا ہو۔اگر وہ زیادہ وقت کھیلنے کے بجائے گھر میں رہ کر انٹر نیٹ کے ساتھ مصروف نظر آئے تواسے بلئینگ کی اہم نشانی بتایا جاتا ہے۔

خوفزدہ نظر آنا اور زیادہ ترگھر والوں کے ساتھ رہنا:

عام طور پر بچے سکون اور حمایت کے لئے اپنے گھر والوں کی پناہ لیتے ہیں ۔اگر آپ کا بچہ آپ یا گھر کے کسی اور فرد کے زیادہ قریب ہورہا ہے تو یہ علامت اس کے خوف کو ظاہر کرتی ہے۔خود ہی اسکول جانے کے بجائے ضد کرنا کہ میں کلاس تک امی کے ساتھ جائوں گا یا’’ جب تک میں کھیلوں آپ یہیں رکے رہیں‘‘۔یہ باتیں بھی تشویش کا باعث ہیں ۔

بلئینگ کو روکنے کے لئے اسکول اور والدین کی فوری مداخلت ضروری ہے۔اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے بچے کو ڈرایا ،دھمکایا جارہا ہے تو بلاکسی ہچکچاہٹ کے ٹیچر سے اس بارے میں بات کریں تاکہ وہ آپ کے بچے اور اس کے روئیے پر نظر رکھے اور اس کا خاص خیال رکھے۔


گرمیوں میں شیر خواربچوں کا خیال کیسے رکھا جائے؟


The post آپ کا بچہ اسکول جانے سے خوفزدہ کیوں ہوتا ہے ؟ جانئے appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
گرمیوں میں شیر خواربچوں کا خیال کیسے رکھا جائے؟ https://htv.com.pk/ur/moms/infant-in-the-heat Wed, 10 Jul 2019 10:27:59 +0000 https://htv.com.pk/ur/?p=33564 infant in the heat

گرمی کی آمد کے ساتھ ہی بڑے خود کو اس کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار کرلیتے ہیں۔جیسے خود کو نمی فراہم کرنا ،زیادہ تر گھر میں رہنا اور جتنا ممکن ہو پانی پینا ۔اسی طرح شیرخوار بچوں کو بھی گرمی سے بچائو کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ اس کے لئے اپنے والدین کے […]

The post گرمیوں میں شیر خواربچوں کا خیال کیسے رکھا جائے؟ appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
infant in the heat

گرمی کی آمد کے ساتھ ہی بڑے خود کو اس کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار کرلیتے ہیں۔جیسے خود کو نمی فراہم کرنا ،زیادہ تر گھر میں رہنا اور جتنا ممکن ہو پانی پینا ۔اسی طرح شیرخوار بچوں کو بھی گرمی سے بچائو کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ اس کے لئے اپنے والدین کے محتاج ہوتے ہیں ۔کیونکہ بعض اوقات گرمی ان کے لئے نا قابل برداشت ہوتی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق پچھلے ماہ ہی ڈسٹرک ہیڈ کوارٹر ہاسپٹل ساہیوال میںایئر کنڈیشن کی ناقص انتظام کی وجہ سے آٹھ بچے جاں بحق ہو گئے۔اس کے بعد پنجاب ہیلتھ ڈپارٹمنٹ نے ایک بیان جاری کیا جس کے مطابق اس قسم کے واقعے کے کا ذمہ دار ہاسپٹل اور ڈاکٹرزہوں گے۔ہم اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کرسکتے کہ چھوٹے بچوں کو بھی گرمی میں مکمل احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔گرمی کی وجہ سے وہ صحت کے بہت سے مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں اور جو پہلے ہی کسی بیماری میں مبتلا ہوں تو انھیں اور زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔

شعبہء امراض اطفال کے جنرل سیکریٹری ،امراض اطفال کے کنسلٹنٹ ڈاکٹراور ڈائو میڈیکل کالج کے پروفیسر ڈاکٹر محمد خالد شفیع کہتے ہیں کہ ہسپتال کی تعمیر ایئر کنڈیشن کی تنصیب کو مد نظر رکھتے ہوئے کی جاتی ہے۔
’’بد قسمتی سے ہمارے ملک میں اکثر جگہوں پر ہوا کے گزرنے کا نظام صحیح نہیں ہوتا۔اگر وہاںاے سی کام کرنا بند کردیں تو گھٹن کی وجہ سے ایک گھنٹہ بھی کھڑے رہنا مشکل ہوتا ہے۔ہوا کے گزرنے کا صحیح نظام نہ ہونے کی وجہ سے خطرناک نتائج سامنے آسکتے ہیں ـ‘‘۔انھوں نے تنبیہ کی۔
دوسری طرف گھروں میں بھی ہوا کا گزرصحیح ہونا چاہئے۔گرمی کے موسم میں اگرچھوٹے بچوںکا خیال نہ رکھا جائے تویہ بچوںمیں قوت مدافعت کمی کی وجہ سے انھیںبری طرح متاثر کرتا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ سخت موسم بھی بیماریوں کے مقابلے میں جسم کو کمزور کردیتا ہے۔

توجہ طلب علامات:

جراثیم اور بیکٹیریا گرمی میں تیزی سے نشونماء پاتے ہیں ۔اس وجہ سے چھوٹے بچے گرمی کی وجہ سے ہونے والی بیماریوں اورپانی کی کمی کا شکار ہوسکتے ہیں۔
مایو ہاسپٹل کے شعبہ اطفال کے میڈیکل آفیسر ڈاکٹرعمران شاہ کہتے ہیں کہ شدید گرمی اور شدید سردی دونوں ہی چھوٹے بچوں کے لئے خطرناک ہیں ۔لیکن گرمیوں میںچھ ماہ کے بچوں کو ماں کا دودھ پلانا چاہئے۔ماں کے دودھ میں80فیصد پانی ہوتا ہے اور اس طرح بچے کے جسم میں پانی کی کمی نہیں ہونے دیتا ۔
ڈاکٹر شفیع کی ایک یہ بھی تجویز ہے کہ شیر خوار بچوں کو دن میں پانی کے بجائے وقفے وقفے سے ماں کا دودھ دیا جائے۔’’اگر علاما ت ظاہر نہ ہوں تو دوسری نشانیوں پر توجہ دیں ۔کیونکہ جب گرمی اثر دکھاتی ہے تو بچہ بے چین ہو جاتا ہے اور دودھ پینا چھوڑ دیتا ہے۔‘‘

قدرتی وسائل کا استعمال کریں:

مایو ہاسپٹل آنے والے بہت سے والدین دیہاتوں سے آتے ہیں اوراس پریشانی کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ گائوں میں بجلی اور ایئر کنڈیشن نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کو ٹھنڈک نہیں پہنچا پاتے ۔
ڈاکٹر شاہ والدین کو صلاح دیتے ہیں کہ ایسی صورت میں بچوں کو تپش اور گرمی سے بچانے کے لئے درخت کے سائے میںلٹایا جائے ۔‘‘وہ مزید کہتے ہیں کہ بچے کو دن میں 2۔3مرتبہ نہلایا جائے ۔
جلدی جلدی نہانے والے بچے گرمی دانوں سے بھی محفوظ رہتے ہیں ،جس سے گرمی میں بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں ۔ یہ دانے ایک وقت پر خود ہی ختم ہو جاتے ہیں لیکن اگریہ زیادبڑھ جائیں اور ٹھیک نہ ہوں تو ڈاکٹر کو دکھانا چاہئیں۔

بچوں کو ہیٹ اسٹروک سے بچانے کے طریقے:

ڈاکٹر شاہ بتاتے ہیں کہ اگر بچے کے جسم میں پانی کی کمی ہو جائے توبچے کے سر کے درمیان کھال اندر دھنس جاتی ہے ،جلد اور زبان خشک ہو جاتی ہے اور گہرا زرد پیشاب آتا ہے۔ایسے میں والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچے کو لے کر صبح 11سے شام 5بجے تک گھر سے نہ نکلیں تاکہ ان کا بچہ تیز دھوپ سے محفوظ رہے۔
مزید یہ کہ پاکستان میں اکثر والدین بچے کو بالکل لپیٹ کر رکھتے ہیں ۔لیکن ضیاء الدین ہاسپٹل کے ماہر اطفال ڈاکٹر زین یوسف علی مشورہ دیتے ہیں کہ بچے کو اس طرح لپیٹنے کے بجائے ہلکے اور ڈھیلے کپڑے پہنائیں جائیں۔6ماہ سے بڑے بچوں کو پانی پلانے کے بارے میں ڈاکٹر یوسف کہتے ہیں کہ بچے کو بیماریوں سے بچانے کے لئے ابلا ہو پانی پلایا جائے۔اکثر مریض کہتے ہیں کہ ہم فلٹر کیا ہوا پانی پیتے ہیں تو میں انھیں ہمیشہ کہتا ہوں کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ،اس لئے بہتر یہی ہے کہ پانی کو15سے 20 منٹ کے لئے ابالا جائے۔
گھر کو صاف رکھنا بھی ضروری ہے کیونکہ گندگی کی وجہ سے بچے دست اور الٹی کا شکار ہوجاتے ہیں۔’’اگر ہم ماحول کو صاف نہیں رکھیں گے تو ہیضہ پھیلنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔‘‘


یہ آرٹیکل انگریزی میں پڑھنے کے لئے کلک کریں 


تحریر  :   عشرت سعید      

اردو ترجمہ :    سعدیہ اویس  


The post گرمیوں میں شیر خواربچوں کا خیال کیسے رکھا جائے؟ appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>