بارش کے موسم میں بیماریوں سے محفوظ رہنے کے طریقے

1,114

بارش کی بوندیں دیکھ کر ہر شخص کا دل بچہ بن جاتا ہے اور ہر فرد بارش کی جل تھل سے لطف اندوز ہونا چاہتا ہے۔ لیکن بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ اچانک ہونے والی بارش کے باعث اسکول اور دفتر سے وآپس آنے والے افراد دیر تک بارش میں بھیگتے رہتے ہیں جس سے انھیں ٹھنڈ لگ جاتی ہے اور وہ بیمار ہو جاتے ہیں۔ لیکن بارش میں بھیگنے کے بعد اگر چند احتیاطی تدابیر اپنا لی جائیں تو کئی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے ۔

۱۔گیلے کپڑے آدھے گھنٹے سے زیادہ مت پہنیں

اگر آ پ گھر میں ہی بارش میں نہار رہے ہیں تو کوشش کریں کہ آدھے گھنٹے سے زیادہ بارش میں نہ بھیگیں ۔ خاص طور پر وہ بچے جو حساس طبیعت رکھتے ہیں اور جلد بیمار ہو جاتے ہیں انھیں جلد سے جلد خشک کر کے صاف اور قدرے گرم کپڑے پہنائیں ۔ چونکہ موسم کی پہلی بارش میں آلودگی شامل ہوتی ہے اس لئے کوشش کریں کہپہلی بارش میں قطعی نہ بھیگیں ۔زیادہ دیر تک گیلے کپڑے پہنے رہنے سے پھیپھڑوں میں ٹھنڈ بیٹھ جاتی ہے لہذا تمام گیلے کپڑے (انڈر گارمنٹس اور موزے )فوری تبدیل کر لینے چاہئیں ۔

۲۔گرم پانی سے غسل کریں

بارش چاہے مون سون کی ہو یا پھر سردی کی، بارش میں ایک دفعہ نہانے کے بعد فوری طور پر گرم پانی سے غسل کر لینا چاہئے ،گرم پانی میں نیم کے پتے یا پھٹکری ڈال کر یا پھر اینٹی سیپٹک محلولڈال کر غسل کرنا چاہئے ۔بارش میں نہانے کے بعد بیوٹی سوپ یا تیز خوشبو والا باڈی واش استعمال کرنے کے بجائے اینٹی سیپٹک صابن ہی استعمال کرنا چاہئے ۔

۳۔ اسکرب کا استعمال

بعض دفعہ بچے گلی محلوں میں یا پارک میں دوستوں کے ساتھ بارش سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور جب گلی محلوں میں پانی بھرتا ہے تو تمام جراثیم پیروں پر حملہ آورہوتے ہیں لہذا بارش میں نہانے کے بعد گرم پانی میں سرکہ اور سمندری نمک ڈال کر پائوں ڈبونا چاہئے اور ساتھ ہی اسکربر یا برش سے پائوں کی انگلیوں کے درمیان اور ایڑھیوں کو اچھی طرح رگڑنا چاہئے تاکہ ہر طرح کے فنگل انفیکشن سے بچا جا سکے ۔

۴۔ بلو ڈرائیر کا استعمال

کوشش کریں کہ سورج غروب ہونے کے بعد بارش میں نہ نہائیں ۔ اور اگر مجبوری کی وجہ سے بارش میں بھیگ جائیں تو فوری طور پر پیروں اور بالوں کو ہئیر ڈرائر سے خشک کر لیں ۔ کیوں کہ بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ بارشوں میں راستے بند ہونے کی وجہ سے اکثر خواتین دوبٹہ پہنے پہنے دیر تک بھیگتی رہتی ہیں جس سے سر میں ٹھنڈ جم سکتی ہے یا نوجوان گیلے موزے اور جوتے پہنے بارش کے پانی میں گھنٹوں کھڑے رہتے ہیںجس سے پیروں کے ناخنوں میں فنگل انفیکشن ہو جاتا ہے لہذا بارش میں نہانے کے بعد فوری طور پر اپنے پیر اورسر ہئیر ڈرائیر سے خشک کر لیں ۔

۵۔ موائسچرائزر کا استعمال

بارش کے موسم میں جلد بہت خشک ہو جاتی ہے لہذا بارش میں نہانے کے بعد پورے جسم کو موائسچرائز کرنا بہت ضروری ہے ،لہذا باڈی آئل یا موائسچرائزر کا استعمال کریں تاکہ خارش اور داد سے بچا جا سکے یا نہانے کے گرم پانی میں ایلو ویرا جیل اور ناریل کے تیل کی چند بوندیں شامل کر لینی چاہئیں ۔

۶۔ گرم مشروبات کا استعمال

بارش کے موسم میں مرغن اور تلی ہوئی اشیاء کا استعمال بڑھ جاتا ہے جس کی وجہ سے وائرل انفیکشن (نزلہ ،کھانسی )زیادہ جلدی حملہ آور ہوتے ہیں ،بارش چاہے سردیوں کی ہو یا گرمیوں کی ،بارش میں نہانے کے بعد ٹ ھنڈے پانی اور ٹھنڈے مشروبات پینے سے گریز کرنا چاہئے ،بارش میں نہانے کے بعد گرم چائے ،گرین ٹی سوپ کا استعمال کرنا چاہئے ۔انڈیا میں چونکہ بارشیں زیادہ ہوتی ہیں اس لئے وہاں بارش میں بھیگنے کے بعد تلسی ،شہد اور کالی مرچ ڈال کر مصالحہ چائے تیار کی جاتی ہے اور اس کا استعمال مون سون میں کثرت سے کیا جاتا ہے

۷۔ بارش میں سوئمنگ پول میں نہ نہائیں

بارش کے دوران سوئمنگ پول میں نہانے سے گریز کرنا چاہئے کیوں کہ پول کے گرد جمع مٹی ،گرد وغبار سوئمنگ پول کے پانی میں مل جاتا ہے اور سوئمنگ کے دوران گندا پانی منہ میں
بھی جا سکتا ہے جس سے بیماریاں تیزی سے پھیلتی ہیں ۔

۸۔ باش میں نہانے کے بعد ٹھنڈے یا بند کمرے میں نہ بیٹھیں

بارش میں نہانے کے بعد اے سی والے کمرے یا گھٹن والے کمرے میں دیر تک بیٹھے رہنے سے گریز کرنا چاہئے کیوں کہ بارش میں نہانے کے بعد ہمارے جسم کی قوت مدافعت کم ہو جاتی ہے اوراگر ہم کسی ایسے کمرے میں بیٹھیں جہاں پہلے سے ہی وائرس موجود ہو تو وہ بہت جلد آپ پر حملہ آور ہو سکتے ہیں لہذا بارش میں نہانے کے بعد اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف ہو جانا چاہئے

۹۔ پانی اور وٹامن سی کا استعمال

بارش میں نہانے کے بعد زیادہ سے زایدہ پانی کا استعمال کرنا چاہئے جب ہم اپنے جسم کو ہائڈریٹ کرتے ہیں تو ہمارا جسم وائرل انفیکشن (سردی اور زکام سے لڑنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے اور بارش میں نہانے کے بعد چونکہ ہمارے جسم کی قوت مدافعت کم ہوتی ہے اور جب ہم پانی پیتے ہیں تو جراثیم اور بیکٹٰیریا پیشاب کے ذریعے خارج ہو جاتے ہیں آپ چاہیں تو پانی کی جگہ وٹامن سی والے پھلوں کا رس بھی پی سکتے ہیں کیوں کہ وٹامن سی زکام کے جراثیم سے لڑنے میں مدد کرتا ہے

۱۰۔جوتوں کی صفائی

اگر بارش میں آپ کے جوتے بھیگ گئے ہیں تو انھیں ہیئر ڈرائر سے مت خشک کریں کیوں کہ اس طرح جوتے اندر سے نم رہیں گے اور آپ کے جسم میں سردی جم سکتی ہے گرم ہوا سے جوتا خشک کرنے سے جوتا باہر سے سخت ہو کر چمڑا ٹوٹنے لگیگا ۔جوتوں میں خشک تولیہ رکھ کر کچھ دیر کے لئے چھوڑ دیں پھر تولیہ نکال کر دو دن تک ہوا میں ہی جوتوں کو خشک کریں تاکہ اس بات کا اطمینان ہو سکے کہ جوتے اندر سے خشک ہو گئے ہیں ۔

مزید جانئے:گھرکوکریں مکڑیوں سے پاک

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...