روزمرہ استعمال کی اشیاء نقصان دہ بھی ہوسکتی ہیں

ہر کام کو آسان سے آسان تر بنانے کے لیے بے شمار الیکٹرانکس اشیاء ایجاد کرلی گئی ہیں جو گھنٹوں کا کام منٹوں میں اور منٹوں کا کام سیکنڈوں میں انجام دیتی ہیں ان تمام چیزوں کا سب سے بڑا اور اہم فائدہ وقت کی بچت ہی ہے۔ بہ صورت دیگر ان کے نتائج کبھی کبھار مطلوبہ نہیں ہوتے۔ الیکٹرونکس اشیاء استعمال کرنے کے لیے مکمل طور پر آگاہی کا ہونا ضروری ہے۔ تاہم ان کے علاوہ دیگر کئی اشیاء جو سائز میں چھوٹی بھی ہوسکتی ہیں۔(ائیربڈزاور نیل کٹروغیرہ) الیکٹرونکس اشیاء کی طرح یہ بھی نقصان دہ ہوسکتی ہیں۔ اس لیے ایسی تمام چیزوں کا استعمال نہایت احتیاط اور ہوشیاری سے کرنا ضروری ہے۔

*کاٹن بڈز

عام طور پر یہ کاٹن بڈز کا نوں کی صفائی کے لیے استعمال کیئے جاتے ہیں ان بڈز کے دونوں سروں پر روئی کی تہہ لپٹی ہوئی ہوتی ہے جس سے کان کا میل کچیل باہر نکالا جاتا ہے۔ کاٹن بڈز کے استعمال میں ذرا سی بے احتیاطی سماعت اور کانوں دونوں کے لیے نقصان دہ ہوسکتی ہے۔ بڈز کو کان کے بہت اندر تک نہ لے جائیں اور نہ ہی باربار گول گول گھمائیں۔ ہفتہ میں ایک بار کانوں کی صفائی کریں اور بہتر یہ ہی ہوگا کہ ان بڈز کو بے بی آئل میں ڈب کر کے کان صاف کریں جس سے صفائی کا عمل آسان ہوجائے گا۔

*نیل کٹر

جب بھی نیل کٹر کا استعمال کریں اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ وہ صاف ستھرا ہو بہ صورت دیگر اس میں موجود بیکٹیریاز آپ کو مختلف بیماریوں میں مبتلا کرسکتے ہیں۔کیونکہ اکثر افراد کو دیکھا گیا ہے کہ وہ ناخن کاٹنے کے بعد نیل کٹر جوں کا توں کٹ بوکس میں رکھ دیتے ہیں جس کے بعد دوسرے افراد بھی اسی کٹر کو استعمال کرتے ہیں ضروری تو یہ ہے کہ گھر میں موجود ہر فرد کا ذاتی کٹر ہو اور ہر بار اسے استعمال کرنے کے بعد ڈیٹول سے اچھی طرح صاف کرکے پلاسٹک ائیر ٹائٹ بیگ میں محفوظ رکھیں۔

*مائیکرو ویو

ہو سکتا ہے کہ مائیکروویوو کا استعمال آپ کا بہت سا وقت بچا دیتا ہو لیکن بدلے میں یہ آپ کی صحت بھی چوری کرلیتا ہے۔ مائیکروویو کی ہیٹ یا گرمائش میں جوبھی کھانا تیار یا گرم کیا جاتا ہے یہ ہیٹ اس کھانے میں موجود تمام غذائی اجزاء کو تباہ کردیتی ہے۔ اور آپ کی صحت مند کھانے سے مزین پلیٹ مائیکرویومیں گرم کرنے کے بعد ’’Dead‘‘ پلیٹ میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ کیونکہ مائیکرویومیں موجود تپش براہ راست اس میں موجود کھانے پر پڑتی ہے جس سے وہ تباہ ہوجاتا ہے۔

*نان اسٹک برتن

یوں تونان اسٹک برتنوں کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس میں کھانا پکاتے ہوئے چپکتا نہیں اور جلدی تیار ہوجاتا ہے اس کے علاوہ اسے دھونا یا صاف کرنا آسان ہوتا ہے لیکن اب ایک نئی تحقیق یہ بھی سامنے آئی ہے کہ نان اسٹک برتنوں کی تیاری میں ایک ایسی کوٹنگ کی جاتی ہے جسے Teflon (کیمیائی مادے کا ایک معروف تجارتی نام جسے باورچی خانے کے برتنوں پر چڑھاتے ہیں) کہتے ہیں یہ برتن کو نان اسٹک برتن میں تبدیل کردیتی ہے۔ یہ کوٹنگ یہ تہہ Polyterafluorothylene یا PTFE کہلاتی ہے۔ جب PTFE لگے نان اسٹک برتن کو کھانا پکانے کے لیے گرم کیا جاتا ہے تب اس میں سے تیزابیت سے بھرپور گیسزنکلتی ہیں جو کہ کینسر، جگر کی خرابی، اعصابی کمزوری کے ساتھ دیگر کئی قسم کی جسمانی بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔

*ہیٹرڈ رائیر

اس کے بارے میں جان کر ہرگز حیران ہونے کی ضرورت نہیں یہ چھوٹی سی مشین بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ وہ وقت اچھا تھا جب گیلے بالوں کو قدرتی دھوپ اور ہوا میں خشک کیا جاتا تھا جس سے بال بڑھتے اور ان کی چمک میں بھی اضافہ ہوتا تھا لیکن کیونکہ اب وقت کی کمی کاشکار ہر دوسرا فرد ہی نظر آتا ہے اس لیے گیلے بالوں کو جلد سے جلد خشک کرنے کے لیے ہیئرڈرائیر کا استعمال کیا جانے لگا۔ لیکن اس کے کچھ نقصان ہیں۔ ڈرائیر سے خارج ہونے والی Heat گرمائش یا تپش بالوں کے لیے بے حد نقصان دہ ہوتی ہے۔ بالوں کو بلوڈرائی کرنے سے وہ Flash Dying کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہ نہ صرف بالوں سے موئسچرائزر یا نمی کا خاتمہ کردیتا ہے بلکہ بالوں اور اسکی جڑوں میں موجود قدرتی پانی کو بھی ڈرائیر کا بار بار استعمال خشک کردیتا ہے۔ جسے ڈی ہائیڈریشن آف ہیئر کہا جاتا ہے۔ ہیئر ڈرائیر کا مسلسل یا باربار کا استعمال بالوں کو خشک سے خشک تر بناکر انہیں روکھا اور بے رونق کردیتا ہے جبکہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اس کی گرمائش یا تپش سے بال ٹوٹنے اور گرنے بھی لگتے ہیں اس لیے مستقل طور پر ڈرائیر استعمال کرنے والی خواتین صرف خاص خاص مواقعوں اور کبھی کبھار ہی اس سے استفادہ حاصل کریں۔

*ائیر فریشنر

بہ ظاہر ائیر فریشنر کا استعمال سانسوں کو خوشگوار تاثر دیتا ہے اس میں دستیاب انواع و اقسام کی خوشبویات گھر اور دفتر کے ماحول کو خوبصورت بناتی ہیں لیکن کیا آپ یہ بات جانتے ہیں کہ اس میں ایسی زہریلی گیسز اور کمیکل شامل ہوتے ہیں جس سے سانس کی کئی بیماریاں خاص طور سے استھماکا سامنا کرنا پڑسکتا ہے یہاں تک ان بوتلوں پر ’’پیور‘‘ اور ’’نیچرل‘‘ کا ٹیگ نمایاں طور پر چسپاں کیا جاتا ہے لیکن حقیقتاً ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا ائیر فریشنر میں عام طور پر Phthalates نامی کیمیکل پایا جاتا ہے جو ہارمونزسسٹم کو ایب نارمل کرسکتا ہے اس کی مہک سے ڈلیوری یا پیدائش کے عمل میں پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں اس لئے کوشش کریں کہ اپنے گھر اور دفتر کو مہکانے کے لیے ان مصنوعی فریشنر کے بجائے قدرتی فریشنر جیسے پودینہ، لیمن وغیرہ کا استعمال کریں۔

*سن اسکرین:۔

دنیا کی ہر عورت بلکہ اب تو مرد بھی سورج کی براہ راست شعاعوں سے بچنے کے لیے سن اسکرین یا سن بلاک کا استعمال کررہے ہیں لیکن کیا آپ کو اس بات کا اندازہ ہے کہ یہ سن اسکرین آپ اپنے چہرے پر اپلائی کررہے ہیں وہ’’نیچرل‘‘ ہے یا نہیں۔ ایسے نیچرل سن اسکرین جن میں ٹیٹنیم ڈائی آکسائیڈ اور زنک آکسائیڈ شامل ہوں استعمال کرنا بہتر ہے بجائے ان سن اسکرین کے جو غیر معیاری ہونے کے ساتھ نیچرل بھی نہیں ہوتے اور وہ اسکن پر اچھے طریقہ سے جذب بھی نہیں ہوپاتے۔

*موبائل فون

اسمارٹ فونز نے شاید زندگی اور ذرائع ابلاغ کو آسان سے آسان تر بنادیا ہے لیکن اس کے بدلے میں یہ زندگی بھر کے لیے کئی بیماریوں میں مبتلا کرسکتا ہے۔ اس کے منفی تاثرات بہت زیادہ ہیں جس کی وجہ سے چڑچڑے پن، ذہنی دباؤ، کمراور کندھوں کا درد اعصابی بیماری کے ساتھ ساتھ بصارت پر بھی اس کے منفی اثرات پڑے ہیں نہ صرف یہ بلکہ ان موبائل فونز سے خارج ہونے والی شعاعیں اسکن کینسر کا سبب بھی بن سکتی ہیں اس لیے اس کا کم سے کم استعمال ہی آپ کی صحت کے لیے بہتر ہے۔

loading...
شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...