وہ چیزیں جو آپ کو بالوں سے محروم کردیں گی

821

یہ بات ٹھیک ہے کہ خواتین کے مقابلے میں مردوں میں بالوں کی کمی خصوصا گنج پن کا امکان زیادہ ہوتا ہے تاہم خواتین میں بھی بال کاگرنا عام ہوتا ہے اور ان کے لیے یہ امرانتہائی مایوس کن ثابت ہوتا ہے۔لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ بالوں کے گرنے یا گنج پن اکثر آپ کی اپنی عام عادتوں کا نتیجہ ہوتا ہے؟ان میں پروٹین کی کمی یا وٹامن کی زیادتی سے لے کر متعدد چیزیں شامل ہوسکتی ہیں۔ان چیزوں کے بارے میں جانے جو آپ کو بالوں جیسی قیمتی نعمت سے آہستہ آہستہ محروم کرتی ہیں۔

پروٹین کی کمی

اگر آپ کی غذا میں مناسب مقدار میں پروٹین شامل نہ ہو تو آپ کا جسم اسے پورا کرنے کے لیے بالوں کی نشوونما روک دے گا۔ ایک تحقیق کے مطابق پروٹین کی کمی کی صورت میں بالوں کے گرنے کی رفتار دو سے تین ماہ میں بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اس سے بچنے کے لیے غذا میں مچھلی، انڈے اور گوشت کا استعمال معمول بنانا پڑتا ہے، تاہم گوشت پسند نہیں تو مٹر، چنوں، گریوں، سبز پتوں والی سبزیوں، دودھ وغیرہ کا بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ہیٹ یا ٹوپی کا بہت زیادہ استعمال

بالوں کو کور کرنے کے لیے ٹوپی یا ہیٹ بہترین ہوتے ہیں جو کہ سر کو سورج کی روشنی اور ماحولیاتی عناصر سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق ٹوپیاں بار بار سر کے مخصوص کو رگڑتی ہیں، خصوصاً اگر انہیں مسلسل پہنا جائے۔ ایسا ہونے پر بالوں کے غدود ورم کا شکار ہونے لگتے ہیں اور ان کے تیزی سے گرنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

ہارمونز کے مسائل کا بڑھنا

جب خواتین ہارمونز کے مسائل کا شکار ہوتی ہیں تو انہیں بالوں کے گرنے کا تجربہ ہوسکتا ہے، عام طور پر اس کے ساتھ کیل مہاسے اور چہرے پر بال اگنے جیسی علامات بھی سامنے آتی ہیں، اس مسئلے سے نجات کے لیے ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ادویات کا استعمال مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

جینز میں شامل ہونا

بالوں کے رنگوں کی طرح اکثر جینز بالوں کے گرنے کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس کی متعدد جینیاتی وجوہات ہوسکتی ہیں تاہم خواتین کے مقابلے میں مردوں میں اس سے گنج پن کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

آپ کی غذا

جو کچھ آپ کھاتے ہیں وہ بھی بالوں کی صحت پر اثرانداز ہوتا ہے۔ بالوں کو نشوونما کے لیے بہت زیادہ توانائی اور غذائیت کی ضرورت ہوتی ہے، بالوں کے غدودوں کے خلیات جسم کے کسی بھی حصے کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے تقسیم اور بنتے ہیں، تو یہ ضروری ہے کہ صحت بخش اور متوازن غذا کا استعمال کیا جائے۔ غذا میں کچھ اجزا جیسے بی وٹامنز، زنک اور آئرن کی کمی بالوں کے اگنے کے سائیکل کو متاثر کرکے قبل از وقت گنج پن کا شکار بناسکتا ہے۔

جذباتی تناؤ

جذباتی تناؤ جسمانی تناؤ کے مقابلے میں بالوں کے گرنے کی رفتار بہت زیادہ تو نہیں بڑھاتا مگر اس سے ایسا ہوتا ضرور ہے۔ کسی پیارے کی موت یا والدین کی بیماری وغیرہ کا ذہنی تناؤ بالوں کی نشونما کو نقصان پہنچاتا ہے۔

خون کی کمی

خون یا آئرن کی کمی بالوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔ اینیما نامی اس مرض کا تعین تو بلڈ ٹیسٹ ہوسکتا ہے تاہم بالوں کو اس سے بچانا اتنا آسان نہیں ہوتا کیونکہ اکثر لوگوں میں تشخیص ہی نہیں ہوپاتی۔ تاہم اگر خون کی کمی اور بالوں کے گرنے کا علم ہوجائے تو آئرن سپلیمنٹ اس مسئلے سے تحفظ دے سکتا ہے۔

وٹامن بی کی کمی ہونا

جسم میںوٹامن بی کی کمی بھی بالوں سے محرومی کی وجہ بنتی ہے۔ اینیما کی طرح اس سے تحفظ بھی سپلیمنٹ سے ممکن ہے، یا اپنی غذائی عادات تبدیل کرکے مچھلی، گوشت، نشاستہ دار سبزیاں اور پھل کو خوراک کا حصہ بنالیں۔

بالوں کے مختلف اسٹائلز

بالوں کے بہت زیادہ اسٹائلز اور ٹریٹمنٹ بھی گنجا کرسکتے ہیں۔ ان اسٹائلز اور ٹریٹمنٹ کے نتیجے میں بالوں کی جڑیں کمزور ہوتی ہیں اور اگر وہ گرنا شروع ہوجائیں تو ان کی دوبارہ نشوونما کا امکان بھی بہت کم ہوجاتا ہے۔

بال نوچنا

اگر تو آپ اضطراری طور پر بالوں کو نوچنے کی عادت کا شکار ہیں تو جان لیں ایسا کرنے کی صورت میں جو بال سر سے الگ ہوگا اس کی جگہ کوئی اور نہیں لے گا۔

عمر کا بڑھنا

یہ بات غیرمعمولی نہیں کہ عمر بڑھنے کے ساتھ بال پتلے یا گرنا شروع ہوجاتے ہیں، جس کی اب تک طبی ماہرین کوئی واضح وجہ دریافت نہیں کرسکے۔


اس بارے میں جانئے : بالوں کو خوبصورت اورگھنا بنانے کے لئےاس ٹپ پر عمل کریں


شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...