ہومیوپیتھی – ایچ ٹی وی اردو https://htv.com.pk/ur Tue, 29 Mar 2022 05:50:03 +0000 en-US hourly 1 https://htv.com.pk/ur/wp-content/uploads/2017/10/cropped-logo-2-32x32.png ہومیوپیتھی – ایچ ٹی وی اردو https://htv.com.pk/ur 32 32 نوزائیدہ بچوں میں یرقان : اسباب و علاج https://htv.com.pk/ur/homeopathy/newborn-jaundice Fri, 22 Mar 2019 10:09:12 +0000 https://htv.com.pk/ur/?p=30916 newborn jaundice

انسان کی پیدائش قدرت کی طرف سے ایک قدرتی عمل ہے اور یہ عمل تا قیامت جاری و ساری رہے گا۔آج سے 500 ،600 سال پہلے جب میڈیکل سائنس نے اتنی ترقی نہیں کی تھی تو اس وقت بھی بچے بنا کسی مسائل کے پیدا ہوتے تھے کیونکہ یہ کوئی بیماری نہیں بلکہ ایک فطری […]

The post نوزائیدہ بچوں میں یرقان : اسباب و علاج appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
newborn jaundice

انسان کی پیدائش قدرت کی طرف سے ایک قدرتی عمل ہے اور یہ عمل تا قیامت جاری و ساری رہے گا۔آج سے 500 ،600 سال پہلے جب میڈیکل سائنس نے اتنی ترقی نہیں کی تھی تو اس وقت بھی بچے بنا کسی مسائل کے پیدا ہوتے تھے کیونکہ یہ کوئی بیماری نہیں بلکہ ایک فطری عمل ہے ۔

موجودہ دور کا اگر گزشتہ ادوار سے موازنہ کریں تو اس دور میں علمی معیار گزشتہ دور سے کافی بلند ہے لیکن اس کے باوجود کہ جب کوئی عورت حاملہ ہوجاتی ہے تو میڈیا اور مافیا کی گئی برین واشنگ کے نتیجے میں خاندان اور گھر والے ایسا ظاہر کرتے ہیں کہ جیسے عورت کا کوئی خطرناک مرض لاحق ہوگیا ہے اور ایک منٹ بھی ضائع کیے بغیر لیڈی ڈاکٹر کی طرف دوڑ لگائی جاتی ہے میاں بیوی بھی اس معاملے کو لے کر کافی حساس ہوجاتے ہیں کہ جیسے یہ کوئی موذی بیماری ہو۔

اسباب :

جب حاملہ عورت کا کیس کسی ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے تو وہ سب سے پہلے اس کا رجسٹریشن کرلیتی ہے۔ پھر اس کے الٹرا ساونڈ اور بلڈ ٹیسٹ کرائے جاتے ہیں اور ڈیلیوری ہونے تک کئی بار الٹرا ساونڈ کرایا جاتا ہے جس سے ماں اور بچے کی صحت پر برُے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ بغیر کسی جسمانی ضرورت کے حاملہ کو زبردستی ملٹی وٹامن اور طاقت کی ادویات کھلائی جاتی ہیں اور یہ ادویات مسلسل وہ 9 ماہ تک کھاتی رہتی ہے۔ اکثر حاملہ عورتوں کو ان ادویات کی ضرورت نہیں ہوتی ہے لہذا ان ادویات کے مضر اثرات شکم میں موجود بچے کے جگر پر آنا شروع ہوجاتے ہیں ۔ حاملہ عورت بھی ان ادویات کے بھاری اور گرم اثرات کا شکار ہوجاتی ہے۔ پھر جب بچےکی پیدائش ہوتی ہے تو پیدائشی طور پر یرقان میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

پھر یرقان کے نام سےنومولود بچے کا علاج شروع ہوجاتا ہے اور بچے کی صحت دواوٌں سے مزید خراب ہوجاتی ہے جو مستقبل میں کسی کمزوری یا بیماری کی شکل میں سامنے آتی ہےجب کہ اسباب پر کوئی غور نہیں کرتااور یہ عمل ھمارے معاشرے میں رواج پاچکا ہے ۔ گزشتہ سالوں میں کئی واقعات ایسے پیش آئے ہیں جن میں ٹریفک جام کی وجہ سے ماں نے اپنے بچے کو ایک سڑک پر جنم دیا اور بچہ اور ماں دونوں کو کوئی نقصان نہ پہنچا اسی طرح پرانے زمانے میں بھی بچے گھروں پر ہی پیدا ہوتے تھے اور اس طرح کے کوئی جدید آلات نہیں ہوتے تھے کیونکہ یہ ایک فطری عمل ہے ۔

علاج :

china-6: اس دوا کا ایک قطرہ آب مقطر میں ملا کر چند قطرے بچے کے منہ میں ٹپکائیں ۔ اس دوا کا استعمال ایک دن میں تین بار کیا جائے اور کم از کم ایک ماہ تک بچے کو پلائے۔
chelidonium: جب بچے کی آنکھیں اور ناخن پیلے ذرد ہوجائیں ، دودھ پلانے پر متلی ہوتی ہو تو اس دوا کو بھی درج بالا طریقے سے استعمال کریں ۔
bryonia: بچے کو ہلکا بخار، بے چینی ،دودھ ہضم کرنے کی صلاحیت میں مشکلات ،پیٹ درد کی شکایت ہو تو یہ دوا بھی درج بالا طریقے سے استعمال کریں ۔
lycopodium: پیدائشی یرقان کے لئے یہ دوا بہت فائدہ مند ہے اگر بچہ ماں کا دود ھ پی رہا ہے تو یہ دوا صرف ماں کوبھی پلائی جاسکتی ہے اور بچہ استعمال نہ بھی کریں تو فائدہ پہنچے گا۔

The post نوزائیدہ بچوں میں یرقان : اسباب و علاج appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
ہومیوپیتھی کے علاج میں کیا کریں کیا نہیں۔۔۔۔ https://htv.com.pk/ur/homeopathy/homeopathy-medicine-in-urdu Wed, 05 Sep 2018 11:56:58 +0000 https://htv.com.pk/ur/?p=30177 homeopathy

جب ہومیوپیتھک علاج کی بات آتی ہے تو اس کے ساتھ بہت سی باتوں کا خیال رکھنا اور بہت سی باتوں سے بچنا ضروری ہوتا ہے۔نیچے دی گئی فہرست کو غور سے پڑھیں تاکہ طریقہ علاج سے پوری طرح فائدہ حاصل کرسکیں۔ دو اکھانے سے آدھا گھنٹہ پہلے کھاناکھالیں: کسی بھی طرح کی ہومیوپیتھک دوا […]

The post ہومیوپیتھی کے علاج میں کیا کریں کیا نہیں۔۔۔۔ appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
homeopathy

جب ہومیوپیتھک علاج کی بات آتی ہے تو اس کے ساتھ بہت سی باتوں کا خیال رکھنا اور بہت سی باتوں سے بچنا ضروری ہوتا ہے۔نیچے دی گئی فہرست کو غور سے پڑھیں تاکہ طریقہ علاج سے پوری طرح فائدہ حاصل کرسکیں۔

دو اکھانے سے آدھا گھنٹہ پہلے کھاناکھالیں:

کسی بھی طرح کی ہومیوپیتھک دوا کھانے سے آدھا گھنٹہ پہلے تک کچھ نہ کھائیں ۔اگر آپ نے کھانا کھالیا ہے تو اس کے آدھا گھنٹے بعد تک کچھ نہ کھائیں۔اسکے علاوہ دوا کھانے کے آدھا گھنٹے بعد بھی کچھ نہ کھائیں۔یہ ضروری ہے کیونکہ معدے میں کھانے کی موجودگی دوا کے جذب ہونے میں مداخلت پیدا کرتی ہے اور اس کی افادیت کو کم کرتی ہے۔

دوا کو ہاتھ نہ لگائیں:

دوا کو ہاتھ لگانے سے گریز کریں۔ذیادہ تر دوائیں کاغذ یا ساشے میں ہوتی ہیں لہٰذاکوشش کریں کہ دوا کو براہ راست منہ میں ڈال لیںیا اس کے لئے صاف چمچہ استعمال کریں۔دوا کھانے کے لئے ہاتھوں کا استعمال گولی کو آلودہ کر دیتا ہے جس کی وجہ سے اس کی پاور میں کمی ہوجاتی ہے۔ اور دوا پورا اثر نہیں دکھاتی۔

اپنے ڈاکٹر کو مطلع کرتے رہیں:

ہومیوپیتھی کے ماہر ڈاکٹر کو بتا کر اپنی ایلوپیتھک دوائیں بھی جاری رکھیں ۔مثال کے طور پر اگر آپ دل،ہائی  اس کے لئے آپ کا ہومیوپیتھک معالج بہتر طریقے سے آپ کی رہنمائی کرے گا۔لہٰذااپنے معالج کو تفصیل سے اپنی بیماری اوردوا کے بارے میں آگاہ کریں۔ بلڈپریشریامرگی کے مریض ہیں توبہتر ہوگا کہ آپ اپنی دوائیں جاری رکھیں تاکہ آپ کی بیماری ذیادہ نہ بڑھ جائے۔

دوا کو دھوپ میں نہ رکھیں :

اپنی ہومیوپیتھک دوا کو براہ راست دھوپ،مقناطیسی شعاعوںاور کیمیکلزجیسے پینٹ یہاں تک کہ کافورسے بھی دوررکھیں۔ یہ تمام چیزیں براہ راست دواپر اثر ڈالتی ہیںاور اس کی افادیت کو کم کردیتی ہیں ۔ اس لئے بہتر ہوگا کہ انھیںٹھنڈی،خشک اور محفوظ جگہ پربچوں کی پہنچ سے دور رکھا جائے۔ذیادہ ترہومیوپیتھک دوائیں زہریلی نہیں ہوتیں لیکن پھر بھی انھیں چھوٹے بچوں کو نہیں کھلانی چاہیئں۔

طبیعت میں بحالی کے بارے میں ڈاکٹر کو آگاہ کریں:

ہومیوپیتھک علاج اس وقت تک کام نہیں کرتا جب تک اس کی دواکم از کم۳سے ۵ دن تک نہ لی جائے۔اپنے ہومیوپیتھک معالج سے رابطے میں رہیں اور طبیعت میںمنفی تبدیلی یا کوئی تبدیلی نہ ہونے پر ڈاکٹر کوضرور اطلاع کریں۔تاکہ جو دوا آپ لے رہے ہیں وہ اس کا نعم البدل دے یا دوا تبدیل کرسکے۔یہ بات ذہن میں رکھیئے کہ ہومیوپیتھک کی ہر دوا ہر مریض کو ایک جیسا فائدہ نہیں پہنچاتی۔جیسے اگر آپ کے کسی شوگر کے مریض ساتھی کو کسی دوا سے فائدہ ہوا ہے تو ضروری نہیں کہ وہی دوا آپ کو بھی ویسا ہی فائدہ پہنچائے گی۔اس وجہ سے آپ کو پہلے ڈاکٹر سے رابطے اور مرض کی تشخیص کی ضرورت ہوتی ہے۔

ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر دوا نہ لیں:

کوئی بھی دوا جس میں ہومیوپیتھک دوائیں بھی شامل ہیں کسی ماہر ڈاکٹر کے تجویز کردہ نسخے کے بغیر نہ لیں ۔کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ کون سی دوا آپ کے لئے کس طرح کام کرے گی۔یہ بات ذہن میں رکھئے کہ ابھی اس طریقہ علاج کے بارے میں ذیادہ تحقیق نہیں ہوئی ہے اس لئے گوگل پر بھی اس بارے میں آپ کو ذیادہ معلومات نہیں مل سکے گی۔اس لئے آپ کو ماہر تربیت یافتہ ہومیوپیتھک ڈاکٹر کی ضرورت ہوگی جو آپ کے لئے صحیح دوا اوراس کی خوراک کا تعین کرسکے۔لہٰذا کسی بھی قسم کا ہومیوپیتھک علاج کرنے سے پہلے اپنا طبی معائنہ ضرور کرائیں۔

انگریزی میں پڑھنے کے لئے کلک کریں 

The post ہومیوپیتھی کے علاج میں کیا کریں کیا نہیں۔۔۔۔ appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
ہومیوپیتھک ادویات کیسے کام کرتی ہیں https://htv.com.pk/ur/homeopathy/homeopathic-medicines Fri, 25 May 2018 10:07:32 +0000 https://htv.com.pk/ur/?p=28261

پچھلے وقتوں میں جب لوگ معمولی بیماریوں جیسے نزلہ کھانسی ، بخار،سردرداورگلے کی سوزش وغیرہ میں مبتلاہوتے تھے تو اینٹی بائیوٹک کے بجائے قدرتی اجزاء کااستعمال کیاکرتے تھے۔پہلے لوگوں کامدافعتی نظام مضبوط اورطاقتورہوتاتھاجس کے باعث وہ جلد صحت یاب ہوجاتے تھے۔قدرتی اجزاء کی طرح ہومیوپیتھک ادویات بھی چھوٹی موٹی بیماریوں کے لئے متبادل طریقہ علاج […]

The post ہومیوپیتھک ادویات کیسے کام کرتی ہیں appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>

پچھلے وقتوں میں جب لوگ معمولی بیماریوں جیسے نزلہ کھانسی ، بخار،سردرداورگلے کی سوزش وغیرہ میں مبتلاہوتے تھے تو اینٹی بائیوٹک کے بجائے قدرتی اجزاء کااستعمال کیاکرتے تھے۔پہلے لوگوں کامدافعتی نظام مضبوط اورطاقتورہوتاتھاجس کے باعث وہ جلد صحت یاب ہوجاتے تھے۔قدرتی اجزاء کی طرح ہومیوپیتھک ادویات بھی چھوٹی موٹی بیماریوں کے لئے متبادل طریقہ علاج ہے۔پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ہومیوپیتھک ادویات کیسے کام کرتی ہیں کیونکہ اس کی ایک ہی طرح کی ادویات ہرکوئی استعمال نہیں کرسکتاہے۔یہ اینٹی بائیوٹک کی طرح نہیں ہوتی کہ جس کسی کوبھی سردرد ہوتو وہ ایک ہی ٹیبلٹ لے لیتاہے۔اس میں مریض کی پوری ہسٹری جاننے کے بعد ہی دواتجویز کی جاتی ہے۔
یہ نسبتاً ایک سستاعلاج ہے جس سے دمہ ،ڈپریشن ،بے چینی،مختلف انفیکشن اورآنتوں کے امراض کے علاج میں مدد مل سکتی ہے۔علاج کے لئے اچھے ہومیوپیتھک ڈاکٹرسے مشورہ کریں تاکہ وہ آپ کی میڈیکل ہسٹری کے مطابق آپ کی صحت کی بحالی میں معاونت کرسکے۔

انفرادی علاج

ہومیوپیتھک علاج میں ہرفرد کی میڈیکل ہسٹری کے مطابق ہی اس کاعلاج کیاجاتاہے۔یہاں تک کہ دوافراد جوایک ہی جیسے مرض میں مبتلاہوں پھربھی ان کی میڈیکل ہسٹری جاننے کے بعد ہی دونوں کے ٹریٹمنٹ مختلف تجویز کئے جائیں گے۔ہرشخص کی طبی تاریخ اس علاج میں بڑی اہمیت کی حامل ہے۔مختلف اجزاء اپناردعمل رکھتے ہیں اسی لئے اس علاج میں مسائل کوٹھیک طرح سے جاننے کے بعدہی علاج تجویز کیاجاتاہے۔

مزید جانئے  : ایک اچھے ہومیو پیتھک ڈاکٹر کو کیسے تلاش کریں؟

ذہنی اورجذباتی رویے

ہومیوپیتھک علاج میں یہ خیال کیاجاتاہے کہ ذہنی اورجذباتی رویے کسی بھی شخصیت پرگہرااثرڈالتے ہیں۔ذہنی اورجذباتی رویوں کوہومیوپیتھک علاج میں بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔جسمانی علامات کے ساتھ ساتھ ہومیوپیتھک علاج میں ان باتوں کوبھی مدنظررکھاجاتاہے۔ہرشخص کاردعمل مختلف ہوتاہے اسی لئے اس علاج میں جسمانی کیفیات کے ساتھ ساتھ ذہنی اورجذباتی سطح کوبھی دیکھاجاتاہے تاکہ منفی ردعمل سے بچاجاسکے۔

قدرتی اجزاء کااستعمال

ہومیوپیتھک طریقہ علاج میں قدرتی اجزاء استعمال کئے جاتے ہیں کیونکہ ہومیوپیتھک کامقصد کسی بھی سائیڈ افیکٹ کے بغیرمحفوظ طریقے سے بیماریوں کا علاج کرناہے۔اسی لئے قدرتی اجزاء کے ملاپ پرتوجہ مرکوز کی جاتی ہے۔ان اجزاء میں تازہ اورخشک جڑی بوٹیاں،سرکہ ،لہسن ،کیفین،ایکٹیویٹڈ چارکول اورپوائزن آئی وی وائے وغیرہ شامل کیاجاتاہے ۔یہی وجہ ہے کہ علاج میں میڈیکل ہسٹری کومدنظررکھاجاتاہے تاکہ کسی بھی منفی اثرات کاسامنانہ کرناپڑے۔


ہومیوپیتھک علاج کیسے کام کرتاہے

الرجی اوردیگرضمنی اثرات کے بارے میں جان کرہی مریض کوہلکی اورکم خوراک دی جاتی ہے۔ کچھ لوگوں کاکہناہے کہ ہومیوپیتھک ادویات بہت سست کام کرتی ہیں جس کی وجہ سے اس کاکوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔حقیقت یہ ہے کہ اس ٹریٹمنٹ میں کوئی بھی انسان کی بنائی ہوئی ڈرگ شامل نہیں ہوتی یہی وجہ ہے کہ تحقیق سے یہ بات ثابت ہے کہ اس کے مثبت نتائج سامنے آتے ہیں بس تھوڑاوقت لگتاہے۔

مختلف انفیکشن کاعلاج

ہومیوپیتھک دمہ ،ڈپریشن اوردیگربہت سی الرجی کابخوبی علاج کرنے میں کارآمد ماناجاتاہے۔مطالعہ کے مطابق اسی فیصد مریضوںمیں ان ادویات کے استعمال کے بعدبیماری کی علامات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ہومیوپیتھک کی چھوٹی سی خوراک ان بیماریوں سے دفاع میں گہرااثررکھتی ہے۔اس طریقہ علا ج میں مختلف قسم کے انفیکشن کاعلاج بآسانی کیاجاسکتاہے۔

دردکنٹرول کرنے میں مدد کرتاہے

دائمی درد جیسے کندھوں اورکمرکادرد اس علاج سے ختم کیاجاسکتاہے۔اس علاج کے ذریعے میڈیکل ٹریٹمنٹ کے خطرے کوکم کیاجاسکتاہے جس سے آگے جاکرمنفی اثرات رونماہونے کاخطرہ لاحق رہتاہے۔اس علاج کابنیادی فائدہ یہ ہے کہ یہ جسم سے بیماری کومکمل طورپرختم کردیتاہے۔ساتھ ہی بیماری کے دوبارہ ہونے کے خطرات بھی بہت کم ہوتے ہیں۔

نتائج میں وقت لگتاہے

اس علاج کی صرف ایک خامی یہ ہے کہ مرض کی بہتری میں کافی وقت لگ جاتاہے جس کے باعث مریض مایوسی کاشکارہوجاتے ہیں۔قدرتی اجزاء کے استعمال کی بدولت بیماریوں سے لڑنے اورصحت کے فروغ میں وقت درکارہوتاہے۔اس دوران مریض کوکمزوری اورتھکاوٹ کاسامنابھی رہتاہے کیونکہ بیماریوں سے لڑنے کے لئے جسم کواضافی توانائی کی ضرورت رہتی ہے۔اس علاج میں دوا کی کم مقداردی جاتی ہے تاکہ جسم کااندرونی توازن خراب نہ ہواسی لئے علاج میں وقت لگتاہے۔

انگریزی میں پڑھئے

تحریر  : سحرش قاضی 

ترجمہ  :سعدیہ اویس 


The post ہومیوپیتھک ادویات کیسے کام کرتی ہیں appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
ایک اچھے ہومیو پیتھک ڈاکٹر کو کیسے تلاش کریں؟  https://htv.com.pk/ur/homeopathy/good-homeopathic-doctor Wed, 02 May 2018 13:00:07 +0000 https://htv.com.pk/ur/?p=27982 homeopathic doctor

موجودہ دور میں جہاں ہر چیز نے ترقی کی ہے وہیں ہومیو پیتھی طریقہ علاج نے بھی خوب ترقی کی ہے۔ جب کوئی معیاری چیز مارکیٹ میں آتی ہے تو اس کے معیار کی شہرت دور دور تک پھیلتی ہے اور اس کی شہرت سے فائدہ اٹھا کر کچھ موقع پرست عناصر غیر معیاری اشیاء […]

The post ایک اچھے ہومیو پیتھک ڈاکٹر کو کیسے تلاش کریں؟  appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
homeopathic doctor

موجودہ دور میں جہاں ہر چیز نے ترقی کی ہے وہیں ہومیو پیتھی طریقہ علاج نے بھی خوب ترقی کی ہے۔ جب کوئی معیاری چیز مارکیٹ میں آتی ہے تو اس کے معیار کی شہرت دور دور تک پھیلتی ہے اور اس کی شہرت سے فائدہ اٹھا کر کچھ موقع پرست عناصر غیر معیاری اشیاء ملتے جلتے ناموں سے مارکیٹ میں لے آتے ہیں۔ ہومیو پیتھی علاج کے ساتھ بھی کچھ اسی طرح کے حالات پیش آئے ۔

ویسے تو ہومیو پیتھی کا یہ بیج آج سے ڈھائی سو سال قبل جرمنی کے ڈاکڑ  فیڈرک  باہمین نے بویا تھا جس کی آبیاری اس کے ہونہار شاگردوں نے کی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کی شہرت پوری دنیا میں پھیلنے لگی  اور آج یہ ایک قد آور درخت بن چکا ہے۔دنیا کا وہ کون سا ملک ہے جو ہومیو پیتھی  کے  نام سے واقف نہیں۔

ik acha aur qabil homeopathic doctor kese talash kia jaye.

بین الاقوامی ادارہ صحت(WHO) جو کے یونائیڈڈ نیشن کا ذیلی ادارہ ہے۔ اس کے سروے کے مطابق ہومیو پیتھی کا علاج  پوری دنیا میں بیماریوں کے خلاف استعمال ہونے والی تھیراپی میں دوسرے نمبر پر ہے۔ پوری دنیا میں لاکھوں ہومیو پیتھک کالجز اور ہسپتال ہیں۔

لاکھوں کتب ہومیوپیتھی کے موضوع پر لکھی جا چکی ہیں۔ لوگوں میں شعور و آگاہی کا رجحان پہلے کے مقابلے میں بڑھا ہے پرنٹ میڈیا  اور سوشل میڈیا  بھی اس کی شہرت کا باعث بنے ہیں۔آج ملکوں ملکوں ، شہر شہر ، گلی گلی میں ہومیو پیتھک ڈاکٹر موجو د ہے۔سینکٹروں فارماسیو ٹیکل کمپنیز کام کررہی ہیں۔ ان ڈاکٹرز کے ہجوم میں اچھے ڈاکٹرز بھی ہیں اور محض اشتہاری ڈاکٹرز  بھی ہیں جو محض جعلی ڈگریاں حاصل کر کے اسے بزنس کے طور پر چلارہے ہیں ۔ نہ ان کے پاس قابلیت ہے اور نہ خلوص اور وہ فقط لوگوں کی جان و مال سے کھیل رہے ہیں۔

اس گھمبیر صورتحال میں آج کا مریض چاہتا ہے کہ وہ کسی اچھے ہومیو پیتھک ڈاکٹر سے علاج کرائے۔لیکن مسئلہ یہ ہے وہ ایک اچھا  اور قابل ہومیو پتھک ڈاکٹر کیسے تلاش کرے ۔ یہاں پر تو چمکتے دمکتے کلینک ، خوش پوش عملہ ، دیواروں پرچسپاں ڈگریوں کے انبار آپ کو نظر آئیں گے ۔ بھاری بھرکم فیسیں، متعدد برانڈ کی ادویات آپ کو دی جائیں گی۔ لیکن اتنا سب کچھ کر کے بھی  آپ شفاء یابی حاصل نہ کر پائے تو یہ بات آ پ کے لئے کافی مایوس کن ہوگی ۔

homeopathic doctor ki talash

اچھے ہومیو پیتھک ڈاکٹر کی تلاش کے لئے مشورے

اگر آپ  اصلی ڈاکٹر کی پہچان کرنا چاہتے ہیں تو کچھ ایسی نشانیاں ھم آپ کو بتاتے جس کو  ڈھوند کر آپ با آسانی اصلی ہومیوپیتھی ڈاکٹر کی پہچان کرسکتے ہیں اور پھر ان کے دی گئی ادویات کو استعمال کرکے شفاء پا سکتے ہیں، جانئے اصلی ہومیو پیتھک ڈاکٹر کی پہچان ۔

*  قابل ہومیو پپیتھک ڈاکٹر سادگی پسند اور بااصول ہوگا  ۔

* اس ڈاکٹر کی کلینک میں ظاہری چمک دمک نہیں ہوگی۔

*مریضوں سے پرخلوص ہوگا  ،مریض کی صحت اور جیب دونوں سے ہمدردی رکھے گا۔

*فیس اور ادویات کم اور معیاری ہوگی۔

*سنگل ریمیڈی اور کلاسیکل ہومیو پیتھی کا قائل ہوگا ۔

*مریض کا  اطمینان اور سکون سے معائنہ کرے گا۔

*مریض سے زیادہ سے زیادہ سوالات کرے گا تاکہ بیماری کی صحیح تشخیص ہوسکے۔

*اس ڈاکٹر کی شہرت کا راز اس کے اشتہارات نہیں بلکے وہ مریض ہونگے جو ان کے ہاتھوں شفاء پا چکے ہوں۔

 یہ وہ نشانیاں ہیں جس کی بدولت آپ سچے  اور ایماندار ہومیو پیتھک ڈاکٹر تک پہنچ سکتے ہیں ۔

The post ایک اچھے ہومیو پیتھک ڈاکٹر کو کیسے تلاش کریں؟  appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
ہو میو پیتھک ادویات لیتے وقت کی احتیاط اور پرہیز https://htv.com.pk/ur/homeopathy/homeopathic-medicince Mon, 16 Apr 2018 11:58:41 +0000 https://htv.com.pk/ur/?p=27648 Homeopathic medication

اگر آپ کسی بھی مرض میں مبتلا ہیں اور ہومیو پیتھک علاج کرارہے ہیں تو اس دوران آپ کو کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے اور کن چیزوں سے احتیاط ضروری ہے ؟ یہ بات جاننا بہت ضروری ہے کیونکہ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو عین ممکن ہےکہ آپ کی ذرا سے […]

The post ہو میو پیتھک ادویات لیتے وقت کی احتیاط اور پرہیز appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>
Homeopathic medication

اگر آپ کسی بھی مرض میں مبتلا ہیں اور ہومیو پیتھک علاج کرارہے ہیں تو اس دوران آپ کو کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے اور کن چیزوں سے احتیاط ضروری ہے ؟ یہ بات جاننا بہت ضروری ہے کیونکہ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو عین ممکن ہےکہ آپ کی ذرا سے لاپرواہی آپ کے معالج کی محنت اور آپ کی صحت پر پانی پھیر دے گی ، چوں کہ معاملہ آپ کی صحت کا ہے لہذا آپ کو علاج و احتیاط کے تمام تقاضے پورے کرنے ہوں گے۔
اس مختصر مضمون میں ہومیوپیتھی کی تفصیلات پیش کرنا ناگزیر ہے لیکن مختصراً یہ کہ ہومیو پیتھی کی تمام ادویات پوٹینسی یعنی دوا کی طاقت پر مبنی ہوتی ہیں۔ ان ادویات میں ایلو پیتھک ادویات کی طرح ادویاتی اجزاء ملی گرام کی طرح موجود نہیں ہوتے ۔صرف ادویاتی جز کو مختصر کرکر ڈائیلیوٹ کردیا جاتا ہے۔جس کی سبب وہ ادویاتی خصوصیات کی حامل ہوجاتی ہے ۔

Homeopathic medication

اسی وجہ سے ہومیو پیتھک دوا بیرونی عوامل سے جلد متاثر ہوتی ہے اور ان بیرونی عوامل کے سبب اپنے ادویاتی فوائد کھو بیٹھتی ہے لہذا ہومیو پیتھک ادویات کے دوران تیز خوشبو یا بدبو والی چیزیں استعمال نہ کریں ۔ مثلا : پرفیوم ، کچا لہسن ، پیاز، ادرک، لیموں اور کافی ۔ مذکورہ بالا چیزیں ہومیو پیتھک ادویات کے استعمال کے دوران استعمال نہ کریں ورنہ خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہونگے۔

مزید جانئے : مختلف جسمانی درد کا ہومیو پیتھک علاج

ٓاحتیاط :

1:ہومیوپیتھک ادویات ہمیشہ خالی پیٹ یا کھانے سے آدھا گھنٹے قبل یا کھانے کے ایک گھنٹے بعد استعمال کریں ۔ اس کے بہترین اوقات رات کو سونے سے قبل اور صبح ناشتے سے قبل ہیں ۔ ایک دوا کھانے کے فورا بعد دوسری کوئی دوا ہرگز استعمال نہ کریں ۔

2:دوقسم کی ہومیوپیتھک ادویات بھی ایک ساتھ استعمال کرنے سے گریز کریں۔ ہمیشہ ایک معالج کی ادویات استعمال کریں ۔ بیک وقت دو معالج کی ادویات استعمال نہ کریں، کیونکہ دونوں معالج ایک دوسرے کے منتخب کردہ نسخوں سے واقف نہیں لہذا دونوں کے نسخے میں کوئی ایسی دوا ہوسکتی ہے جو آپس میں مل کر نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ ادویات کو اسی ترتیب سے استعمال کریں جو معالج نے بتائی ہو۔

3 :بہت سے لوگ محض اشتہار دیکھ کر ازخود دوا کا استعمال شروع کردیتے ہیں جو کہ صحت کے لئے خطرناک ہوسکتا ہے لہذا اس طرح کی حرکت سے دور رہیں ۔ دوا صرف اپنے معالج کے مشورے سے ہی استعمال کریں۔

4:تمام ادویات بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں،کیونکہ ہومیو پیتھک ادویات شو گر آف ملک سے بنی گولیوں کی صورت میں ہوتی ہیں۔ جو کہ میٹھی اور خوش ذائقہ ہوتی ہیں تو عموما بچے کسی دوسرے کی ادویات خواہ مخواہ کھالیتے ہیں ۔ ایسا ہرگز نہ کیجئے کیونکہ ہومیوپیتھک ادویات کے اثرات دیر سے بھی ظاہر ہوتے ہیں اور بچے کے جسم یا دماغ میں ادویات شدید علامات کی صورت میں ظاہر ہوسکتے ہیں ۔

انگریزی میں  پڑھنے کے لئے کلک کریں 

The post ہو میو پیتھک ادویات لیتے وقت کی احتیاط اور پرہیز appeared first on ایچ ٹی وی اردو.

]]>