سر میں درد کے اسباب واقسام

6,243

’’سردر د سے پھٹاجا رہا ہے‘‘ آپ نے اکثر یہ جملہ سنا ہوگا۔ہر درد تکلیف دہ ہوتا ہے لیکن سب سے زیادہ شکایت سر میں درد ہی کی سننے میں آتی ہے۔ گویا یہ سب سے زیادہ عام درد ہے۔ہر انسان کو آئے دن سردرد سے واسطہ پڑتا ہے۔ بعض اوقات تو سر میں اتنی تکلیف ہوتی ہے کہ انسان زندہ ہوتے ہوئے بھی موت کا مزہ چکھ لیتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ درد ہمارے دماغ میں جنم نہیں لیتا۔۔۔کیونکہ وہ تکلیف محسوس کرنے والے(Receptor)ہی نہیں رکھتا۔ اصل میں یہ درد دماغ کی نسوں،خون کی نالیوں یا عضلات میں جنم لیتا ہے۔ ماضی کی نسبت آج کل سردرد پیدا کرنے والے عوامل زیادہ ہیں۔ مثلاً، کام کا دباؤ، ٹریفک جام، بڑھتے ہوئے اخراجات، بیوی سے بحث و مباحثہ وغیرہ۔ چنانچہ انسان جب بھی جسمانی یا نفسیاتی طورپر دباؤ میں آئے تو یہ سریا گردن کی نسوں، خون کی نالیو ں یا عضلات میں بھی کھنچاؤ پیدا کرکے درد کو جنم دیتا ہے

اکثریہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ سر میں درد کی شکایت مردوں کے مقابلے میں خواتین میں زیادہ عام ہوتی ہے۔لوگ سر میں درد کی مختلف وجوہات بیان کرتے ہیں۔ بعض وجوہ خیالی اور وہمی نوعیت کی ہوتی ہیں،مثلاً معالجین کے پاس ایسے افرادبھی آتے ہیں کہ جن کے بیان کے مطابق انھیں جب بھی کسی گناہ، یا اپنی غلطی کا احساس ستاتا ہے تو سر میں درد کی تکلیف ہونے لگتی ہے۔اسے وہ خدا کی طرف سے تبیہہ سمجھتے ہیں اور اگر درد شدید ہوجائے تو سزا قرار دیتے ہیں۔ بعض اس کا سبب مختلف عوامل کو قرار دیتے ہیں۔ مثلاً چڑیوں کی صبح سویر ے چہچہاہٹ ان کے لیے سر میں درد کا سبب بن جاتی ہے۔ گویا یہ شکایت ایسے افراد کے لیے ایسے بیرونی عوامل کا نتیجہ ہوتی ہے جو ان کے اختیار سے باہر ہوتے ہیں۔ چوں کہ وہ حقائق کا مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں رکھتے اس لیے ان کے درد کے اصلی سبب کا دور کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔

دردِ شقیقہ

اسے آدھے سر کا درد کہاجاتا ہے۔ یہ عام طورپر آنکھوں سے شروع ہوکر سر کے پچھلے حصّے تک جا پہنچتا ہے۔یہ درد بہت زیادہ حساس افراد کو تنگ کرتا ہے۔ جو لوگ پریشان کن حالات میں شدیدردعمل کا اظہار کرتے ہیں اس کی گرفت میں آجاتے ہیں۔یہ درد جوانی کے ابتدائی دنوں میں شروع ہوتا ہے۔ یہ درد موروثی بھی ہوتا ہے۔ خواتین میں اس کی شدت حمل کے دوران کم ہوجاتی ہے اور بالعموم سن یا س کے بعد ختم بھی ہوجاتی ہے۔

ذہنی و اعصابی کشیدگی

ایک اندازے کے مطابق سر میں درد کی65فی صد تکلیف کی وجہ ذہنی اور اعصابی کشیدگی ہوتی ہے۔یہ درد فکروتشویش پیدا کرنے والے ان مختلف حالات کا نتیجہ ہوتا ہے جو جذباتی کیفیات کی وجہ سے جسمانی ردعمل کا سبب بنتے ہیں۔ذہنی کشیدگی کی وجہ سے لاحق ہونے والے دردِسر کا سب سے اہم سبب فکر اور تشویش ہوتی ہے۔لیکن اس کے علاوہ دشمنی اورمخالفت جیسے احساسات و جذبات بھی اس کے ثانوی اسباب میں شامل رہتے ہیں۔

اعصابی دردِ سر

یہ شکایت ان لوگوں کو ہوتی ہے جو اپنی ذاتی اور اجتماعی یا سماجی ذمے دار ی سے فرا رچاہتے ہیں۔ یہ گویا یہ ان کا آخری ہتھیار ہوتا ہے۔ فکر اورتشویش میں مبتلا شخص کواس درد کے دوران پیٹھ،گردن اور کندھے کے پٹھوں میں کھنچاؤ محسوس ہوتا ہے۔ جب تمام تدابیر ناکام ہوجاتی ہیں تو اعصابی درد ان لوگوں کا سہار ابنتاہے۔ اعصابی دردِ سر در حقیقت اندرونی تناؤ اور کھنچاؤ کا نتیجہ ہوتا ہے۔

سمّی دردِ سر

یہ دردِ سر بھی اعصابی دردِ سر کی طرح ہوتا ہے۔ یہ دورِ جدید کی تقابلی زندگی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ مثلاً کسی کے پاس کوئی نئی چمکیلی کار اور سامان تعیّش دیکھ کر محرومی کا احساس بڑھتا ہے تو اس سے جسم میں پیدا ہونے والے مضر کیمیائی اجزا اعصاب، دماغ اور عضلات کو کشیدہ کردیتے ہیں۔اس کے علاوہ فضائی آلودگی اور بند کمروں میں تمباکو نوشی کے باعث اور گیسوں کی وجہ سے اس قسم کے دردِ سر کے مریض زیادہ پائے جاتے ہیں۔

دیگر قسم کے درد

ان کے علاوہ جسم کو لاحق ہونے والے مختلف قسم کے سر درد بھی تکلیف کا سبب بنتے ہیں۔ ان میں بڑھا ہوا بلڈ پریشر، اور زخم اور چوٹ کے بعد ہونے والے درد قابلِ ذکر ہیں۔ جبکہ سردرد کی شکایت دماغ کی کمزوری،نزلہ زکام کی دائمی شکایت،ہاضمے کی خرابی،قبض اور خواتین میں ایّام کی بے قاعدگی کے سبب بھی لاحق ہوتی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...