4 ایسے کینسر جن کا نشانہ صرف خواتین ہیں

4,431

چھاتی کا کینسر پاکستان میں تیزی سے بڑھتا جارہا ہے اور یہ کینسر بڑی تعداد میں پاکستانی خواتین کو نشانہ بنا کر انھیں موت کے منہ میں دھکیل رہا ہے ۔ ایک عام تاثر یہ ہے کہ اس کینسر کا نشانہ صرف خواتین بنتی ہیں لیکن اس میں کوئی صداقت نہیں مردوں کی بڑی تعداد بھی اس سے متاثر ہے۔
دنیا بھر میں اس مہلک کینسر سے آگاہی کے لیے بڑی تعداد میں مہم جاری و ساری ہے ۔ مختلف طریقوں اور مارکیٹنگ کے ذریعہ خواتین کو اس معاملے کی حساسیت سے متعلق شعور پیدا کیا جارہاہے۔ اور اس بات پرزور دیا جارہا ہے کہ وہ باقاعدگی سے اپنا اسکرین ٹیسٹ کروائیں ۔ دوسری جانب، کینسر کی دوسری اور بھی اقسام ہے جن کے کیسز کی تعداد چھاتی کے کینسرسےکم ہے لیکن وہ بھی خواتین کے لئے انتہائی مہلک اور جان لیوا ہے ۔
کچھ ایسے کینسر ہیں جو کہ خواتین کے تولیدی نظام کو نشانہ بناتے ہیں جس کے لئے ضروری ہے کہ عورتوں کی تولیدی نظام کی ساخت کو مکمل طور پر سمجھا جائے ۔


رحم ( بچہ دانی ) : یہ ناشپاتی کے شکل کا ڈھانچہ ہوتا ہے جس میں دوران حمل بچہ پروان چڑھتا ہے

سروکس : بچہ دانی کا نچلا حصہ

بیضہ دانی : بیضہ دانی رحم کے دونوں جانب ہوتی ہے جس کا کام انڈوں کو رحم میں منتقل کرنا ہوتا ہے

فرج : اس کا ڈھانچہ ٹیوب کی طرح کا ہوتا ہے جو کہ جڑا ہوتا ہے رحم سے

نہانی : خواتین کے جینیاتی اعضاء کا بیرونی حصہ

رحم کے نچلے حصے کا کینسر

کونسی خواتین خطرہ میں :وہ خواتین جن کی عمر 30سال سے زائد ہے اور وہ تین یا اس سے زائد بچوں کو جنم دے چکی ہیں ۔ دوسرے خطرات میں تمباکو نوشی اور مانع حمل ادویات کا استعمال شامل ہے۔
خطرناک اشارے : اندام نہانی سے خون کا اخراج مباشرت کے بعد خون کا اخراج
تشخیص کا طریقہ : رحم کے کینسر کی تشخیص بائیو آوپسی یا پیپ اسمیئرز کے ذریعہ ہوگی جس میں رحم کے سیلز کو مائئکرو اسکوپک طریقے سے جانا جائے گا ۔

انڈوميٹريل کينسر

کونسی خواتین خطرہ میں :یہ کینسر 50سال سے بڑی عمر کے لئے خطرہ بن سکتا ہے اور انھیں نشانہ بنا سکتا ہے خاص طور پر وہ خواتین جن کا حیض کا سلسلہ بند ہوچکا ہے ۔ ساتھ ساتھ یہ کینسر ان خواتین کو بھی نشانہ بناتا ہے جن میں حیض کا سلسہ کم ہو، موٹاپے کا شکار ہو ، اسٹڑوجن تھیراپی کراچکی ہو ۔
خطرناک اشارے : اندام نہانی سے خون کا بہاؤ تکلیف اور پریشر کے ساتھ
تشخیص کا طریقہ : انڈوميٹريل کينسر کی تشخیص بائیو آوپسی یا پیپ اسمیئرز کے ذریعہ ہوگی جس میں انڈوميٹريل سیلز کی مائیکرو اسکوپک طریقے سے جانچ کی جائے گی ۔

بیضہ دانی کا کینسر 

کونسی خواتین خطرہ میں : 40سال سے بڑی خواتین اس کینسر کا شکار ہوسکتی ہیں یا پھر وہ جنھوں نے کبھی بچے کو جنم نہیں دیا ہے ۔ اس کینسر کا شکار جینیا تی مسئلے کا شکار خواتین بھی ہوسکتی ہے خصوصا و خواتین جن کے خاندان کا کوئی شخص چھاتی کا کینسر یا دوسرے کسی کینسر کا شکار ہوا ہو ۔
خطرناک اشارے :غیر معمولی طور ہر اندام نہانی سے خون کا بہاؤ اور خواتین کو بیضہ دانی پھولی پھولی محسوس ہونا۔
تشخیص کا طریقہ : بیضہ دانی کے کینسر کی ریڈیو لوجیکل تصویر کے ذریعہ اس کینسر کی تشخیص کی جائے گی یا پھر ٹرانس ویجینل الٹراساونڈ اور Ca-125 کینسر بلڈ ٹیسٹنگ کے ذریعہ ۔

 

ویجینل / ولور کینسر

 

 کونسی خواتین خطرہ میں : ہر عمر کی خواتین اس کینسر کا شکار ہے خاص طور پر HPVانفیکشن کا شکار خواتین اور وہ خواتین کو سگریٹ نوشی کرتی ہیں ۔
خطرناک اشارے : ویجینا سے غیر معمولی طور پر خون کا آنا یا ولور ( فرج ) کی اسکن میں تبدیلی

تشخیص کا طریقہ : ٹشوز بائیو آپسی کے ذریعہ اس کینسر کی تشخیص ہوتی ہے جو ہسپاتولوجیکل طریقے سے انجا م سی جاتی ہے۔

احتیاطی تدابیر :

خواتین کو ہونے والے کینسر کی ایک بڑی وجہ احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کرنا ہے اس میں موٹاپا اور سگریٹ نوشی شامل ہیں ۔HPV ویکسین کا استعمال رحم ( بچہ دانی ) ، ویجینل اور ولور کینسر کے خطرات کو کم کرتا ہے اور ساتھ ساتھ یہ نوجوان خواتین کے لئے بھی بہت کارآمد ہے ۔ خواتین کو چاہیے کہ کہ کوئی بھی خطرہ کی علامات اپنے اندر محسوس کریں تو ماہر امراض نسواںسے فوری رجوع کریں اور اپنا پیلویک اگزامینشن ضرور کرائے چاہے کوئی علامت موجود نہ بھی ہو۔

امریکن کالج برائے امراض نسواں کے مطابق ، 21سال سے بڑی خواتین کے لئے سال میں ایک بار پیلویک اگزامینشن ضروری ہے ۔ میڈیکل ٹیکنالوجی میں ترقی کی وجہ سے نسوانی کینسر کے کیسز کی جلد تشخیص ہوجاتی ہے اور گزشتہ سالوں سے زیادہ بہتر صورتحال ہوچکی ہے ۔ پھر بھی ، کینسر ایک ایسی خطرناک بیماری ہے جو کہ مریض کو طویل عرصے تک جکڑے رکھتی ہے اور مریض کےجسمانی ، دماغی اور سماجی زندگی کو شدید نقصان پہنچاتی ہے ۔
ان موذی کینسر سے لڑنے کے لئے سب سے پہلے ھمیں صحیح اور تصدیق شدہ علم کے ساتھ اپنے آپ کو تیار کرنا ہے تاکہ بیماری کو کنٹرول میں رکھ کر اپنے جسم اور صحت کو قابو کرسکے ۔

اس آرٹیکل کو انگریزی میں پڑھنے کے لئے کلک کریں 

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...