ورزش، دوا سے زیادہ ضروری

3,857

انسانی جسم کی صحت کے لیے ورزش کی اہمیت ہر دور میں تسلیم کی گئی ہے اور کوئی اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ ورزش ہر عمر میں یکساں مفید ہے۔ جسم کی مثال ایک مشین کے مانند ہے اگر کسی مشین کو استعمال میں نہ لایا جائے تو زنگ آلود ہو جاتی ہے اور زنگ آلود مشین کی کارکردگی سے ہم سب واقف ہیں کہ کتنی جلد وہ جواب دے جائے گی۔ اس طرح اگر جسم انسانی کو مناسب حرکت نہ دی جائے تو نہ صرف مٹاپا آجائے گا بلکہ مشین کے اعضا خراب ہو کر صلاحیت عمل میں فرق آ جائے گا۔ورزش کم ہو یا زیادہ ہر صورت میں مفید ہے۔ بلکہ ایک بہترین ٹانک ہے جس سے جسم چاق چوبند رہتا ہے اور قوت و چستی کا احساس ہوتا ہے۔

ہمارے ہاں ہاتھ پاؤں کو حرکت دینے کا نام ورزش دیا جاتا ہے یہ ایک نامکمل تشریح ہے۔ جب ہم جسم کو اس طرح حرکت دیں کہ جس سے پورا جسم حرکت میں رہے اور یہ عمل روزانہ کچھ وقت کے لیے باقاعدگی سے کیا جائے تو اسے ورزش کا نام دیا جا سکتا ہے۔کبھی کبھار ورزش کرنا بجائے فائدے کے نقصان دہ ہو سکتا ہے اس لیے اگر آپ ورزش کے فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں تو یہ باقاعدگی سے کی جائے ،تاہم ہر عمر اور جسم کے لحاظ سے اس کا تقاضا ضرورت الگ الگ ہے۔

تیس سال سے قبل عمر میں زور دار اور تھکا دینے والی ورزش مناسب ہے۔ دورانِ ورزش خون کی رفتار میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ جسم کے ہر حصے میں خون کی فراہمی بڑھ جاتی ہے، سانس کی رفتار بڑھتی اور سانس گہرے ہو جاتے ہیں اور یہ سانس خون کی نالیاں جو بند ہو چکی ہوں چلانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ورزش سے چربی پگھلتی اور مٹاپا ختم ہوتا ہے۔ سانس سے مراد آکسیجن ہے، آکسیجن خون کے ساتھ مل کر ہمارے جسم کے تمام اعضا میں، اعضا کی تمام بافتوں میں اور بافتوں کے تمام خلیات میں پہنچ کر انھیں زندہ اور متحرک رکھتا ہے۔

ہماری سانس کے ساتھ جو آکسیجن جسم کے اندر جاتی ہے اس کی مدد سے ہمارے پھیپھڑے ( جگر ) خون صاف اور طاقتور بناتے ہیں۔ نیلے رنگ کی رگیں استعمال شدہ خون کو واپس لوٹاتی ہیں اور سرخ رنگ کی شریانیں خون کی سرخ ذرات کو ایک ایک خلیے تک پہنچاتی ہیں۔جسم کے جن خلیات کو سرخ رنگ کا خون نہیں ملتا مثلاً ہارٹ اٹیک میں تو دل کے وہ خلیات مردہ ہو جاتے ہیں اور دوبارہ زندہ نہیں ہوتے۔ ورزش سے آکسیجن اور خون کا بہاؤ تیز ہو کر خون صاف ہو کر ایک ایک خلیے تک پہنچ جاتا ہے۔ صرف پھیپھڑوں اور خون ہی نہیں بلکہ جسم کا ہر عضو معدہ جگر مثانہ گردے اور دماغ سب کی کارکردگی بہتر ہو جاتی ہے۔ ورزش سے دماغی اعصاب کو طاقت ملتی ہے اور جسمانی صحت بہتر ہو جاتی ہے۔ جسمانی عضلات اور جوڑ بہتر کام کرتے ہیں۔جو لوگ ورزش نہیں کرتے عموماً وہ قبض، بدہضمی اور گیس کے امراض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ سنگین مرض نہیں مگر سخت بے چینی پیدا کر کے زندگی کا سکون غارت کر دیتے ہیں یہ گھٹن ہے جو خاموش قاتل کا کردار ادا کرتا ہے اس کے علاوہ خون کی رگوں کو تنگ کرنا، کولیسٹرول کا بڑھ جانا، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور مٹاپا وغیرہ ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا ہر روز صبح نماز فجر کے بعد ورزش کے لیے وقت دینا بہتر صحت کی ضمانت ہے۔

اگر ہم ورزش سے کوتاہی کریں تو زندگی بے مزہ ہو جائے گی اور جب جسم صحت مند و توانا نہ ہو گا تو زندگی کی تمام لذتیں بے معنی ہوں گی لہٰذا صحت کی نعمت خداوندی سے فائدہ اٹھانے کے لیے ورزش ضروری ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ روز قیامت صحت کے متعلق سوال ہو گا۔ ظاہر ہے جس جسم کو آرام پہنچانے کے لیے ہم جدوجہد کرتے ہیں، جس دماغ کی صلاحیتیں کو بیدار کرنے کے لیے ہم دوڑ رہے ہیں وہ جسم لاغر اور غیر صحت مند ہو تو دولت کس کام کی ہو گی۔

یہ بات بھی مشاہدہ میں ہے کہ جو بچے دوڑتے اور بھاگتے ہیں وہ صحت مند ہوتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ بچوں میں شروع ہی سے ورزش کا رجحان پیدا کیا جائے۔ ہمیشہ صحت مند و توانا، اقوام ہی ترقی کی منازل طے کرتی ہیں۔ ورزش کی اہمیت و افادیت اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسکولوں کالجوں میں لازمی ورزش کا اہتمام کیا جائے۔کسی دانا نے خوب کہا ہے : اے تن درست! مستقبل تیرے لیے ہے… ورزش کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ ہیو ی ویٹ لفٹنگ ہی کی جائے بلکہ عمر کے لحاظ سے مناسب چہل قدمی اور اس دوران وقفے وقفے کرنے سے بھی مطلوبہ مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اگر آپ کی عمر پچاس سال سے تجاوز کر چکی ہے تو صبح نماز فجر کے بعد لمبی سیر بھی ورزش کے زمرے میں شمار ہو گی۔


شاید آپ یہ بھی پسند کریں
تبصرے
Loading...