حیض کی کمی یا زیادتی کے مسائل اور وجوہات

5,907
loading...

حیض یا ماہواری کے مسائل کسی بھی عورت کے لئے بڑے پریشان کن ہوتے ہیں۔ مخصوص ایام میں یہ خون رک جانا یا بے قاعدگی کے ساتھ آنا مرض میں شامل ہوتا ہے جس کا اگرمناسب علاج نہ کیاجائے تو شدید امراض کی شکایت ہوسکتی ہے۔

حیض بعض خواتین کو۲۸ اوربعض کو۲۲ دن کے وقفے سے آتاہے جوعموماً تین سے چار،پانچ یاسات دن آکرخود بخود بند ہوجاتا ہے۔ لیکن یہ ماہانہ سائیکل اگرمتاثرہوجائے تو حیض کی کمی یا زیادتی اوردیگرمسائل پیدا ہوجاتے ہیں جس کاعلاج کرواناضروری ہے ورنہ آگے جاکرصحت کے سنگین مسائل سامنے آتے ہیں ۔

حیض کی کمی

حیض کا خون درحقیقت ایک فضلہ ہے جس کابدن میں رک جانا شدید امراض اورتکالیف کاباعث ہوتاہے۔حیض کانہ ہونا حیض کی قلت کہلاتا ہے۔

اس کی کئی وجوہات ہوتی ہیں۔ تولیدی اعضاء کی بیماریاں،تولیدی اوردیگراندرونی اعضاء کا ارتقاء نہ ہونا،جسم کے مختلف ہارمونز کا توازن میں نہ رہنا، رحم کی سوزش یا ایام حیض میں سردی لگنے سے،خون کی کمی،ذہنی صدمہ ،جسمانی کمزوری،گردہ اورجگر کے بعض امراض،موٹاپا اور ناقص غذاؤں کے بکثرت استعمال سے یہ شکایت پیدا ہوسکتی ہے۔

حیض کی کمی میں یاتو ماہواری آتی ہی نہیں یاپھر کبھی کبھی آکربند ہوجاتی ہے۔حیض تھوڑاتھوڑارک رک کردرد کے ساتھ آنا،کمراورپیروں میں شدید درد ہونا،دوران حیض بے چینی اورہوش وحواس درست نہ رہناحیض کی کمی کے عام مسائل میں شامل ہیں۔

اکثرسن بلوغت کے وقت حیض بے قاعدہ آیاکرتاہے مثلاً دویاتین ماہ کے بعدحیض آتاہے تو کبھی کبھار وقت کے ساتھ یہ مسئلہ دورہوجاتاہے۔بہت سی لڑکیوں میں شادی کے بعد یہ بے قاعدگی خود بخود ختم ہوجاتی ہے۔اس کے اسباب مختلف ہوتے ہیں اسی لئے علاج بھی مختلف ہوتاہے۔

حیض کی کمی کی قدرتی وجوہات مینوپاز،بچوں کودودھ پلانا وغیرہ ہے۔ علاج کے وقت سب سے پہلے وجوہات کاجاننا ضروری ہے۔یہ مسئلہ اگر سیلان الرحم یا دیگرامراض کی وجہ سے ہوتو اس کاباقاعدہ علاج ضرورکروائیں۔اگرحیض کی کمی کامسئلہ ہوتوکدو،توری ،پالک ،بکرے کاگوشت،مونگ کی دال ،مکھن ،دودھ وغیرہ ضروراستعمال کریں۔

گھریلوعلاج

۱۔مولی کے بیج،گاجرکے بیج اورمیتھی دانہ ہم وزن لے کرپیس کرچھان کررکھ لیں جب حیض کی قلت ہوتو دوچمچ نیم گرم پانی سے پھانک لیں۔

۲۔تلسی کے بیج ایک چمچ لے کرایک گلاس پانی میں ابال لیں۔جب آدھاگلاس پانی رہ جائے تو چھان کرپی لیں۔

حیض کی زیادتی

حیض کاخون زیادہ اوربے قاعدگی کے ساتھ آناحیض کی زیادتی کہلاتاہے۔اس مسئلہ پرفوری توجہ دیناچاہئے کیونکہ اگراس کاباقاعدہ علاج نہ کروایا جائے تو جسمانی کمزوری اورخون کی کمی جیسے مسائل سراٹھانے لگتے ہیں۔

کبھی کبھی گرم اورتیز چیزوں کے زیادہ استعمال سے صفراوی رطوبات زیادہ ہوکر خون کورقیق کردیتی ہیں اورمحافظ رگوں میں خشکی پیداہوجاتی ہے۔جسکی وجہ سے حفاظت ٹھیک طرح سے نہیں ہوپاتی اورحیض کے مسائل پیداہونے لگتے ہیں۔

اس سے بدن کمزوراورنبض تیزی سے چلتی ہے۔پیاس کی شدت ہوجاتی ہے اورچہرہ کی رنگت زرد ہوجاتی ہے۔ایسی صورت میںگرم اشیاء جیسے گوشت،سرخ مرچ ،گرم مصالحہ وغیرہ کے زیادہ استعمال ،دھوپ میں زیاد ہ رہنے اورگرم دودھ اورگرم چائے سے پرہیزکریں۔کدو،پالک،ٹنڈے ،تورئی،مونگ کی دال،کچھڑی،ناشپاتی ،انگور وغیرہ کھائیں۔

گھریلوعلاج

اگرحیض کے دوران بہت زیادہ بلیڈنگ کئی دنوں تک جاری رہے تو ان ٹوٹکوکااستعمال کیاجاسکتاہے۔

۱۔انار کے خشک چھلکے پیس کرچھان کررکھ لیں۔اس کاایک چمچ سادہ پانی سے پھانک لیں تو بلیڈنگ رک جاتی ہے۔

۲۔خشک دھنیا پسا ہوا، دیسی گھی اورچینی ہم وزن لے کر ملا کر رکھ لیں۔ دوچمچ تین بارکھانے سے بھی فائدہ ہوتا ہے۔مزید جانئے: ہارمونز میں عدم توازن کی وجوہات ، علامات اور احتیاط

تبصرے
Loading...