بد ہضمی اور گیس معمولی مرض نہیں !

12,910

بد ہضمی

بد ہضمی یا کھانا ہضم نہ ہونے پر نظام انہضام کے اعضاء میں درد ہوتا ہے ،پیٹ میں گیس بھرتی ہے ،جس سے بھاری پن ،بے چینی ،دل متلانا اور قے وغیرہ ہوتی ہے ۔بعض اوقات بد ہضمی میں دست شروع ہو جاتے ہیں جنھیں سنگرہنی یا اسہال بھی کہا جاتا ہے ۔
کبھی کچھ لوگوں کو کھانا کھانے کے بعد کھٹی ڈکاریں آتی ہیں نمک کھانا چھوڑنے اور نمک بہت کم مقدار میں لینے سے بد ہضمی ٹھیک ہو جاتی ہے ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ ہضم ہونے کے لئے ضروری معدے کے رس میں ہائڈروکلورک ایسڈ جو کھٹا ہوتا ہے اس کا حصہ بہت زیادہ ہو جاتا ہے یہ ایسڈ نمک سے بنتا ہے نمک نہ کھانے سے یہ بڑھی ہوئی کھٹائی کم ہو جاتی ہے اور پیٹ کی ساری شکایتیں کم ہو جاتی ہیں ۔

گیس

پیٹ میں ہوا بھرنے کو اپھارہ ،پیٹ میں گیس بننا ،ہوا جمع ہونا کہتے ہیں ۔پیٹ میں اپھارہ ایک ایسی حالت ہے جس میں پیٹ میں ہوا جمع ہوتی ہے ۔پیٹ میں ہوا جمع ہونے سے پیٹ پھول جاتا ہے کبھی دل میں پھڑ پھڑاہٹ ہونے لگتی ہے اور کبھی پیٹ سخت ہو جاتا ہے
ہمارے معاشرے میں بد ہضمی اور گیس کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔ لیکن یہ معمولی سمجھی جانے والی بیماری آگے جا کر معدے کے السر کی وجہ بن سکتی ہے ۔ایک اندازے کے مطابق ۶۰ سے ۸۰ فیصد افراد جو بد ہضمی کا شکار ہوتے ہیں اُ ن میں معدے کا السر بننے کے امکانات قوی ہو جاتے ہیں اور بد قسمتی سے زیادہ تر افراد بد ہضمی کی صورت میں کوئی علاج اور ڈاکٹر سے رجوع کرنا پسند نہیں کرتے ۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق صرف امریکا ہی میں ہر سال پانچ لاکھ افراد اس مرض کا شکار ہوتے ہیں اور چالیس لاکھ افراد زندگی میں ایک بار السر سے ضرور متاثر ہوتے ہیں

بد ہضمی سے بڑھنے والی پیچیدگیاں

طبی ماہرین کے مطابق اگر بد ہضمی اور گیس جیسے مرض پر توجہ نہ دی جائے تو السر اور السر سے پیدا ہونے والی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں
۱۔ٹھنڈے پسینہ آنا
۲۔خون کا دباؤ کم ہونا
۳۔ نبض مدہم ہو جانا
۴۔ معدے کی دیوار پھٹ جانا
۵۔ پیٹ میں شدید درد
۶۔ نقاہت
نیزمریض پیٹ پر ہاتھ نہیں لگانے دیتا اگر فوری طبی امداد نہ ملے تو معمولی سی تاخیر موت کا پروانہ بن جاتی ہے۔

علاج اور احتیاط

بہت سی غذائیں جن کے پرہیز سے گیس ،بد ہضمی اور السر سے بچا جا سکتا ہے
تمباکو نوشی اور رفع درد ادویات کا کثرت سے استعمال گیس اور بد ہضمی کا باعث بنتا ہے
آلو ،بینگن ،ماش کی دال ،بڑے کا گوشت ،(بھنا اور تلا ہوا ) ،لال مرچ کا استعمال کثرت سے نہیں کرنا چاہئے
ارہر کی دال گیس پیدا کرتی ہے ،گیس کے مریض اسے نہ کھائیں
شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں دیر رات تک کھانا کھانے سے بچنے کے لئے اپنے مقرر وقت پر کھانا کھا لینا چاہئے تاکہ ۱۲ بجے کے بعد کم کھانا کھایا جائے اور رات کو سبز چائے پی لینا چاہئے

سانس

کھانا کھانے کے بعد سیدھے لیٹ جائیں اور سیدھے لیٹ کر آٹھ لمبے سانس لیں ،پھر داہنی کروٹ لے کر سو لہ لمبے سانس لیں اور آخر میں بائیں طرف لیٹ کر بتیس لمبے سانس لیں ۔اس عمل سے کھایا ہوا کھانا صیح جگہ پہنچ جائے گا ،گیس منہ سے ڈکار کی صورت میں یا مقعد سے ہوا کے اخراج کی صورت میں اسی وقت نکل جائے گی ۔

امرود

بد ہضمی اور اپھارہ میں امرود بہترین دوا ہے ۔اس مرض والوں کو ایک امرود کھانا کھانے کے بعد کھانا چاہئے اور تندرست لوگوں کو کھانا کھانے سے پہلے امرود کھانا چاہئے

دہی کا رائتہ

دہی میں بھنا زیرہ ۔پودینہ کالا نمک ڈال کر کھانے سے بد ہضمی دور ہوتی ہے ۔یا اگر گھی ،تیل یا چکنی چیزوں کی وجہ سے بد ہضمی ہو جائے تو چھاچھ پینا بہت مفید رہتا ہے

پانی

کھانا ہضم نہ ہو اور گیس بنتی رہے تو زیادہ سے زیادہ پانی پینا چاہئے یا ایسا بھی کیا جا سکتا ہے کہایک دن صرف پانی پیتے رہیں اور کچھ نہ کھائیں اور اگر قبض ہو تو کھانے کے ساتھ ایک ایک گھونٹ پانی پیتے رہیں

قہوہ

پیٹ کے امراض میں ،گیس اور بد ہضمی میں ادرک ،پودینہ بڑا ہی مفید ثابت ہوتا ہے روز رات کو کھانا کھانے کے بعد ادرک ،دار چینی ،پودینہ اور سونف کا قہوہ بنا کر پیا جائے تو یہ قہوہ نظام ہضم کو درست کرتا ہے اور پیٹ میں گیس اور اپھارہ نہیں بننے دیتا

سرسوں کا تیل

ناف کا اپنی جگہ سے ٹل جانے سے بھی پیٹ میں گیس ،درد اور بھوک نہ لگنے کی شکایت ہوتی ہے اس کو دور کرنے کے لئے نا ف پر سر سوں کا تیل لگانے سے فائدہ ہو تا ہے

لیموں

روز انہ نہار منہ لیموں پانی پینے سے پیٹ کا بھاری پن دور ہوتا ہے اور گیس آسانی سے خارج ہوتی ہے ۔
ایک چمچ سونف پر آدھا لیموں نچوڑ کر کھانے سے پیٹ کا اپھارہ ختم ہوتا ہے ،بھوک کھل کر لگتی ہے اور فضلہ صاف ہوتا ہے۔

یہ وہ سادے اور گھریلو طریقے ہیں جن کے ذریعے ہم بد ہضمی سے بچ سکتے ہیں لیکن اگر کوئی فرد مستقل بد ہضمی اور گیس کا شکار رہے تو اسے گھریلو علاج کو فوری ترک کر کے معالج سے رجوع کرنا چاہئے ۔بعض دفعہ ہم بدہضمی کو بہت معمولی بیماری سمجھتے ہیں لیکن یہ بیما ری اندر ہی اندر نیا گُل کھلا دیتی ہے مستقل بد ہضمی کسی بڑی پریشانی کے آنے کی گھنٹی بھی ہو سکتی ہے ۔لہذا محتاط رہیں ۔

loading...
تبصرے
Loading...