جگر کی سختی کے اسبا ب اور علامات

2,124

جگر کی سختی یا جگر کے سکڑ جانے کو میڈیکل اصطلاح میں سیروسس آف لیور کہتے ہیں۔یہ مرض بہت آہستہ آہستہ پیدا ہوتاہے لیکن جب تک اسکی تشخیص ہوتی ہے تو یہ مرض آخری اسٹیج پر پہنچ چکا ہوتاہے۔سیروسس آف لیور کی وجہ سے ہونے والی پیچیدگیوں میں علاج کے بعد مریض کو آرام پہنچایا جاتاہے۔

اسباب

۱۔جگر میں نکلنے والی صفرا کی نالی میں اگر کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوجائے تو صفرا جگر میں جمع ہوتا رہتاہے۔اگر یہ کیفیت لمبے عرصے کے لئے ہوجائے تو جگرمیں سختی پیدا ہوجاتی ہے۔
۲۔بعض اوقات ہیپاٹائیٹس بی اورسی کے وائرس کے انفیکشن کی وجہ سے جگرمیں سختی پیدا ہوسکتی ہے۔یہ ضروری نہیں کہ انفیکشن کی صور ت میں سختی اسی وقت پیدا ہو جائے بلکہ یہ اکثر مہینوں اور سالوں کے بعد ہی پیدا ہوتی ہے۔
۳۔ڈاکٹروں کی تحقیق کے مطابق یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ کچھ خاص قسم کی اینٹی باڈیزخون میں موجود ہوتی ہیں جنکی وجہ سے جگرمیں سختی پیدا ہوسکتی ہے۔
۴۔الکحل لیور ٹاکسن ہے۔ اسکے زہریلے اثرات سب سے زیادہ جگر پر ہی اثر انداز ہوتے ہیں۔
۵۔کئی ادویات ایسی بھی ہیں جنکے مسلسل استعمال سے لیور سیروسس ہوسکتاہے۔
۶۔مسلسل مرغن غذاؤں کے استعمال سے فیٹی لیور ہوسکتاہے۔جسکی وجہ سے جگر میں چکنائیوں کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ جو جگر میں سوزش کا باعث بن سکتی ہے۔ جگرکی مسلسل سوزش کے باعث لیو ر کی سختی ہوسکتی ہے۔
۷۔دل کی کچھ ایسی پرانی بیماریاں جو کافی سالوں سے لاحق ہوں جگر کی سختی کا باعث بن سکتی ہیں۔
۸۔ولسن ڈیزیز میں دماغ اور جگر میں کاپر زیادہ جمع ہوجاتاہے جو جگرکی سختی کا باعث بن سکتاہے۔
۹۔ایک بیماری ایسی ہوتی ہے جسمیں جگرمیں آئرن جمع ہوناشروع ہوجاتاہے۔اسکو ہیموکرومیٹوسس کہتے ہیں۔ یہ بیماری بھی جگر کی سختی کا باعث بن سکتی ہے۔

علامات

جگر کی سختی میں دو طرح کی علامات پائی جاتی ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں:

عمومی علامات

۱۔وزن بہت کم ہوجاتاہے اور مریض سست اور لاغر ہوجاتاہے۔
۲۔اکثر بخار رہتاہے۔ جگر کے مقام پر درد ہوتارہتاہے۔
۳۔بھوک بالکل نہیں لگتی اور مریض تھوڑا سا کام کرنے سے تھک جاتاہے۔
۴۔پہلے جگر سائز میں بڑا ہوتاہے اور پھر آہستہ آہستہ سکڑ جاتاہے۔
۵۔مریض کی تلی بھی بڑھ جاتی ہے۔

خصوصی علامات

۱۔مریض کا ہاضمہ بہت زیادہ خرا ب رہتاہے۔اکثر قبض اور کبھی کبھی بہت زیادہ گیس ہوجاتی ہے۔
۲۔پیٹ میں پانی جمع ہونا،جگرکی وریدوں میں بلند فشار خون ہونا۔
۳۔غذائی نالی کی وریدوں کا موٹا ہوجانا اور خون کی قے ہونا۔
۴۔پیٹ میں پانی بھرنے کی وجہ سے پیٹ پر نیلی نیلی وریدیں ابھر آتی ہیں۔
۵۔جلد خشک اور جسم کا رنگ زردی مائل ہوجاتاہے۔مریض کے پاؤں سوج جاتے ہیں۔اکثر جلد پر خارش رہتی ہے۔
۶۔مردوں میں مردانہ صلاحیتوں کی کمی اور خواتین میں ماہواری کی بندش ہوسکتی ہے۔
۷۔اکثر مریضوں میں خونی بواسیر اور یرقان کی علامات بھی پائی جاتی ہیں۔

احتیاطی تدابیر

جگر کی سختی کے مریضوں کو مندرجہ ذیل ہدایات پر عمل کرناچاہئے۔
۱۔مکمل آرام اور نمک کااستعمال کم کرنا چاہئے۔
۲۔مرچ مصالحے،مرغن غذائیں اور گوشت کا استعمال تو بالکل ترک کردیناچاہئے۔
۳۔تمام نشہ آور اشیاء سے مکمل پرہیز کرناچاہئے۔
۴۔کھانے میں سبزیاں ،دوسری غذائیں،تازہ پھل اور انکا جوس استعمال کرناچاہئے۔
۵۔کھلے اور ہوادار کمرے میں ٹینشن اور ڈپریشن سے بالکل دور رہیں۔
۶۔انڈہ اور مچھلی کے استعمال سے پر ہیز کریں۔
۷۔اگر کبھی خون چڑھانے کی ضرورت پڑے تو ہمیشہ محفوظ اسکرین شدہ معیاری خون لگوائیں۔
۸۔ایسی ادویات جن سے جگر پر برے اثرات مرتب ہوں ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر لینے سے پرہیز کریں۔
۹۔ہمیشہ صاف اورجراثیم سے پاک پانی کا استعمال کرناچاہئے۔
۱۰۔ہمیشہ اپنے ڈاکٹر سے رابطہ میں رہیں،اور ڈاکٹر کی دی گئی ہدایات پر عمل کریں۔

تبصرے
Loading...