باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی)

39

بی ایم آئی کی تعریف:
وزن کم کرنے کے لیے ایک موثر ڈائٹ پلان بنانے کے ساتھ ساتھ عمر اور قد کے مطابق بی ایم آئی (BMI) یعنیباڈی ماس انڈیکس Body Mass Index) (معلوم کر نا بھی ضروری ہے جس کافارمولا کچھ یوں ہے کہ پہلے کلوگرام میں اپنا وزن اورفٹ اور انچ میں قد معلوم کرنا ہوتا ہے،پھروزن کو قدسے تقسیم کر دیتے ہیں۔بی ایم آئی سے آپ کو یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ آ پ کے قد کے حساب سے آپ کا وزن کم ہے؟، سہی ہے؟، زیادہ ہے؟ یا بہت زیادہ ہے؟

بی ایم آئی ٹیسٹ کی خصوصیات:
*بی ایم آئی وزن معلوم کرنے کا ایک آسان اور سستا طریقہ ہے ۔
*اس ٹیسٹ کو کرنے کے لیے کوئی ٹریننگ لینے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔
*اس کے نتائج کو سمجھنا بھی آسان ہوتا ہے ۔ ایک پہلے سے تیار شدہ چارٹ سے اپنے نتیجے کا موازنہ کرکے ہی آپ کو معلوم ہوجاتا ہے کہ آپ کا وزن کم ہے یا زیادہ ۔
*بی ایم آئی معلوم کرنے کے لیے کوئی خاص مشین یا آلہ کی بھی ضرورت نہیں ہوتی ۔ صرف قد معلوم کرنے کے لیے انچ ٹیپ اور وزن معلوم کرنے کے لیے ویٹ مشین درکار ہوتی ہے ۔
*یہ ڈاکٹرز سے تصدیق شدہ ہے۔ دنیا بھر کے ڈاکٹرز کئی برسوں سے موٹاپے کا پتا لگانے کے لیے اس ٹیبل کا استعمال کر رہے ہیں ۔

بی ایم آئی کی حدود:
*جسم کے وزن میں کئی چیزیں شامل ہوتی ہیں جیسے کے پٹھوں کا وزن، چربی کا وزن، پانی کا وزن ، ہڈیوں کا وزن وغیرہ لیکن بی ایم آئی ٹیبل ان چیزوں میں تفریق نہیں کرتا ۔
*بعض افراد کا وزن زیادہ ہوتا ہے لیکن و ہ وزن ہڈیوں اور پٹھوں کا ہوتا ہے جب کہ ان کے جسم میں فیٹ یا چربی کا وزن کم ہوتا ہے۔ ایسے لوگ صحت مند تصور کیے جاتے ہیں البتہ بی ایم آئی ٹیبل میں وہ موٹے افراد کی فہرست میں ہی آئیں گے ۔
*حاملہ یا زیادہ چھوٹے قد کے افراد کے لیے یہ ٹیبل کارآمد نہیں ہوتا ۔
*جسم کے کس حصے کا وزن کتنا ہے اس بارے میں جاننا بھی ضروری ہے ۔ مثال کے طور پر ایسا مانا جاتا ہے کہ ران اور ہپ سے زیادہ پیٹ پر چربی ہونا نقصان دہ ہے۔ تحقیق کے مطابق خواتین جن کی کمر 35انچ اور مرد جن کی کمر 40سے زیادہ ہو ان کے لیے امراض قلب، ہائی بلڈ پریشر اور دل کے دورے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آج کے ماہرین وزن اور قد کے ساتھ ساتھ مریض کی کمر ناپنے پر بھی زور دیتے ہیں ۔

غرض یہ کہ بی ایم آئی وزن معلوم کرنے کا ایک آسان اور سادہ طریقہ ہے البتہ اس کی کچھ حدود ہیں ۔ اسی لیے وزن کا سہی اندازہ لگانے کے لیے بی ایم آئی کے ساتھ ساتھ دیگر ٹیسٹ بھی کرانے ضروری ہیں جن سے وزن کے متعلق مزید تفصیلی معلومات حاصل کی جاسکے ۔

loading...
تبصرے
Loading...