وزن کم نہ ہونے کی 7وجوہات

4,527

موٹاپا ایک عالمی مرض کی نوعیت اختیار کر گیا ہے ۔ یہ ان چند امراض میں سے ایک ہے جس کے لئے ادویات کی عالمی منڈی میں بولی لگتی ہے کہ کون سی دوا رقم دے گی اور کس سے زیادہ سرما یہ ہو گا ۔ موٹاپا صرف دیکھنے والوں کو برا نہیں لگتا بے شمار مشکلوں اور امراض میں مبتلا کر دیتا ہے۔طب نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ موٹے لوگوں میں قوت مدافعت کم ہوتی ہے ۔ان کی عمر بھی کم ہو جاتی ہے۔

وزن کم نہ ہونے کی وجوہات

وزن کم کرنیکی کوششوں میں بہت سے غلط مفروضوں کی وجہ سے بہت سی غلطیاں ہو جا تی ہیں جو کہ صحت کے لیے نقصان دہ اور وزن کم کرنے میں ناکامیابی کا باعث بنتی ہیں ۔
وز ن کم نہ ہونے کی بے شمار وجوہات اور اسباب ہیں جن میں ،بیٹھ کریا مکمل توجہ کے ساتھ کھانا نہ کھانا ،ضرورت سے زیادہ کھانا کھانا ،نیند پوری نہ لینا ،میٹھی اور تلی ہوئی اشیاء کا حد سے زیادہ استعمال،دیر رات تک کھانا،سبز چائے کی جگہ کافی اور کولڈ ڈرنک کا استعمال اورکھانے سے پہلے پانی پینے کے بجائے کھانے کے بعد بہت سارا پانی پیینا وغیرہ۔
وزن کم نہ ہونے کی وجوہات مندرجہ ذیل ہیں:

۱۔بھوکا رہنا

انگریزی کی ایک مشہور اصطلاح ہے، ’ وہیٹ مینجمنٹ‘جس کا مطلب موزوں ورزش ،مناسب مقدار میں صحت بخش غذا جیسے پھل،سبزیاں اور کم چکنائی والے دودھ سے بنی اشیاء اور مناسب نیند لے کر اپنا وزن اعتدال میں رکھنا ہے۔اس سے مراد قطعی طور پر بھوکا رہنا نہیں ہے۔بہت دیر تک بھوکا رہنے سے جسم کا فولاد اور کیلشیم کم ہونے لگتا ہے۔ جرنل آف دا ڈائیٹک ایسوسی ایشن کی ایک تحقیق کے مطابق اکثر نو عمر لڑ کیاں بھوکی رہ کر ،ایک وقت کا کھانا نہ کھا کر یا بھوک ختم کرنے کے لئے سگریٹ نوشی کر کے یا و زن کم کرنے والی مختلف دوائیں کھا کر اپنا وزن کم کرنے کی کوشش کرتی ہیں جو کہ نہ صرف غلط بلکہ نقصان دہ طریقہ ہے۔

۲۔ محض ورزش پر انحصار کرنا

وزن کم کرنے کا ایک آسان فارمولا ہے:
وقت پر غذائیت سے بھرپورمعتدل خوراک 228 جسم کی حرکت یعنی ورزش 236 وزن میں کمیجہاں حرکت میں برکت ہے یعنی جہاں ورزش ہمارے جسم کو توانا اور چاق و چوبند رکھتی ہے وہیں ماہرین کی رائے یہ بھی ہے کہ بے جا ورزش کر کے وزن کم ہونے کی امید رکھی جائے تو یہ ایک غلط رویہ ہے۔جس طرح کسی انجن کے لئے ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح ہمارے جسم کو بھی صحت بخش غذاؤں کی ضرورت ہوتی ہے۔چناچہ بھوکا رہ کر ورزش کرنے سے یا بہت سارا کھانا کھا کر سخت ورزش کرنے سے وزن کم نہیں کیا جا سکتا ۔

۳۔ڈائٹ فوڈپر اندھا اعتما د

پوری دنیا میں یہ تاثر پایا جا تا ہے کہ وہ غذائیں جن پر ڈائٹ فوڈیا فیٹ فری فوڈکا لیبل لگا ہو وہ وزن کم کرنے والی غذائیں ہیں ۔جب کہ تحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ نہ تمام ڈائٹ فوڈ وزن کم کرتے ہیں اور نہ تمام چکنائی والی غذائیں ہمارے لئے نقسان دہ ہوتی ہیں۔معدنیات ،پروٹین ،کاربو ہایڈریٹس کے ساتھ ساتھ ہمارے جسم کو فیٹس کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔بس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ کون سے فیٹس ہما رے لئے موزوں ہیں اور کون سے نہیں ۔جیسے زیتون کا تیل یا میووں سے نکلا ہوا تیل نہ صرف ہمارے لئے صحت بخش ہے بلکہ چکنائیاں وزن کم کرنے میں بھی مددگار ہوتی ہیں .۔

۴۔ڈائٹ ڈرنکس کا استعمال

ٹیکسس ہیلتھ سینٹرمیں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق وہ لوگ جوڈائٹ ڈرنکس کو اس لئے استعمال کرتے ہیں کہ وہ وزن نہیں بڑھاتیں ان کے جسم پر چربی چڑھنے کے امکانات دیگر سے۰۷ فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔اس تحقیق کا مقصد عو ام کے سامنے یہ بات عیاں کرنی تھی کہ ڈائٹ ڈرنکس میں استعمال ہونے والی مصنوعی مٹھاس بھوک بڑھاتی ہے جس سے وزن کم ہونے کے بجائے اور بڑھنے لگتا ہے۔

۵۔غیر مستقل مزاجی

وزن جتنی تیزی سے بڑھتا ہے اتنی تیزی سے کم نہیں ہوتا ۔اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر ایک کا وزن ایک رفتار سے کم نہیں ہوتا اس لئے وزن کم کرنے کے لئے آپ کو مثبت سوچ کے ساتھ خود اعتمادی اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے۔اپنی پسند کی چاکلیٹ ،خمیر والی اشیاء جیسے بن،پیزا،بسکٹس،ڈبل روٹی،ڈونٹس،دلیہ،انڈہ،دودھ،مچھلی،میووں میں تبدیل کرنا ہوگا ۔اس کے ساتھ آپ کو اپنے جسم کے میٹا بولیزم ریشو یعنی قوت عملیہکو بھی سمجھنا ہو گا ۔

۶۔ذہنی تناؤ

وزن کم کرنے کے خواہش مند افراد زیادہ تر فوری وزن کم کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں اور نتیجہ نہ ملنے کی صورت میں بے جا پریشان ہو جاتے ہیں ان کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اگر وہ مناسب غذا کے ساتھ مناسب ورزش کر رہے ہیں تو وہ اپنے جسم کے ساتھ انصاف کر رہے ہیں ۔ تحقیق یہ بات ثابت کر چکی ہے کہ جن لوگوں کا وزن تیزی سے گھٹتا ہے ان کا وزن تیزی سے بڑھنے کے امکا نات بھی زیادہ ہوتے ہیں ،نیز بہت زیادہ تناؤ،فکر مندی،ذہنی دباؤ ،مختلف جسمانی بیماریاں اور روزانہ کا سخت معمول بھی وزن بڑھاتا ہے۔

۷۔غذائی معلومات کی کمی

ہمارا جسم اندرونی اور بیرونی طور پر ایک خاص منظم نظام کے تحت کام کر رہا ہے۔ جس کی ضرورت اگر وقت پر پوری کی جائے تو وہ اپنی صحیح شکل میں رہتا ہے۔
کھانے سے متعلق چند اہم باتیں ذہن میں رکھنا ضروری ہیں:
*تیل یا چکنائی جب کاربو ہائیڈریڑس کے ساتھ ملا کر پکائی جائے تو ایسی غذائیں مضر صحت بھی ہو سکتی ہیں ۔جیسے ،آلو کے چپس،پکوڑے ،پیزا،برگر وغیرہ
*یہ سوچ کر پروٹین کو کھانے میں شامل نہ کرنا کہ اس سے وزن بڑھتا ہے ایک غلط سوچ ہے کیوں کہ پروٹین نہ ملنے کی صورت میں جگر کے افعال متاثر ہوتے ہیں ۔اس لئے گوشت اور دالوں کو مناسب مقدار میں اپنی غذا میں شامل کرنا ضروری ہے۔
*ہر میٹھی چیز صحت کے لئے مضر نہیں ہوتی ۔قدرتی مٹھاس جو کہ شہد ،پھلوں اور سبزیوں میں پائی جاتی ہے جسم کے لئے ضروری ہے۔ لیکن دودھ کے ساتھ چینی ملانے سے وزن بڑھتا ہے۔جیسے شیکس، آئس کریم اور اسموتھیز وغیرہ۔

loading...
تبصرے
Loading...